Skip to content

6 ہزار ارب ریکارڈ ٹیکس وصول، عوام کو ریلیف دیا، وعدہ ہے جتنے پیسے آئیں گے لوگوں پر خرچ کریں گے، عمران خان

اسلام آباد (نمائندہ / نیوز ایجنسیز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 6؍ ہزار ارب کی ریکارڈ ٹیکس وصولی ہوئی، عوام کو ریلیف دیا ہے ، وعدہ ہے ہمارے پاس جتنے پیسے آئیں گے ہم غریبوں پر خرچ کریں گے، جتنا زیادہ ٹیکس جمع ہوگا حکومت عوام کی فلاح وبہود پر مزید خرچ کرے گی ، ریاست کمزوروں کی ذمہ دار ہے ، ایف بی آر کی کارکردگی کے باعث پٹرول، ڈیزل اور بجلی پر سبسڈی دینے کے قابل ہوئے، 45؍ لاکھ خاندانوں کو ایک ہزار ارب کے بلاسود قرضے دیں گے، جس نظریئے پر پاکستان بنا اس پر نہیں چلے، قبلہ چھوڑنے کی وجہ سے ملک کو وہ عزت اور مقام نہیں ملا جس کا وہ مستحق تھا، پاکستان کو اس راستے پر ڈال دیا ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت فیصل مسجد میں بلاسود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ایک بڑے خواب کا نام تھا، ہم نے ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہمیں پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر کھڑا کرنا تھا، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 1947 میں جو ہمارا قبلہ تھا ہم اس راستے پر نہیں چلے جس کی وجہ سے پاکستان کو وہ عزت اور مقام نہیں ملا جو ہمیں ملنا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جو قوم اپنے نظریے سے ہٹتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی اور ہمارا نظریہ ریاست مدینہ کا نظریہ تھا جس میں دو اہم چیزیں تھی ایک انسانیت اور دوسرا انصاف، نبی ﷺ کا حکم کہ جس قوم میں انصاف نہیں ہوتا وہ تباہ ہوجاتی ہے یعنی قانون سے بلاتر کوئی نہیں ہونا چاہیے، آج مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر غیر مسلم قومیں عمل درآمد کر رہی ہیں۔ نبی کریم نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ انہوں نے یہ فر مایا تھا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو اسے سزا ملے گی۔ انہی اصولوں کی وجہ سے مسلمانوں نے صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کی۔دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔ وزیر اعظم نے سوئز لینڈ ‘ نیوزی لینڈ اور سیکنڈے نیوین ممالک کی مثال بھی دی جو فلاحی ریاستیں ہیں ۔ وزیر اعظم نے رحمت العالمین اتھارٹی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ہے کہ ہمیں اپنے بچے بچے کو بتانا ہے کہ نبی کریم ؐکا پیغام کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کل سے اس اتھارٹی کا آ غاز کر رہاہوں ۔ ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گےاور بتائیں گے کہ سیرت کا راستہ اپنائیں ۔۔عمران خان نے ایف بی آر کی کارکردگی کو سہراتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنا ٹیکس اکھٹا کیا ہے اور اس ہی وجہ سے میں نے پرسوں ریلیف کا اعلان کیا ہے، جبکہ دنیا میں توانائی اور تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اور ہم عوام کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔ تقریب سے شرکا سے وعدہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم جتنا پیسہ جمع کریں اسے اپنے غریب لوگوں پر لگائیں گے۔بلاسود قرضوں کے اجرا سے متعلق پروگرام کے حوالے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ابتدائی طور پر کچھ صوبوں میں شروع کیا تھا اب یہ پروگرام ملک بھر میں لا رہے ہیں۔انہوں نے پروگرام کے منتظم ڈاکٹر امجد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے زندگی کا مقصد سمجھا کہ خداآخرت میں اس کو نوازتا ہے جو دنیا میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 45 لاکھ خاندان غریب ہیں، اس پروگرام کے ذریعے شہری علاقوں میں رہنے والوں کو 5 لاکھ روپے بلا سود قرضہ جبکہ دیہی علاقوں میں کھیتی باڈی کے لیے ساڑھے 3 لاکھ روپے قرضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہری جو اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں انہیں 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ خاندان کے ایک فرد کو ٹیکنکل ایجوکیشن دی جائے گی تاکہ وہ ہنر سیکھیں تاکہ وہ اپنے لیے کما سکے، اب انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسا شعبہ بن گیا ہے جس کے ذریعے آپ ایک بچے کو بھی 6 ماہ سے سال میں ٹرین کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک ہم ڈھائی روپے تک کی رقم بلاسود قرضوں کی مد میں عوام کو دے چکے ہیں، آنے والے وقتوں میں ہم مزید ایک ہزار ارب روپے کے قرضے دینے جارہے ہیں، اور اسے مزید بڑھایا جائے گا، اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ خود اپنے پیروں پر کھڑیں ہوں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کامیاب پروگرام کے تحت بلاسود قرضے حاصل کرنے والے شہریوں میں چیک تقسیم کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اخوت فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ آج کا دن ایک نئی صبح کی امید لے کر آیا ہے۔اخوت فائوندیشن 22 سال سے بلاسود قرضے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ عام آدمی کو روزگار ملے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست مدینہ ایک استعارہ ہے جس سے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل مراد ہے جس میں سماجی و معاشی انصاف ہو۔ کامیاب پاکستان پروگرام مواخات مدینہ کی طرز پر کام کررہا ہے اور وزیر اعظم کے وژن کا عکاس ہے۔ قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے ماہ فروری کا طےشدہ441ارب روپےکا ہدف عبورکرتےہوئےٹیکس وصولیوں میں 28.5؍ فیصد کا ٹھوس اضافہ کیا ہے جو ماہانہ نمو کے اعتبار سے30فیصد سے بھی زائدہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *