44

زندگی آپ کو چھوڑے گی تو نہیں

7 / 100

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ زندگی کتنے بھید چھپائے رکھتی ہے۔ دانائے رازکتنے ہیں ؟ کروڑوں میں ایک۔ اقبال ؔنے کہا تھا:

سرآمد روزگارِ ایں فقیرے

دگر دانائے راز آیدکہ ناید

اقبالؔ کا ویژن اتنا واضح تھا کہ قائد اعظم کا انہوں نے انتخاب کیا۔ اپنی شاعری سے برصغیر میں آگ لگا دی لیکن پھر وہ وقت آیا کہ ان کی صحت خراب ہو گئی۔ ایک دن آبدیدہ ہوئے اور کہا: افسوس کوئی مخلص مسلمان نہیں ملتا۔ جس ہستی نے قائداعظم کا انتخاب کیا، اس سے زیادہ کس کو اندازہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان جیت جائیں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اللہ کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ ان گنت بے کار لوگ سو سو برس کی زندگی جیتے ہیں۔ اقبالؔ کو خدا دس برس زندگی اور دے دیتا تووہ پاکستان بنتا دیکھتے اور سکون کی نیند سوتے۔ وفات پائی تو معاملات حد درجہ پیچیدہ تھے۔

قائد اعظم ہی کو ٹی بی لاحق ہونا تھی۔ کروڑوں لوگوں کے پھیپھڑے مرتے دم تک ٹھیک کام کرتے رہتے ہیں۔ کیا قائد اعظم کی شریکِ حیات ان کے مشن کو سمجھتے ہوئے ان کی مصروفیات سے سمجھوتہ نہ کر سکتی تھیں ؟ کیا قائد اعظم جیسے عظیم مسلمان لیڈر ہی کی بیٹی نے پارسی سے شادی کرنا تھی۔ کتنے ہی بیکار لوگوں کی بیٹیاں اپنے باپ کی خاطر اپنی محبت قربان کر دیتی ہیں۔ تھکا ہارا شخص جب گھر پہنچتا ہے تو بیوی بچوں سے باتیں کر کے پرسکون ہو جاتاہے۔ قائداعظم کوفاطمہ جناح کے علاوہ ایسا کوئی سہارا نہ مل سکا۔ ایک دفعہ ایک زیرک علمی شخصیت نے مجھے بتایا : میں گھر پہنچتا ہوں تو جوتوں سمیت ہی لیٹ جاتا ہوں۔ بیٹیاں بھاگی آتی ہیں۔ جوتے اتارتی ہیں۔ پائوں سہلاتی ہیں۔ یہ ہیں زندگی کی مسرتیں۔ وہ تو خیر نامور شخصیت ہیں لیکن عام لوگوں کی بیویاں اور بیٹیاں بھی ان پہ صدقے واری جاتی ہیں۔

ہم میں سے ہر شخص سوچتا ہے کہ میرے بعد میری اولاد کا کیا ہوگا ؟ قائداعظم کس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ذاتی زندگی کے غم الگ کہ بیوی بچے پاس تھے ہی نہیں۔ سیاسی زندگی کا حال یہ تھا کہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے بلوے سے برصغیر گزرا تھا۔ بھارت پاکستان کو ہڑپ کرنے کے درپے تھا۔ پھیپھڑے جواب دے چکے تھے۔ جسم سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا۔ آخری دنوں میں کبھی تو سوچا ہو گا کہ کیا بنے گا پاکستان کا ؟ حالات انتہائی خوفناک اوراس پائے کا غیر معمولی لیڈر کوئی نہ تھا۔ اقبالؔ بہت بڑے علمی جینئس تھے۔ قائد اعظم کے منہ سے مگر ایسے الفاظ آخری وقت بھی نہ نکلے، جن سے مایوسی تو کجا، تکان ہی ٹپک رہی ہو۔ اتنا صبر اور اتنا شکر علم کے بغیر تونہیں آسکتا۔ قائداعظم ساری زندگی عملی سیاست میں مصروف رہے لیکن دانائے رازسے کم ذہین نہیں تھے۔ اگر وہ علم کے میدان میں اترے ہوتے تو دنیا ایک اور جینئس دیکھتی۔ آدمی خواہش پہ غالب آجائے اور عبادت کرے تو اس کی عقل میں اللہ نور پیدا کر دیتا ہے۔ تصوف کا ازلی اصول یہ ہے کہ اپنے ساتھ کبھی کوئی ہمدردی نہیں۔ صوفی نہ ہونے کے باوجود قائد اعظم اس اصول پر سو فیصد کاربند رہے۔

یہ سب کیا ہے ؟ کیوں اتنے بڑے لوگوں کے ساتھ ایسے سانحات پیش آتے ہیں، عام لوگوں کی اکثریت بھی جن سے محفوظ رہتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ بھائی یہ ہے آزمائش۔ قرآن میں لکھا ہے کہ کسی جان پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی بساط ہے، اس سے کچھ کم بوجھ لازماً ڈالا جاتاہے۔ اس آیت میں حکمت کے خزانے چھپے ہیں۔ دنیا میں ہر شخص کی بساط مختلف ہے۔ اس لیے کہ ہر شخص پر مختلف شدت کی آزمائشیں نازل ہوتی ہیں۔ اس آزمائش کا آپ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتاہے کہ ہر شخص پر ایک جتنی آزمائش ہر گز نہیں اترتی۔ کچھ کا صرف پھل سڑا ہوا نکل آئے تو وہ مرنے والے ہوجاتے ہیں۔ کچھ کے جسم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی طرح چیر دیے جاتے ہیں مگر وہ ہار نہیں مانتے۔

ہر لیجنڈ کو اس غم سے گزرنا پڑتا ہے کہ اس کی اولاد اس کے جتنی لائق اور محنتی نہیں۔ آپ باکسر محمد علی کو دیکھیں۔ وہ انتہائی مضبوط قوتِ ارادی کا مالک تھا۔ اپنے کیرئیر کے عروج پر کئی سال جیل میں رہنے کے باوجود تین دفعہ عالمی فاتح بنا لیکن اس کا اصل چیلنج کچھ اور تھا۔ اپنی آخری لڑائی میں، اس کی صحت خراب ہو چکی تھی۔ اس نے بے تحاشا مار کھائی اور کھاتا رہامگر گرا نہیں۔ اسے بخوبی معلوم تھا کہ یہ مار کھانے کادن ہے اور اس نے مکمل طور پر اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ اس کی زندگی کی اصل جنگ بیماری کے ساتھ ہوئی جو اس کی موت تک جاری رہی۔ ایک طرف بے کراں عظمت، دوسری طرف ایسی بے بسی کہ بولنے میں بھی دقت۔

سیموئیل بیکیٹ نے کہا تھاYou are on Earth.There is no cure for that۔ ایک بار آپ نے کرۂ ارض پہ پہلا سانس لے لیا تو پھر ایسی جنگ سے آپ کو گزرنا پڑے گا، جو آپ کی موت پر ہی منتج ہو گی۔ زمین بیچاری خود انسان کے ہاتھوں ایک خوفناک جنگ سے گزر رہی ہے۔ آپ کی بیوی کس مزاج کی ہوگی۔ آپ کی اولاد کس مزاج کی ہوگی۔ آپ کی صحت کیسی ہوگی۔ آپ کی ذہنی صلاحیت کتنی ہوگی؟ ایک چیز بھی انسان کے ہاتھ میں نہیں۔ حل صرف یہ ہے کہ دعا، غور و فکر، علم میں اضافہ اور جو بھی چیلنجزدنیا میں درپیش ہوں، ساری زندگی ان سے نمٹنے کی کوشش اور سب سے بڑھ کر صبر۔ باقی آپ بادشاہ ہوں یا فقیر زندگی آپ کو چھوڑے گی تو نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں