Shah Memood qureshi 33

کشمیر پر سودے بازی ناممکن. شاہ محمود قریشی

7 / 100

کشمیر پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے، کوئی باعزت طریقے سے بات کرنا چاہے تو کریں گے تاہم کوئی سودے بازی نہیں ہوگی‘‘۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تنازع کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے مستقل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ہفتے کو نیویارک میں پاکستانی برادری کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب میں مندرجہ بالا الفاظ میں ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف اٹل ہے جسے لین دین کی کسی پیشکش سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا تاہم مسئلے کے منصفانہ حل کی خاطر بات چیت کے لئے ہمارے دروازے ہمیشہ کی طرح آج بھی کھلے ہیں۔ وزیر خارجہ نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب میں بتایا کہ ان کی امریکہ آمد کا مقصد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں مظلوم فلسطینیوں پر جاری مظالم کی روک تھام کے لئے آواز اٹھانا تھا اور سیز فائر کے اعلان کی صورت میں پہلے مقصد میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس ضمن میں ہونے والی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، اس اجلاس میں ہم نے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے متفقہ لائحہ عمل طے کیا اور اسی لائحہ عمل کے تحت ہم نے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کے حق میں بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں بجا طور پر اس امر کی نشان دہی کی کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں گہری مماثلت ہے اور کشمیریوں کو بھی فلسطینیوں کی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں گہری مماثلت بلاشبہ ایک کھلی حقیقت ہے لیکن اہلِ کشمیر اور اہلِ پاکستان کے لئے یہ امر بہرحال فکرمندی کا باعث ہے کہ کشمیر کے معاملے میں بھارت کی جانب سے سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو عملاً مسترد کیے جانے حتیٰ کہ پانچ اگست2019کو بھارتی آئین کی دفعہ 370کے خاتمے کے ذریعے کشمیر کی عالمی طور پر مسلمہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرکے مقبوضہ وادی کو بھارت کا حصہ قرار دے دیے جانے کے باوجود نہ عالمی برادری بھارتی حکومت کی من مانیوں کو روکنے میں کسی بھی درجے میں اپنا کردار ادا کرسکی ہے نہ پاکستان ہی کی جانب سے اس مقصد کے لئے کوئی مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکی ہے۔ مودی حکومت نے 5اگست کے اقدام کے بعد سے پورے مقبوضہ کشمیر کو عملاً قید خانہ بنا رکھا ہے۔ 10لاکھ بھارتی فوج کو کشمیری مسلمانوں پر ہر ستم توڑنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پوری کشمیری قیادت جیلوں میں بدترین حالات کا سامنا کررہی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان نے کشمیر کو صریحاً ناجائز طور پر بھارت کا حصہ قرار دیے جانے کے مودی حکومت کے اقدام کے بعد کشمیر کا سفیر بن کر پوری عالمی برادری کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے اور تنازع کے حل کی خاطر اسے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کا بھی اب تک انتظار ہی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم تک میں اس مسئلے کو نتیجہ خیز طور پر اٹھائے جانے کے کوئی آثار منظر عام پر نہیں آئے۔ حتیٰ کہ بھارت کی اس من مانی کارروائی کو پونے دوسال گزرجانے کے باوجود اس مسئلے پر ملک کے اندر کوئی کل جماعتی کانفرنس تک منعقد نہیں کی جا سکی جس میں کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کرکے اس کے مطابق پیش رفت کی جاتی۔ اس صورت حال میں محض یہ کہنا کہ ہم کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے لیکن بات چیت کے لئے تیار ہیں، ہٹ دھرم بھارتی حکمرانوں کو بات چیت پر کیسے آمادہ کرے گا اور کشمیریوں کو ان کا حق کس طرح ملے گا؟ اس سوال کا جواب اہلِ کشمیر و پاکستان دونوں کا حق ہے اور حکومت پاکستان کو اس بارے میں اپنا روڈ میپ جلد از جلد سامنے لانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں