Mufti gulzar Ahmed Naeemi 123

اعمال کی بنیاد نیت مفتی گلزار احمد نعیمی

5 / 100

اعمال کی بنیاد نیت
مفتی گلزار احمد نعیمی
اگر انسان عمل کرے اور خاص نیت کے ساتھ نہ کرے تو اسکا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ اور قبولیت کے بغیر عمل بے کار ہے۔حضر عمر ؓراوی حدیث ہیں
انما الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیت پر ہے)۔بخاری:ا،مسلم:۷۰۹۱
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: وما امروا الا لیعبد اللہ (اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت بجا لائیں)۔البینہ:5
نیت کے اخلاص کو ایک جگہ تقوی کہا گیا ہے لن ینا ل اللہ لحومھا (الحج:37)
یہاں تقوی سے مراد اخلاص نیت ہے۔
سرکار صلی اللہ علیہ وا ٰلہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ لا ینظر الی صورکم وا موالکم ولکن ینظر الی قلوبکم و اعمالکم (بے شک اللہ تعالی تمہاری شکلوں اور مال کی جانب نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی جانب نظر فرماتاہے)۔ مسلم شریف
ثواب کا درومدار عمل پر نہیں ہے بلکہ نیت پر ہے جو شخص رات کو تہجد کی نیت کرکے سوئے اور اسے جاگ نہ آئے تو اسے ثواب بہر حال مل جاتا ہے۔
اخلاص نیت سے مراد یہ ہے کہ ہر اچھا کام خدا اور مصطفٰے کا حکم سمجھتے ہوئے کیا جائے۔اور اس کا م کامقصد صرف اپنے رب کو خوش کرنا ہو۔
یا در ہے نیت دل کے ارادے کا نام ہے یہ زبان سے نہیں ہوتی۔
جو کام بذات خود برے ہیں انہیں نیت اچھا نہیں بنا سکتی۔کوئی شخص ڈاکہ زنی کرتاہے اور نیت کرتا ہے کہ اس پیسے سے مسجد بناؤں گا یہ درست نہیں ہے۔
انما الاعمال والی حدیث اصول دین میں اساس کا درجہ رکھتی ہے۔علامہ ابن رجب نے کہا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا نہ
ہو وہ باطل ہے اور دنیا و آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
امام شافعی ؒنے کہا: یہ حدیث ایک تہائی علم ہے اور فقہ کے ستر ابواب میں داخل ہے۔
ؒلغت میں نیت مقصد اور ارادہ کو کہتے ہیں۔
شرعی اعتبار سے نیت کے دو معانی ہیں (۱) عبادات میں باب میں نیت کا مفہوم ہے ایک عبادت کو دوسری سے الگ کرنا۔جیسے ظہر کی نماز کی نیت عصر کو الگ کردیتی ہے۔ یا عبادت کو عادت سے الگ کرنا جیسے غسل جنابت کو عام صفائی ستھرائی یا ٹھنڈک حاصل کرنے والے غسل سے الگ کرنا۔
دوسرا مفہوم: عمل کو ارادے سے الگ کرنا ہے۔یعنی آیا وہ عمل صرف اللہ کے لیے ہے یا کسی دوسری ہستی کے لیے بھی ہے۔
انماالاعمال باالخواتیم۔(اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے)۔مسند احمد
یعنی پوری زندگی اللہ کے لیے کام کیے اور آخر میں نیت بد ل گئی تو عمل بے کار۔
جو لوگ خاموشی کے ساتھ لوگوں کو پانی پلاتے ہیں لوگوں کے جوتے سیدھے کرتے ہیں۔ہر مقام پر صفائی کا خیال رکھتے ہیں وہ ان لوگوں سے اللہ کے زیادہ قریب ہونگے جو دنیا کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں