aya sofia oar kelsa 118

آیا صوفیہ اور کلیسا

46 / 100

سلطنت عثمانیہ کےسلطان محمددوم نےجب قسطنطنیہ فتح کیاتھا تب آیاصوفیہ، کوجوپہلے سینٹ لارنس چرچ تھا، کو کلیسا سے بھاری رقم ادا کرکے خر ید ا اوراُسےمسجد بنایا تھا ،پھر جب خلافت ختم ہوئی اور مصطفیٰ کمال پاشا ایسے لبرلز برسرِ اقتدار آئے تو اُنہوں نے آیاصوفیہ کو مسجد سے چرچ میں توتبدیل نہ کیاکیونکہ قانونی طور پر اس عمارت کو مسجد کےعلاوہ کسی اور مقصد کےلےاستعمال نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا انھوں نےاسے میوزیم میں تبدیل کردیا ۔اس مسجد پر تقریباً 568برس کاغصب شدہ حق تھا جسےترک صدر طیب اردوان نے تمام تر اقوام عالم کے دبائو کے باوجود اور ہرقسم کی سازش کی پروا کئے بغیر اس کی قانونی حیثیت بحال کر دی۔ تاہم کلیسائی قوتیں اپنی کم ظرفی سے باز نہیں آر ہیں ،کلیسائی اتحاد نے جب تمام حربوں کو ناکام ہوتے دیکھا تو انھوں نے یہودی لابی سےمل کر ترکی کےخلاف معاشی انتقام کوذریعہ بنالیا اوراسٹاک مارکیٹ سے اپنا سر مایہ نکالنا شروع کر دیاتاکہ ترکوں کو معاشی اور اقتصادی طور پر بلیک میل کیا جاسکے لیکن ترک قوم نے کلیسا کےاوچھے ہتھ کنڈوں کی پروا نہ کرتے ہوئےآیاصوفیہ کی مسجد کی حیثیت بحال کردی۔ یقیناً ترک صدرطیب اردوان نے بڑی ہمت اوردلیری کامظاہرہ کیاہے ۔اس سے پہلے بھی وہ کلیسا سے ٹکرلے چکےہیں جب امریکہ اور یورپ نے مشترکہ سازش سے طیب اردوان کے خلا ف فوجی بغاوت کرائی تھی تب بھی اُنہیں منہ کی کھاناپڑی تھی ،پھرجب ترک قوم نے امریکی ڈالر کابائیکاٹ کیا تب ایک ڈالر65لیرا کاہوتاتھا اس کےبعد اب ڈیڑھ لیرا کا ایک ڈالر ہوگیا ہے۔ طیب اردوان نے اقوامِ متحدہ میں بھی بڑی جرات کا مظاہرہ کیا تھا۔ ترک قوم نے آیاصوفیہ کا غصب شدہ حق حاصل کر لیا۔ترک قوم کے نظریےاور سوچ سےکچھ ماورا نہیں۔کوئی عالمی موقف کوئی طریقہ کوئی دبائوترک قوم کی خود مختاری کےآگے ماند ہے۔ ترک قوم طیب اردوان کی قیادت میں بہت مضبوط ومستحکم ہوچکی ہے وہ ہرقسم کےخطرات سے نمٹنے کاحوصلہ رکھتی ہے۔

ایک ہمارے حکمران ہیں جوجنہوں نے اسلام آباد شہر میں ایک نیا مسئلہ خواہ مخواہ ہی کھڑا کرلیا ہے اور وہ ہے مندر کی تعمیر کا مسئلہ۔ جبکہ اسلام آباد میں پہلے ہی ایک بڑا مندر محکمہ اوقاف کے زیر انتظام موجود ہے جس کارقبہ بھی کچھ کم نہیں یہ مندر لگ بھگ دو ایکڑ پر محیط ہو گا۔اس کےاردگرد کی جگہ فوڈ کورٹ کےطور پر استعمال کی جارہی ہے، کھانےکےلئے کئی طعام خانے اس جگہ کام کررہے ہیں اس مندر کی موجودگی میں نیامندر وہ بھی سرکار کےخرچہ سے بنانے کی کیاتک ہے۔ وہ مندر دیکھنے میں بڑاعالی شان ہے باقی ماندہ زمین پر اوپن ائیر ولیج فوڈ کورٹ بناہواہے۔جانے کیوں اسلام آباد کی نوکرشاہی اس مندر کوجانتےبوجھتے ہوئے نظرانداز کررہی ہے۔ ہندو آبادی جوصرف ڈھائی سو خاندانوں پر مشتمل ہے اس کےلئے اتنے زرکثیر سے نیا مندر تعمیر کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ موجودہ مندر کی قدیمی تاریخی اہمیت بھی ہے پوجاپاٹ اور دیگر رسومات اورتقریبات کے لئے وہ کافی بہتر اور پرسکون اور آباد علاقے میں واقع ہے۔اُسے نظرانداز کرناقطعی غیر مناسب ہے۔ وزیراعظم کوچاہئے کہ وہ اس قدیمی مندر کاتالا کھول کر ہندو اقلیت کےحوالے کردیں مندر کی تعمیر اور ناتعمیر کامسئلہ چٹکیوں میں حل ہوجائے گا اور ہندو اقلیت بھی مطمئن ہوجائےگی انھیں ایک بنابنایا تاریخی مندر مل جائے گا۔

حکمران وقت جانے کس بےچینی کاشکار ہیں کونسی چیز انھیں بے چین کررہی ہے، ملک میں کورونا وائرس بھی اب کسی قدر قابومیں آتاجارہاہے۔ احتیاطی تدابیر سےاس کازور ٹوٹ رہاہے ۔جلدہی ان شاءاللہ مکمل طور پر حالات معمول پر آناشروع ہوجائیں گے۔دوا سےزیادہ اس مرض کا علاج احتیاطی تدبیر سے ہی ممکن ہے ۔ایسا محسوس ہورہاہے کہ جلد کچھ نیا ہونےکوہے۔ اللہ ہماری ہمارے وطن عزیز کی ہر طرح سے ہر طرف سے حفاظت فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں