Battle of Ajnadain 82

جنگ اجنا دین| Battle of Ajnadain

Battle of Ajnadain
جنگ اجنا دین

تعارف:
مسلمان بگولے کی طرح اُٹھے اور آندھی کی طرح پورے جزیرۃالعرب پر چھا گئے۔ عرب کے قبائل اسلام کی حقانیت اور تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مسلمان قوم کے اعلیٰ اوصاف جیسے خوف خدا،عبادت و ریاضت، امیر کی اطاعت ، اتحاد و اتفاق، ایثا ر ، اخلاق،اخوت اور صدق نیت نے ہر ایک کے دل گھرکر لیا۔ چنانچہ مسلمان جدھر گئے ، لوگوں کو متاثر کرتے گئے۔اس عظیم انقلاب کی وجہ سے اس وقت کی سپر پاورز ،قیصر و کسریٰ(روم اور ایران ) مسلمانوں کے بڑھتے سیلاب کے آگے بندھ باھندنے پرکمر بستہ ہوگئیں۔مسلمان عراق پر قبضہ کر چکے تھے اور اب ان کا رخ بلادِ شام کی طرف تھا جو سلطنت روما کا مضبو ط گڑھ تھا اور قیصر روم ہرقل یہ نہیں چاہتا تھا کہ مسلمان اس کی سر زمین پر ایک قدم بھی رکھیں۔
جنگ اجنادین کب لڑی گئی؟
جنگِ اجنادین 13ہجری بمطابق 30 جولائی 634 عیسوی یعنی جنگ یرموک سے دو سال پہلے لڑی گئی۔جنگ اجنادین شاہ روم کی طاقتور حکومت کے خلاف مسلمانوں کی پہلی شاندار اور فیصلہ کن فتح تھی۔ اس سے پہلے عربوں اور رومیوں کے درمیان چند معمولی جھڑپیں ہوچکی تھیں جس کے بعد رومی پسپا ہوکر شام کے شمالی علاقوں میں قلعہ بند ہو گئے تھے ۔
وجوہات:
634 عیسوی کے شروع میں اسلامی فوج کے کئی لشکر عرب کے مختلف علاقوں میں بر سر پیکار ہوئے۔ حضرت مثنیٰ بن حارثؓ ایرنی علاقے میں ، حضرت خالد بن ولیدؓ عراق میں، حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح وادیء اسد کے مشرقی علاقے میں، حضرت شرجیل بن حسنہؓ وادیء اردن میں، حضرت یزید بن ابو سفیانؓ جنوبی فلسطین میں اور حضرت عمرو بن العاصؓ مغربی فلسطین میں جہاد میں مصروف کارتھے۔ با وجود مسلمانوں کی قلیل تعداد کے ، مسلمان ر ومیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے اور رومی پے در پے شکست سے عاجز آکر بھاگ رہے تھے۔
مسلمان بمقابلہ رومی لشکر:
رومیوں کی نظر میں عربوں کے طریقہ ہائے جنگ غیر روایتی اور حیران کن تھے اور عربوں نے شاہی لشکر کی طرح تربیت بھی حاصل نہیں کی تھی۔ وہ اس زمانے کے آئین حرب وضرب اور انتظامی امور سے بھی واقف نہ تھے۔ان کے پاس سامان رسد رومیوں کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ ہر مجاہد کے پاس چند کھجوریں اور جو کی روٹی تھی۔ قسم قسم کی تلواریں، نیزے اور تیر کمان تھے۔ اسلامی لشکر بے شمار قبیلوں پرمشتمل تھے۔جبکہ رومی فوج منظم تھی۔ رومی لشکر بھاری ہونے کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر تیزی سے طے نہیں کر سکتاتھا۔وہ چند گھنٹے آرام کرتے اور چند گھنٹے سفر کرتے تھے جبکہ مسلمان لشکر میں بعض سپاہی پیدل تھے اور کچھ گھوڑ سوار تھے۔ان کا لشکر چھوٹا تھا اور وہ تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کر سکتا تھا۔وہ اکثر شکست خوردہ دشمن کی وردی پہن لیتے تھے یعنی اجنادین کی لڑائی میں مجاہدین نے ایرانی اور رومی سپاہ کی وردی پہنی۔ انہیں عقب یا مستقر سے با قاعدہ کوئی سامان ر سد نہ ملتا تھااور ان کا انحصار مقامی آبادی کے تعاون پر تھا۔
واقعات:
شاہ روم نے عربوں کو سزا دینے کے لئے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔ا س لشکر کا سپہ سالار وردان کو مقرر کیا گیا۔ شاہ روم نے اپنے سالاروں کے صلاح مشورے سے مندرجہ ذیل اقدامات کئے:
۱۔ وادیء یرموک میں ایک مضبوط دفاعی پوزیشن اختیار کی جائے تاکہ عربوں کی پیش قدمی روکی جا سکے۔
۲۔ بحیرہء مردار اور دریائے ا ردن کے مشرقی کنارے پر واقع شہروں میں رومی فوج قلع بند ہو کر اسلامی لشکر کے رسد و رسائل کے راستوں پرحملے کرے۔ اس طرح عربوں کو نقصان پہنچا کر ان کی پیش قدمی کو روک لیا جائے۔
۳۔ ایک بڑا لشکروادیء یرموک سے نکل جنوب کی طرف پیش قدمی کرے تاکہ اس علاقے میں اسلامی فوج کو ایک جگہ اکٹھا ہونے پر مجبور کیا جا ئے جس سے دوسرے مقامات پر ان کا دباؤکم ہو ۔
۴۔ جب تمام لشکر جمع ہو جائے تو دفاعی پوزیشن کے جنوب میں واقع شہر آہستہ آہستہ خالی کرکے عربوں کو آگے بڑھنے پر مجبورکیا جائے اور پھر انہیں وہیں ایک لمبی جنگ میں الجھادیا جائے۔
۵۔ اسی اثناء میں ایک لشکر تیز رفتاری سے طبریہ میں جمع کیا جائے اور وقت مقررہ پر یہ لشکر طبریہ سے ہو کعنہ، ندارت، قیساریہ اور رملہ کے راستے سے ہوتا ہوا حضرت عمروبن العاصؓ کے چھوٹے سے لشکر کو کچل کر آگے بڑھ جا ئے۔ واضح رہے اس لشکر کی تعداد صرف چار ہزار تھی۔
۶۔ غزہ سے مزید کمک حاصل کر کے یہ لشکر بیر شیبہ سے ہو کر درہء ایلہ سے نکل کر یرموک میں پھنسے ہوئے اسلامی لشکر کے عقب میں پہنچ جائے اوردونوں جانب سے دباؤ ڈال کر اسے نیست و نابود کر دے۔
یہ تجاویز ہر لحاظ سے مناسب تھیں۔ طبریہ سے اجنادین صرف ایک سو چالیس میل دور تھا اور اجنادین بیر شیبہ کے راستے درہّ ایلہ کا فاصلہ ایک سو چالیس میل تھا۔رومیوں کو اس علاقہ سے واقفیت تھی۔ انہیں پانی اور خوراک کے ذخیرے معلوم تھے۔ وہ یہاں کے راستے سے واقف تھے۔حضرت عمرو بن العاصؓ کی مدد کو پہنچنے کیلئے مسلمانوں کو نہایت طویل اور دشوار گزار رستہ اختیار کر نا پڑتا تھا۔ مشرقی کنارے پر واقع شہروں میں قلعہ بند رومی فوج اسلامی لشکر کے بائیں بازو کے لئے خطرے کا باعث تھی۔ ہر قل کو اس منصوبے کی کامیابی کا مکمل یقین تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ غیر مذہب، غیر منظم، نیم مسلحہ اور اس زمانہ کے ضابطء حرب اور آئین جنگ سے ناواقف عرب، شاہی
فوج کی کارروایوں سے تہس نہس ہو جائیں گے۔حضرت ابو بکرؓ کو جب مختلف اسلامی لشکروں کی فتوحات کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً محسوس کیا کہ کم تعداد اور علاقہ کی نا واقفیت کے سبب تمام اسلامی لشکر جگہ جگہ الجھ جائیں گے اور کسی بھی مقام پر جلدی سے ایک دوسرے کی مدد کرنا نہایت مشکل ہوجائے گا اور ایک مزید کمک نہ بھیجی گئی تو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے اس لئے حضرت خالد بن ولیدؓ کو عراق میں حکم بھیجا کہ وہ فوراً شام میں اسلامی فوج کی سپہ سالاری سنبھالیں اور اپنا لشکر لے کر مدد کو پہنچیں۔
حیرت انگیز کارنامہ:
خلیفہ اول کا جب یہ حکم ہو ا تو حضرت خالدبن ولیدؓ حیرہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہمراہ تقریباً نو ہزار مجاہدین تھے۔ انہیں نہایت تیز رفتاری سے شام میں رومیوں کے خلاف ایک مؤ ثراسلامی لشکر کا اجتماع عمل میں لانا تھا۔ یہ راستہ بہت خطرناک تھا اور راستے میں کل صحرا تھا۔ سب کے منع کرنے کے باوجود حضرت خالد بن ولیدؓ نے اللہ کے بھروسہ پر یہی راستہ اختیا کیا ۔اس کے علاوہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے تجزیہ کے مطابق اس راستہ سے دشمن کے عقب میں ظاہر ہونا جنگی لحاظ سے مفید تھا۔ آج کل اس صحرا کو حماد کہتے ہیں اور اس میں اب بھی کو ئی جھاڑ ی نظر نہیں آتی۔ ۱۳ ھ بمطابق مارچ ۶۳۴ء حضرت خالد بن ولیدؓ اللہ کے بھروسے پر اپنا لشکر لے کر حیرہ سے عین التّمر اور پھر قراقرپہنچ گئے۔ روانگی سے قبل عورتیں، بچے اوربھاری سامان مدینہ بھیج دیا۔راستے کے لئے کافی مقدار میں پانی جمع کر لیا گیا۔ صحرا میں نہ کوئی درخت تھا ، نہ کو ئی جھاڑی، ہر طرف آگ ہی آگ برس رہی تھی ۔ اس لئے گائیڈحضرت رافع بن عمیرؓ نے اس خطرناک سفر کو اختیار کرنے سے منع کیا تھامگر حضرت خالد بن ولیدؓ نے سختی سے کہا کہ وہ لشکر کی رہبری کریں کیونکہ یقین محکم، تنظیم اور اتحاد نے سب کو اس خطرناک سفر پہ گامزن رکھا ہوا ہے۔ پانی پھر ختم ہو چکا تھا ۔ پیاس کی شدت اتنی تھی کہ ہر روز اونٹوں کو ذبح کیا جاتا اور ان کے پیٹ سے پانی نکا ل کر استعمال کیا جاتا۔ بیماری کی وجہ سے حضرت رافع بن عمیرؓ کی بینائی بالکل ختم ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پانی ملنے کی نشانی یہ ہے کہ عورت کے پستان کی طرح دو ٹیلے تلاش کئے جائیں اور بیٹھے ہوئے مرد کی طرح کا خار دار درخت ان ٹیلوں کے قریب دیکھا جائے۔ آخر کار ایسا درخت نظر آگیا اورجب اس کی جڑ کو کھودا گیا تو وہاں سے کافی مقدار میں پانی نکل آیا ۔سب نے اللہ کا شکر اداکیا۔ سب نے خوب سیر ہو کر پیا ۔ عقب میں بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو تلاش کیا گیا اور یوں پیاس سے نڈھال مجاہدین کی جان میں جان آئی ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ بہت خوش تھے۔ انہو ں نے حضرت رافعؓ کاشکریہ ادا۔ حضرت رافعؓ نے بتا یا کہ یہ راستہ ایک بار تیس سال پہلے انہوں نے لڑکپن میں اپنے والد کے ہمراہ دیکھا تھا اور قرا ر سے اسی راستے سویٰ تک سفر کیا تھا۔
اب سویٰ سے اسلامی لشکر قریٰ تک جاپہنچا۔ وہاں رومیوں کا ایک قلعہ تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی بہادری کی داستانیں رومیوں کو معلوم تھیں۔ ایک رومی راہب نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی شخصیت کے بارے میں ا نہیں بغیر دیکھے ، ان کا قد، رنگ، جسم اورچہرے پرنشان تک درست بتا دئیے دئیے تھے۔ بقول رومی راہب: کسی نے پیشن گوئی کی تھی کہ شام کی فتح حضرت خالد بن ولیدؓ جیسا شخص کرےگا۔ چنانچہ وہاں کے سردار نے بغیر لڑائی قلعہ مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ اور اسی طرح راستہ میں چند رومی قلعے بغیر لڑائی کے فتح ہو گئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ پر میرا اور پھر مرج جاپہنچے، مرج راحت دمشق سے پندرہ میل د ور مشرق میں واقع ہے۔ُ المیرا کے مقام پرپہنچ کر حضرت خالد بن ولیدؓ نے حیل حوران کا لازوال علاقہ اپنے بائیں جانب رکھا ۔ وہاں سے انہوں نے بذریعہ تیز رفتار قاصد عرب سالاروں کو اطلاع دی اور پیغامات بھجوائے کہ وہ ان سے آ ملیں۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے حیرہ سے دمشق تک کا تقریباً پانچ سو پچاس میل کا راستہ صرف اٹھارہ دن میں طے کیا۔ یہ ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا۔
راستے میں معرکے:
مقام مرج راحت سے حضرت خالد بن ولیدؓ بصرہ پہنچے جہاں ایک بڑے رومی لشکر سے زبردست لڑائی کے بعد اسلامی لشکر کو فتح نصیب ہوئی۔ اس لڑائی میں حضرت عبدالرحمٰن بن ا بی بکرؓ، ضرار بن ازورؓ اور حضرت رافع بن عمیرؓنے زبردست لڑائی کے بعد دشمن کو بھگا دیا۔ اس مقام پر حضرت ابو عبیدہؓ بھی اچانک پہنچ گئے۔ حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ اور یزید بن ابی سفیانؓ کے لشکر دریائے یرموک کے کنارے میدانی علاقے میں حوران میں مختلف رومی دستوں سے الجھے ہوئے تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے پہنچنے سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ حضرت خالدؓ نے فوراً رومیو ں کے بارے میں معلومات اور حالات معلوم کرنے کے لئے جاسوس بھیجے اور مختلف سالاروں سے جنگی چالوں اور آئندہ تجویزکے بارے میں مشورہ کیا۔
معرکہ اجنادین :
۲۸ جمادی الاول ۱۳ ھ بمطابق ۳۰ جولائی ۶۳۴ ء کے روز فجر کی نماز کے فوراً بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسلامی لشکر کو پانچ میل محاذ پر پھیلا دیا۔ اس اسلامی لشکر میں حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت عبدالرحمن بھی ابی بکرؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ، حضرت معاذبن جبلؓ، حضرت سعید بن عامرؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت یزید بن ابی سفیانؓ، حضرت رافع بن عمیرؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، اور قعاقع بن عمروؓ جیسے جلیل القدر اور بہادر سالارموجود تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ چاہتے تھے کہ رومیوں کا کچھ زور کم ہو تو جوابی حملہ کیا جائے مگر ضرار بن ازورؓ اپنے مخصوص انداز میں رومی لشکر پر جھپٹ پڑے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے انفرادی لڑائی میں دو رومی سرداروں کو قتل کیا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی جوابی کارروائی میں کئی ہزار رومی مارے گئے۔ ہرقل روم کو رومی فوج نے خالد بن ولید کوقیدی بنانے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ مسلمانوں کو ان کی قیادت سے محروم کیا جاسکے۔ رومی سالار نے داؤد نامی ایلچی کو بھیجا تھاتاکہ وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو وردان کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ کر سکے۔ داؤد کو دراصل یقین ہو چکا تھا کہ لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوگی ،اس لئے اس نے حضرت خالدؓ کو وردان کے منصوبے کے بارے میں بتا دیا کہ وردان خفیہ طور پر چند مسلح رومی قریب ہی چھپا دے گا اور گفتگو کے دوران انہیں اشارے سے بلا کر انہیں گرفتار کر لے گا۔ حضرت خالدؓ نے و ردان سے الگ گفتگو کرنے کا وعدہ کر لیا مگر رات کو حضرت ضرار بن ازورؓ کو چند مجاہدین کے ہمراہ اسی مقام پر بھیج دیا جہاں مسلح رومی چھپے ہوئے تھے۔ حضرت ضرار بن ازورؓنے تمام رومیوں کا رات ہی کو صفایا کر دیا۔
حالانکہ تجویز کے مطابق انہیں ملاقات کے دوران وردان کے پکارنے پر قتل کرنا تھا۔ دوسرے دن جب حضرت خالد بن ولیدؓ اور وردان کی ملاقات ہوئی تو وردان نے اپنی شان و شوکت سے حضرت خالدؓ کو مرعوب کر نے کوشش کی۔ پھر وردان نے تلخ کلامی شروع کر دی اور حضرت خالدؓ کو پکڑتے ہوئے اپنے چھپائے ہوئے ساتھیوں کو پکارا، مگر ادھر سے حضرت ضرار بن ازورؓ نمودار ہوئے اور خالد بن ولیدؓ کی اجازت سے وردان کو انفرادی لڑائی میں قتل کر دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓنے تازہ دم چار دستوں کو حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کی سر کردگی میں عقب سے نکال کر دشمن کے قلب پر حیران کن جوابی حملہ کے لئے حکم دیا۔
رومی اس حملہ کی تاب نہ لا سکے اور چند ہی گھنٹوں میں پچاس ہزار لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار سامان رسد اور اسلحہ آیا۔ رومیوں کے تمام چیدہ چیدہ سالار مارے گئے ۔
دونوں اطراف کے نقصانات :
اس لڑائی میں مسلمانوں کےصرف چار سو پچاس مجاہد شہید ہوئے جبکہ پچاس ہزار رومی مارے گئے اور بڑی تعداد میں قیدی بنائے گئے ۔ رومی اس طرح بھاگے جیسے پہلے جنگ عظیم میں نے ٹنبرگ کی لڑائی میں روسی، جرمن فوج سے شکست کھا کر بھا گے تھے۔ رومیوں کا بے شمار چھوڑا اور پکڑا ہوا اسلحہ اور سامان رسد مسلمانوں کو آئندہ لڑائیوں میں کام آیا۔
جنگ اجنادین اور جدید جنگوں میں مماثلت:
جنگ اجنادین کی فتح کا بڑا سبب بر وقت اجتماع کا اصول تھا اور اس جنگ کے ضمنی اسباب برق رفتاری، حوصلہ، حیران کن کارروائی ،قیادت اور بر وقت اجتماع جیسے جنگی اصول تھے اور یہ اصول اس وقت اپنائے جاتے ہیں جب مخالف کی تعداد زیادہ ہو اور ایک وقت میں کئی محاذ کھول دیئے جائیں۔ مسلمان بر وقت اجتماع سے دشمن کو موئثر کارروائی کے لئے ایک جگہ جمع ہونے سے پہلے ہی بر باد کر سکتا تھا۔
مثالیں:
۱۔ مثال کے طور پراٹھارویں صدی کے یورپ میں نپولین بونا پارٹ کی بیشتر لڑائیاں اسی اصول کے تحت لڑی گئیں۔ نپولین کی سٹر لڈز کی فتح اسی اصول کے تحت ہوئی۔ اتحادی(روسی، جرمن، آسٹریا، انگریز) افوج کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب تھی۔ اس کے علاوہ دو لاکھ پروشین بھی لڑائی میں شامل ہو نے والے تھے مگر نپولین نے ان تمام کے بر وقت اجتماع سے پہلے ہی برق رفتاری سے حملہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس لڑائی میں ۱۵۰۰۰ ہزار روسی مارے گئے۔ بیس ہزار قیدی پکڑے گئے اور ۸۰ تو پیں نپولین کے قبضے میں آئیں ۔
۲۔ واٹر لو کی جنگ میں ڈیوک آف ولنگٹن اور نپولین نے بر وقت اجتماع کے اصول کے تحت اپنی تجاویز مرتب کیں ۔اگر نپولین اپنے مشہور مارشل کی تجویز کے مطابق مارشل طلشر کی فوج کو چند گھنٹے باقی اتحادی فوج کے ساتھ ملنے سے روک لیتا تو آّج یورپ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔
۳۔ پہلی جنگ عظیم میں اسی اصول کے تحت لڑی گئی دو جنگوں کی شاندار مثالیں ملتی ہیں۔روسیوں کے خلاف جرمن ہینڈنگ برگ اور لڈن ڈرافٹ نے ۱۹۱۴ء میں ٹین بزگ اور میسورین لیک کی لڑائی میں اتحادیوں کے ۴۰ ویں اور ۱۵ ویں ڈویژن کو جرمنوں نے تباہ و برباد کردیا ۔
یہاں سے فراغت پاکر جرمن فوج برق رفتاری سے ۲۴ ڈویژن پر ٹوٹ پڑی اور اسے بھی برباد کرکے شاندار فتح حا صل کرلی۔ ان دونوں لڑائیوں میں جرمن فوج نے ۱۳۵۰۰۰ قیدی پکڑے ۔اس کے علاوہ ہزاروں روسی مارے گئے ۔
۴۔ جنگ عظیم اول میں ۱۹۱۵ میں اتحادیوں اور ترکوں کے مابین گیلی پولی کی لڑائی بھی جنگ اجنادین کے اصول پر لڑی گئی ۔ ترکوں کےپاس انتہائی کم معیار کے ہتھیار، تھوڑے سے گولے اور دوسری فوجوں سے چھینا ہو ا اسلحہ تھا لیکن وہ بہترین لڑاکا، جانباز دلیری میں بے مثال اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ ان کے لیڈر بہادر اور نڈر تھے۔ جب اتحادیوں نے سولا اور انزاک کے ساحل پر فوجیں اتاریں تو چار میل لمبے علاقے پر ۱۱۰۰ ترک اور پانچ توپیں کارروائی کے لئے موجو د تھیں۔ ان کے مقابلے میں اتحادیوں کے تین ڈویژن ،بے شمار بڑی توپیں اور جنگی جہاز وں کی مدد حاصل تھی۔مصطفےٰ کمال پاشا اس علاقے کااعلیٰ کمانڈر تھا ۔جونہی اسے اتحادیوں کے حملے کی اطلاع ملی وہ حیرت انگیز انداز میں اپنے ڈویژن کی چند بٹالین بلند مقامات پر بھیجنے میں کامیاب ہو گیا اور دفاعی پوزیشن اختیا ر کرلی۔ ۱۱۰۰ ترکوں کا دستہ اتحادیوں کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب ہوگیا اور جب اتحادیوں کے سپہ سالار نے خود ساحل پر اتر کر حملے حکم دیا تومصطفےٰ کمال کا فوری جوابی حملہ شروع ہو چکا تھا۔ اتحادیوں کے ۵۳۰۰ فوجی مارے گئے اورایک کور (تین ڈیویزن) کی چار دن کی تجویز نے رومیوں کا فتح کا منصوبہ خاک میں ملا دیا ۔
اثرات:
اس لڑائی کے اثرات بہت ہی دورس تھے اور اس کے بعد رومی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔ مسلمانوں کی یہ فتح کامل تھی۔ البتہ رومی فوج کا شکست خوردہ کچھ حصہ بھاگنے میں کا میاب ہو گیا۔ رومیوں کو ہر لحاظ سے شکست ہوئی ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے فتح کی خبر جب حضرت ابوبکرؓ کو بھجوائی تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس فتح سے قبائل عرب میں مزید جوش پیدا ہو گیا اور فوراً ہی ایک بڑا لشکر اسلامی فوج کی مدد کے لئے بھیج دیا گیا۔جنگ اجنادین سلطنت روما کے زوال کی پہلی کڑی تھی اس کے بعد رومی لشکر پھر مسلمانوں کے سامنے نہ ٹک سکا اور خلیفہ راشد حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت تک رومی سلطنت مسلمانوں کے سامنے خس وخاشاک کی طرح بہہ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں