allama sakhawat muneer 118

اعمال صالحہ میں دوام. تحریر:علامہ مفتی محمد سخاوت منیر

اعمال صالحہ میں دوام
تحریر ۔ علامہ مفتی محمد سخاوت منیر

ایک مسلمان کا مقصد حیات رضائے الہی کاحصول ہونا چاہئے ۔اسے ہر وہ عمل کرنا چاہئے جو اسے اسکے مقصد حیات کو پورا کرنے میں معاونت کرے۔
پھر اس عمل میں تسلسل کو برقرار رکھنا چاہئے ۔
چاہے وہ عمل اسکی نظر میں چھوٹا ہو یا بڑا ۔
کیا خبر کہ جو عمل اسکی نظر میں چھوٹا ہے حقیقت میں وہی اسے اسکے مقصد حیات میں کامیاب کر دے اور اسے رضائے الہی کاحصول ہوجائے ۔
عام مشاہدہ ہے کہ ہم نے ہر عمل کے لیئے ایک سیزن (خاص وقت )مقرر کیا ہوتا ہے۔اسی طرح اعمال صالحہ کے لیئے بھی اسی کو پیش نظر رکھا ہوتا ہے۔
مثلا
رمضان المبارک آیا تو ہر قسم کی عبادات پورے زور و شور سے کیں لیکن جیسے ہی اس با برکت مہینہ کا اختتام ہوا تو ان عبادات میں سے اکثر کو چھوڑ دیا ۔جسکی وجہ سے ان عبادات کے حقیقی فوائد سے محروم ہو گئے۔
جس چیز سے تسلسل ٹوٹ جائے وہ ناقص ہوتی ھے۔
الغرض اعمال صالحہ میں دوام ضروری ہے۔۔۔
امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح میں اس حوالےسے ایک باب قائم فرمایا ہے۔

باب القصد والمداومة على العمل.

میانہ روی اور کسی (نیک )عمل پر مداومت کرنے کا بیان۔

باب مذکورہ کی شرح از علامہ عینی

علامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد العینی الحنفی المتوفی 855ھ اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ میانہ روی مستحب ھے اور یہ کسی کام میں اعتدال کو قائم رکھنا ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ افراط اور تفریط کے درمیان متوسط طریقہ کو اختیار کرنا صحیح ہے اور مداومت کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیک عمل پر مداومت کی جائے ۔
(عمدةالقارى ج.23 ..ص95..دارالكتب العلميه بيروت .1421ھ )۔

اس باب کے تحت امام بخاری علیہ الرحمہ نے آٹھ احادیث ذکر فرمائی ہیں
ان میں سے چند نقل کرتا ہوں۔
عن عائشة رضى الله عنها أنها قالت كان احب العمل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الذى يدوم عليه صاحبه.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ کرے۔
(صحيح بخاري.ج2.ص957 .كتاب الرقاق .باب القصد والمداومة على العمل. .مكتبة رشيديه.. )

عن عائشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سددوا و قاربوا واعملوا ان لن يدخل احدكم عمله الجنة وان احب الاعمال الى الله ادومها وان قل.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درست کام کرو اور درمیانی کام کرو اور جان لو کہ تم میں سے ہرگز کسی شخص کو اسکا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور بیشک تمام اعمال میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ وہ کام ہیں جن میں سب سے زیادہ دوام ھو خواہ وہ تھوڑے ہوں۔
‘ (بخاري. ج2.ص957.كتاب الرقاق .باب القصد والمداومة على العمل.مكتبة الرشيدية. . )
عن عائشة رضى الله عنها انها قالت سئل النبى صلى الله عليه وسلم اى الاعمال احب الى الله قال ادومها وان قل وقال اكلفوا من الاعمال ما تطيقون.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں آپ نے فرمایا جن میں سب سے زیادہ دوام ھو خواہ وہ تھوڑے ہوں اور آپ نے فرمایا اتنے اعمال کرو جنکی تم طاقت رکھتے ہو۔۔
(بخاري.ج2.ص957.كتاب الرقاق .باب القصد والمداومة على العمل .مكتبة الرشيدية. )

حدیث میں مذکور ہے ادومها یہ اسم تفضیل کا صیغہ ہے
اس پر یہ سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز میں ہمیشہ دوام ھو گا وہ قلیل کیسے ہو گی ؟
جبکہ دوام کا معنی ہے۔
تمام زمانوں کو شامل ہونا اور اسکی مقدار معین نہیں ہے۔

اسکا جواب یہ دیا گیا ہےکہ دوام سے مراد عرف کے موافق کسی کام کو ہمیشہ کرنا اور اس سے مراد یہ ہےکہ ھر مہینہ وہ کام کیا جائے یاپھر ھر دن وہ کام کیا جائے اور اس پر عرف میں دوام اور مواظبت کا اطلاق آ جائے گا۔۔
(عمدةالقاري. ج23.ص98.دارالكتب العلميه بيروت. 1421 )..بحواله نعم البارئ.

عن علقمہ قال سالت ام المؤمنین عائشہ قلت یا ام المؤمنین کیف کان عمل النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم هل كان يخص شيئا من الايام قالت لا كان عمله ديمة وايكم يستطيع ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يستطيع. .

حضرت علقمہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّہ عنہا سے پوچھا کہ اے امّ المؤمنین! نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا عمل کس طرح تھا؟ کیا آپ کسی عمل کو کس دن کے لئے خاص کر لیتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّہ عنہا نے بتایا نہیں! آپ کا عمل دائمی ہوتا تھا اور تم میں سے کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم رکھتے تھے
(.ايضا بخاري )
علامہ المہلب المالکی المتوفی 435 ھجری نے کہا ہے کہ شارع علیہ السلام نے اپنی امت کو میانہ روی پر دائمی عمل اختیار کرنے پر بر انگیختہ کیا ہے خواہ عمل کم ہوں اس خوف سے کہ اگر امت زیادہ عمل کرے تو کہیں تھک کر اصلاً عمل چھوڑ نہ دے

(نعم الباری جلد 13 صفحہ 887 .ضياء القرآن پبلی کیشنز کراچی۔)

مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہو گیا کہ اعمالِ صالحہ میں دوام اللّہ عزوجل و رسول اللّٰہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کو پسند ہے
اکثر اعمالِ مستحبہ کو جان بوجھ کر اس لیے چھوڑا جاتا ہے کہ یہ کونسا فرض ہیں
اور یہ کہا جاتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بھی ان کو ترک کیا ہے
حالانکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا کسی عمل کو بعض دفعہ چھوڑنا امت پر شفقت کی وجہ سے ہوتا تھا کہ اگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کسی عمل پر مواظبت فرماتے تو امت کے لئے وہ عمل سنتِ مؤکدہ بن جاتا
اس لئے ہمیں فرائض کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اعمالِ مستحبہ پر بھی مواظبت کرنی چاہیے
کیونکہ فرض عمل تو وہ ہے جس کے نہ کرنے ہر عذاب ہو گا لہٰذا وہ تو ہر حال میں کرنا ہی ہے اس پر تو جو اجر ملتا ہے وہ اللّہ رب العزت کا فضل ہے
وگرنہ قرض کی ادائیگی کے بعد اجر ملنا عقل سے بالاتر ہے
اصل ثواب کا ترتب فرائض کی ادائیگی کے بعد عبادات نافلہ پر ہے کہ وہ فرض بھی نہیں اور بندہ اس کو بجا لائے اور پھر اعمالِ صالحہ ایسے کرے کہ جس کے اندر دوام ہو چاہے تھوڑا عمل ھی ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں