42

جنگ بدر|Battle of Badar

Battle of Badar
جنگ بدر

تعارف :
جنگ بد ر اسلام کی پہلی فیصلہ کن لڑائی تھی ۔ یہ جنگ2ہجری بمطابق 17 رمضان المبارک بروز جمعہ بدر کے مقام پرمسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان لڑی گئی۔ یہ جنگ13مارچ 624کو وقوع پذیر ہوئی۔ بدر کا مقام مدنیہ سے 65 میل دور ہے۔ تعداد کے لحاظ سے دنیا کی فیصلہ کن جنگوں میں غالباً یہ سب سے چھوٹی جنگ تھی مگر اس کے نتائج دنیا کی عظیم ترین فیصلہ کن جنگوں سے زیادہ موثر اور دیرپا تھے۔ اس جنگ کی فتح کے بعد اسلام پھیلتا ہی گیا اور چند ہی سالوں میں مسلمانوں نے قیصرو کسریٰ کی عظیم سلطنتوں کو پے در پے شکستیں دے کر دنیا کی تاریخ کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا۔
اسباب:
جنگ بدر سے پہلے کفاّر مکہ اور مسلمانوں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہو ا کرتی تھیں اور کفار مکہ مسلمانوں کونقصان پہنچانے کے در پے رہتے تھے ۔ اسی لئے مسلمانوں نے اپنے د فاع میں ہتھیار اٹھائے ۔ ان دستوں کی نفری چند افراد پر مشتمل ہوتی تھی مگر کفّار ہمیشہ لڑاکا دستے بھیجتے تھے۔جمادی الثانی 2ھ میں کفّار کے ایک دستے نے مدینہ کی ایک چراگاہ پر اچانک حملہ کیا اور مسلمانوں کے بہت سے اونٹ وغیرہ پکڑ کر لے گئے ۔وہ اپنے اس حملے کو بڑے فخر سے بیان کر تے تھے اور اس جرات نے ان کے حو صلے اور بلند کر دئیے تھے۔ اس اچانک حملے کے جواب میں حضرت عبداللہ بن جحشؓ کی مختصر جماعت نے کفّار کا ایک قافلہ لوٹ لیا اور جھڑپ میں قریش کے قافلے کا سردار عمر تمیمی مارا گیا۔ اس سے کفّار کا جوشِ انتقام بھڑک اٹھا۔ اس میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضور نے اس گشتی پارٹی کے مقصد کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا اور اس دستے کے کمانڈر کو حضور ﷺنے ایک بند لفافہ دیا اور فرمایا کہ دو دن کی مسافت کے بعد اسے کھولا جائے ۔جب یہ لفافہ کھولا گیا تو اس میں تحریر تھا کہ مقام نخلہ پر گھات لگا ئی جائے اور چھپاؤ دشمن کومعلوم نہ ہو۔ مشرکین مکہ نے خفیہ طور پر مدینہ کے یہودی قبائل سے راہ و رسم پیدا کرکے ان کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیاتھا۔ انہوں نے انصار کے چند سرداروں کو بھی دھمکیاں دی تھیں کہ رسول خدا اور ان کے ہمراہ آئے ہوئے مسلمانوں مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیں او ر انہیں پناہ دینے والوں سے بھی بدلہ لیا جائے۔بعض انصار نے بھی رسول اکرمﷺ کے صبر و تحمل اور محض دفاعی تد بیرات پر عدم اطمنان کا اظہار کیا تو کچھ لوگ اسے مسلمانوں کی کمزوری سمجھنے لگے۔ ادھر مشرکین مکہ نے مہاجرین و انصار میں پھوٹ ڈالنے کے لئے حرکات بھی تیزکر دیں۔ ان حالات کے تحت مدینہ میں مسلمانوں کے مستقبل کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ لہذا حضور ﷺ نے دشمن کی دیکھ بھال کی مہم تیز کر دی اور مشرکین مکہ سے بدلا لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے علاوہ یہودِ مدینہ اور گردو نواح کے قبائل کو مسلمانوں کی قوّت سے مرعوب کرنا بھی ضروری تھا۔ انہی دنوں اطلاع ملی کہ مشرکین مکہ کا ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ جانےوالا تھا۔ مسلمانو ں نے رسولؐ کا بدلہ لینے کی غرض سے اس قافلے پر اچانک حملہ کر نے کا منصوبہ بنایا مگر کسی طریقے سے یہ اطلاع ابو سفیان کو پہنچ گئی کہ مسلمان اس قافلے پر اچانک چھاپہ مارنا چاہتے ہیں۔ لہذا ابو سفیان نے اس قافلے کی حفاظت کے لئے جو ابھی بدر سے چند میل دور تھا ایک حفاظتی دستہ روانہ کر دیا اور اپنا روا یتی راستہ چھوڑ کر بحری راستہ اختیار کیا۔ ابو سفیان کا پیغام ملتے ہی مشرکین مکہ کی ایک بھاری جمعیت، بہترین اسلحہ کے ساتھ مسلمانوں کو مٹانے کی خاطر بدر کی جانب روانہ ہو گئی۔ادھر رسول اکرمؐ نے چند دیکھ بھال اور گشتی دستے بدر کے گرد و نواح میں مشرکین کے لڑاکا دستوں اور قافلہ کے بارے میں خبر حاصل کرنے کے لئے مدینہ سے روانہ کئے۔ رسول اکرمؐ خود باقی جمعیت کے ہمراہ مدینہ سے صفرا (جو مدینہ سے چالیس میل دور اور بدر سے پچیس میل دور ہے) کی جانب روانہ ہوئے۔

واقعات:
حضور ﷺ کو جب کفار مکہ کی طرف سے حملے کی اطلا ع ملی تو صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے یہ مشورہ دیا کہ مدینہ سے باہر جا کر کفار مکہ کا مقابلہ کیا جائے ۔ چنانچہ مقام بد ر کو منتخب کیا گیا ۔مدینہ اور بدر کے درمیانی راستے میں کہیں کہیں نخلستان تھے۔ لہذا یہ راستہ سر سبز تھا اور میٹھا پانی اکثر مقامات پر مل سکتا تھا۔ بدر کے گرد و نواح میں بھی جنوب مغرب کی جانب چند نخلستان تھے۔ پانی کے کنوئیں اور چشمے بھی بدر ہی کے مقام پر تھے۔ جہاں سے علاقے کے لوگ پانی لیتے اور گزرتے ہوئے قافلے پڑاؤ کر تے تھے۔ رسول اکر مﷺ مقام صفرا پہنچے تو دیکھ بھال کے دستے کی اطلاع کے مطابق دو یا تین روز میں قافلہ بدر سے گزرنے والا تھا۔ آپؐ نے فوراً بدر کی جانب روانگی کا حکم دیا اور تجویزکے مطابق ہراول دستہ نے بدر کے کنوؤں اور چشموں پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران اس دستے نے مشرکین مکہ کی پانی بھرنے والی یک جماعت کو پکڑ لیا۔ رسول خدا ﷺکو پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ بدر کے مقام سے چند میل جنوب مغرب میں عقبہ بن ربیع اور ابو جہل کی قیادت میں مشرکین کا لشکر خیمہ زن ہے۔ ان کی تعداد چیدہ چیدہ ایک ہزار زرہ پوش سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ان کے پاس ایک سو گھوڑے کا رسالہ تھا اور ہر ایک کے پاس سواری کے لئے اونٹ تھا۔ سامان جنگ کی کمی نہ تھی ۔مشرکین مکہ مسلمانوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کی خاطر آئے۔ لشکر میں شیبہ ، ولید بن عتبہ، حرث بن عامر، عامر حعفری، سعید بن العاص، عکرمہ بن ابو جہل، اُمیہ بن خلف، عباس، عقیل اور ابوالجنتری جیسے نامور بہادر شامل تھے۔ حضورؐ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو تمہارے سامنے ڈال دیا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت مقدادؓ نے عرض کی یا ر سول اللہ آپ وہی کریں جسکا آپ کو خدا نے حکم دیا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ قسم اللہ کی ہم ایسا نہیں کریں گے کہ جیسا بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا، جا تو اور تیرا خدا دونوں لڑو، ہم یہیں بیٹھتے ہیں۔ قسم اللہ کی اگر آپ ہمیں شہر حبشہ میں بھی لے جائیں تو ہم ہم آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں بھی لے جائیں گے تو ہم اس میں بے خطر کود جائیں گے۔
12رمضان المبارک کو آپؐ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ شہر سے ایک میل باہر جاکر حضور ﷺ نے کم عمر مجاہدین کو واپس کر دیا گو وہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے بضد تھے۔ حضرت عمیر بن ابی وقاصؓ بھی کمسن تھے۔ جب انہیں واپس کیا گیا تو وہ رو پڑے۔جس پر حضورﷺنے اجازت دے دی۔ عمیرؓ کے برادر کلاں حضرت سعد بن اب وقاصؓ نے اس کمسن مجاہدکے گلے میں تلوار ڈالدی۔ مسعودؓ اور معاذؓ بھی نو عمر مجاہد تھے جنہوں نے ابو جہل کو جہنم واصل کیا ۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔دو گھوڑے اور ستر اونٹ
تھے۔ آنحضرتؐ، حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ کے درمیان ایک اونٹ تھا۔ اس طرح حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے پاس بھی ایک ہی اونٹ تھا۔ کسی کے پاس تلوار تھی توکسی کے پاس نیزہ یا کمان۔ سامان حرب و رسد کی قلت تھی۔ایک اور روایت مطابق مسلمانوں کے حوصلے بلند تھے۔ وہ دن کے وقت روزے رکھتے تھے اور رات کے وقت عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ تنظیم، اتحاد اور یقین محکم کے اصولوں پر سختی سے پابند تھے۔ تعداد اور سامان حرب کی تین گناہ کمی کے باوجود رسول خدا نے مشرکین مکہ سے فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ کر لیا۔ اسلامی لشکر میں حضرت حمزہؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکرؓحضرت عبیدہؓ، حضرت سعد بن معاذؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت مقدادؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبیدہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓوغیرہ نامور اصحاب شامل تھے۔ ددونوں لشکروں میں عزیز ترین رشتہ دار شامل تھے۔ بھائی بھی تھے، بیٹے بھی تھے۔ ماموں بھی تھے مگر طرفین رشتہ داروں کو بالائے طاق رکھ کر ایک فیصلہ کن جنگ کے لئے جمع ہوئے۔ یہ حق اور باطل کی ٹکر تھی۔بدر کا میدان تقریباً پانچ میل لمبا اور چار میل چوڑا تھا۔ زمین کہیں سخت اور کہیں نرم تھی۔ میدان شمال اور مشرق کی طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہو تھا۔ جنوب کی جانب بھی پہاڑوں کی ایک لمبی شاخ حائل تھی۔ مغرب کی جا نب سا حل کے نزدیک رتیلے ٹیلے تھے۔دشمن کا پڑاؤ جنوب مغرب کی جانب نخلستان اوررتیلے علاقے میں تھا۔ اسلامی لشکر کے ہراول دستے نے پتھریلی زمینوں پر چشموں اور کنوؤں کے ارد گرد پہلے ہی سے مورچے سنبھال لئے تھے۔ اس جانب پیش قدمی کرنے کے لئے مشرکین کو رتیلے ٹیلوں اور نرم زمین پر میلوں گزرنا پڑتا تھا۔ سوار اور پیادہ کے لئے یہ علاقہ نقل و حرکت کے لئے از حد تکلیف دہ ہو سکتا تھا۔ اور اسی طرح کنوؤں تک پہنچنے سے قبل ہی مشرکین کسی حد تک تھکاوٹ کی وجہ سے سست پڑ سکتے تھے۔ چشموں کی عقب کی جانب اونچی زمین کی گہرائی میں ہیڈ کوارٹر کے لئے نہایت موزوں جگہ تھی جہاں سے تمام علاقہ میں طرفین کی نقل و حرکت بخوبی دیکھی جا سکتی تھی۔ مسلمان تعداد میں کم تھے مگر ان کے حوصلے بلند تھے۔ مناسب جگہ پر دفاعی پوزیشن اختیار کرکے ہی مسلمان بھاری جمعیت پر فو قیت حاصل کر سکتے تھے۔ ان تمام حالات کا جائزہ لیکر رسول اکرمؐ نے اسی مقام پر دفاعی پویشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کو بارش کی وجہ سے جگہ جگہ دلدل بن گئی تھی۔17رمضان المبارک بروز جمعہ صبح کے وقت حضورﷺنے اپنی مختصر سی جمعیت کو تر تیب دیا۔ انہوں نے لشکر کے کئی حصے کئے۔ تیر اندازدستے بازؤں کو عقب میں اونچی جگہ بٹھا دئیے۔ سامنے کی جانب تلوار برداراور نیزہ بردار متعین کئے۔ گہرائی میں بھی ایک حفاظتی دستہ مقرر کیا۔ بازوؤں والے دستوں کو ضرورت پڑنے پر جوابی حملہ کے لئے تیا رہنے کا حکم دیا۔ ہیڈ کوارٹر میں چندتیز رفتار اونٹ جنگ کے درمیان احکام دینے کے لئے تیار رکھے۔ رسول اکرمؐ نے ہر صف کا خودمعائنہ فر مایا۔ سختی سے تاکید کی کہ جب تک دشمن زد میں نہ آجائے ،مسلمان ہر گز نہ تیر بر سائیں۔
چونکہ تیروں کی کمی تھی اس لئے تیر اندازوں کے قریب پتھر کے ڈھیر لگا دیئے گئے تاکہ بڑھتے ہوئے دشمن پر پتھر بھی بر سائے جا سکیں۔ صبح ہی صبح کفار نے مغرب کی طرف سے مسلمانوں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ بارش سے ریت نرم ہونے کی وجہ سے ان کے گھوڑے، اونٹ اور پیادہ جگہ جگہ دھنسنے لگے۔ ان کی ترتیب درہم برہم ہو نے لگی۔ سامنے سے سورج کی چمک ان کی آنکھوں میں پڑ رہی تھی۔ دور مسلمان لوہے کی دیوار بنے نظر آرہے تھے۔ جوں توں دشمن کا لشکر مسلمانوں کے مقابلے میں پہنچا۔ رسول خدا نے سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔” اے اللہ! اگر تو مسلمانوں کی یہ چھوٹی جماعت ختم کر دے گا تو دنیا میں کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں رہے گا۔ اے اللہ! اپنا وعدہ پورافرما”۔چنانچہ دونوں طرف سے دوبدو مقابلہ شرو ع ہوا۔
سپہ سالار اور کمانڈر:
مسلمان: مسلمان لشکرکے سپہ سالار اعظم حضورﷺ خود تھے جبکہ میدان جنگ میں حضرت امیر حمزہؓ امیر لشکر تھے۔ حضرت علیؓ ،حضرت ابو عبیدہؓ اورحضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اہم سپہ سالار تھے۔
کفار: کفار کے لشکر کی قیادت ابوجہل کررہا تھا جب کہ اس کا بیٹا عکرمہ، شیبہ ، عتبہ اور ولید اس جنگ کے اہم سپہ سالار تھے جو لڑائی میں قتل ہوئے۔
دشمن سے آمنا سامنا اور شکست:
اس دن حق و باطل کے درمیان جنگ تھی۔ مسلمانوں کی اس مٹھی بھر فوج کو کسی دوست کی مدد کی امید نہ تھی اور نہ ہی بر وقت کمک اور اسلحہ کی آمد کی توقع تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب اور اس کی جماعت کو زبردست آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ کیا کفاّر سے کم تعداد اور نیم مسلح مسلمان اللہ تعالیٰ کے نام کی سر بلندی کے لئے لڑ سکیں گے؟ کیا وہ اللہ اور رسول کی خاطر جانیں قربان کر دیں گے۔ اللہ اگر چاہتا توبغیر لڑائی، بغیر تکالیف برداشت کئے کفّار کے ظلم و ستم کا شکار بنے اسلام کی اشاعت کے خلاف تمام رکاوٹیں دور کر دیتا۔ کفّار کے دلوں میں خوف و ہراس پھیلا دیتا لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی قوت ایمان، یقین محکم، اتحاد اور تنظیم کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ اللہ تعا لیٰ صرف ان کی مدد کرتا ہے جو جان و مال کی پرواہ کئے بغیر اپنی مدد خود کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ اور حضرت عبیدہؓ نے کفار کے بہادروں کا مقابلہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہؓ زخمی ہو کر شہید ہوئے۔ مگر حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ نے کفار کے تینوں نامور بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ جھنجلا کر دشمن نے یک دم بے تر تیبی سے یلغار کر دی۔ مسلمان حکم کے مطابق جمے رہے اور کسی نے تیر نہ چلایا ادھر دشمن زبردست تیر برسا رہے تھے۔ جونہی دشمن زد میں آئے مسلمانوں نے چن چن کر اور نشانہ باندھ کر پتھر بر سائے۔ نیزہ برداروں نے نیزوں سے وار کیا اور تلوار چلانے والوں نے اپنا کمال دکھا یا۔دشمن مسلمانوں کی اس مجموعی یلغار سے گھبراگئے۔ ان کے بڑھنے کی رفتا سست پڑ گئی۔بے شمار ذخمی ہوئے۔ بڑے بڑے سورما گرنے لگے۔جب رسول کریمؐ پردشمن کی کمزوری عیاں ہو گئی تو تجویز کے مطابق حضرت علیؓ،حضرت حمزہؓ اور ابو دجانہؓ کے دستوں کو جوابی حملے کا حکم دیااور ساتھ ہی مٹھی بھر کنکریاں دشمن کی جانب پھینکیں۔ اس وقت اچانک مشرق سے مغرب کی جانب آندھی چلنے لگے۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کی اس جوابی کارروائی کی تاب نہ لا سکے اور درہم برہم ہونے لگے اور آخر ستّر لاشیں، سامان، گھوڑے، اونٹ اور ستّر قیدی چھوڑ کر مکہ کی جانب بھاگ اٹھے۔ مسلمانوں کےصرف چودہ صحابہ کرامؓ شہید ہوئے جن میں آٹھ انصار اور چھ مہاجر تھے۔ فتح کی بشارت پوری ہو چکی تھی۔
ایک روایت کے مطابق حضور ؐ نے فرمایا کہ کوئی جا کر ابو جہل کو دیکھیں کہ اسکا کیا حشر ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ معاذؓ اورمعوذؓ دونوں نو عمر بھائیوں نے ابو جہل کو قتل کیا ۔ معاذؓ کی تلوار نے ابو جہل کی ٹانگ کاٹ کر جدا کر دی مگر عکرمہ بن ابو جہل نے باپ کے جوش انتقام میں معاذؓ کے شانے پرتلوار ماری جس سے ان کا ہاتھ کٹ کر جھولنے لگا۔ اس جوش شہادت سے سر شار بہادر نوجوان مجاہدؓ نے اپنے ہاتھ دبا کر الگ پھینک دیا۔ اسی دوران حضرت معوذؓ نے تلوار سے ابو جہل کو جہنم واصل کردیا۔
عبید نامی پہلوان کفاّر کا بہادر تھا ۔حضرت زبیرؓ نے اس کی آنکھوں پر برچھی ماری اور وہ زمین پر گر کر مر گیا۔ یہ برچھی یادگار کے طور پر حضورﷺ حضرت زبیرؓ سے مانگ لی۔ بعد میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ خانہ ء کعبہ کے اندر خلیفہ عبدالمالک(بنوامیہ)کی فوج کے سپہ سالار حجاج بن یوسف سے لڑتے ہو ئے شہید ہوئے تو ان کی تلوار نما برچھی جو وراثت میں ملی تھی ان کی لاش کے قریب پڑی ہوئی تھی۔
جنگ بد ر کے اثرات:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کو خود فتح مبین سے تعبیر فرمایاہے ۔ اس دن کے بعد مسلمان ایک فاتح جماعت بن کر ابھرے۔ کفار کو شکست ہوئی اور وہ پھر مسلمانوں کے سامنے کبھی دوبارہ نہ جم سکے۔ اس جنگ کے بعد وہ لوگ جو مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی حالات کا شکار تھے جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ مسلمان اب کوئی بے بس اور پسی ہوئی مظلوم جماعت نہیں تھے بلکہ عرب میں ایک قوت بن کر ابھرے۔ یہودی قبائل جو پہلے مسلمانوں کو مٹانے کی سازش کر رہے تھے اب زیر ہوگئے۔ مدینہ کو ریاست کا درجہ حاصل ہوگیا اور ایک منظم ریاست مدینہ کی بنیاد پڑی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں