electric bill 157

اب بجلی ہماری شہہ رگ ہے…..

اب بجلی ہماری شہہ رگ ہے…..
ماہ اگست میں دو سو یونٹس، چار سو یونٹس، ہزار یونٹس اور پانچ ہزار یونٹس استعمال کرنے والے مختلف صنعتی اداروں کا بل اوسطاً ستر روپے فی یونٹ کے حساب سے آیا ہے. جبکہ آئی ایم ایف کے کہنے پر جب سرکار نے بجلی کے نرخ بڑھائے تھے تو بتاتا تھا کہ سات روپے فی یونٹ اضافہ ہوگا جوکہ محصولات سمیت تقریباً دس روپے فی یونٹ بنتا تھا. تب ہم فکرمند ہورہے تھے کہ یک بارگی تئیس روپے فی یونٹ سے تینتیس روپے فی یونٹ پر جانا صنعت کے لیے کس قدر مشکل ہوگا.
لیکن اصل اضافے نے تو صنعت کو ہلا کرہی رکھ دیا ہے. پاکستان میں سب ہمسایہ ملکوں سے بجلی بہت زیادہ مہنگی ہے. چین میں صنعتی بجلی اوسطاً اعشاریہ چھ یووان. 0.6RMB ہے گویا قریب بیس روپے فی یونٹ ہے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والی صنعت کو رات کے وقت مزید سستی دی جاتی ہے. پاکستان میں گرمیوں میں رات سات سے گیارہ اور سردیوں میں چھ سے دس نرخ پونے دو گنا ہوتے ہیں. مطلب آپ کو چھ بجے فیکٹری ہر صورت بند کرنا پڑتی ہے. متوقع اور غیر متوقع لوڈشیڈنگ کا عذاب اس پر سوا ہے.
ان سارے اعدادوشمار کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ فی کلوگرام لوہے کی ڈھلائی میں ہمارا اور چین کا صرف بجلی کا فرق پچپن روپے فی کلو گرام ہے. ان کے صنعتکاروں کو دستیاب باقی سہولیات اس کے علاوہ ہیں. ایسے ماحول میں مقامی صنعت کسی صورت بھی درآمدی مال کی قیمتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی.
بجلی کے بحران پر پہلے بھی کئی بار ہم بات کرچکے. اس سارے قضیے میں اصل نکتہ چوری اور بدعنوانی ہی ہے. پھر دوردراز علاقوں کو ماہانہ پانچ سو اور ایک ہزار روپے فکس بل جہاں دن رات اے سی چلتے ہیں. پہلے مرحلے پر بجلی کی پیداوار میں ملی بھگت سے جھوٹے اعدادوشمار مہیا کرکے چوری کی جاتی ہے. مطلب کم بنائی جاتی ہے اور زیادہ بتائی جاتی ہے. دوسرے نمبر پر جوکہ مقدار میں سب سے زیادہ ہے، وہ چوری جو تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین اور استعمال کنندہ کی ملی بھگت سے ہوتی ہے.. اور سب سے آخر میں وہ چوری صارفین اپنی چالاکی یا دھونس سے کرتے ہیں..محکمہ میں سامان کی خریداری اور صارفین کو اس کی دستیابی کے دوران ہوئی بدعنوانیاں ان کے علاوہ ہیں.
ان سب چوریوں، کا بل وہی صارف ادا کرتے ہیں جو کسی قسم کی ایسی کاروائی میں ملوث نہیں. اس کے باوجود گردشی قرضہ قابومیں نہیں آرہا. جس کی وجہ بدعنوان لوگوں کا اثرورسوخ اور سرکار کی عدم دلچسپی. لیکن یہ بات سب لوگ جان لیں بلکہ اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ اگر حال یہی رہا تو بچی کھچی صنعت بھی دم توڑ جائے گی.. ایسی صورت میں معاشی دیوالیہ پن کا عفریت اپنے پنجے گاڑ دے گا جس کا حتمی انجام عالمی طاقتوں کی صوابدید پر ہوگا.. جس کی کم سے کم قیمت ایٹمی اثاثہ جات اور خاکم بدہن زیادہ سے زیادہ ملکی سالمیت بھی ہوسکتی ہے .
پرانی والی کو بھول جائیں اب نیا سبق یاد کرلیں. اب ہماری شہہ رگ بجلی ہے.. خدرا سمجھ لیں ہم جب تک بجلی کے معاملات درست نہیں کرتے کچھ بھی بہتر ہونے والا نہیں. سب مل کر بیٹھ کر طے کرلیں کہ تعمیرات میں، کمیونیکیشن میں، تیل میں، گیس میں، لائسنسوں میں، پرمٹوں میں جہاں سے جی چاہے جو بن پڑے کھائیں… مگر بجلی کو معاف کردیں.. پھر سے کہتا ہوں اب یہ ہماری شہہ رگ ہے خدا کے لیے اس کو چھوڑ دیں.
( ابن فاضل )

اپنا تبصرہ بھیجیں