73

دوسری جنگ عظیم کے جاپانی کامی کازے

54 / 100

میرا نام تاکے ہیتو اینا ہے Takehito Ena اور میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کی رائل نیوی کے اسپیشل حملہ آور گروپ کا پائلٹ رہا ہوں ہمارے ہی گروپ کے پائلٹوں کو کامی کازے بھی کہا جاتا ہے ،اپریل 1945میں جنگ عظیم اپنے زوروں پر تھی اور امریکی افواج اپنے جنگی جہاز بردار بحری جہازوں کے ذریعے جاپان کی سرحدوں تک پہنچنے کے قریب تھیں،ایسے وقت میں جاپان کے پاس ایسے ہتھیاروں کی کمی واقع ہوچکی تھی جن کے ذریعے امریکہ کے دیو ہیکل جنگی جہاز بردار بحری جہازوں کو روکا جاسکے ،ایسے میں جاپانی جرنیلوں نے امریکی بحریہ کو سمندر میں ہی تباہ کرنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی تیار کی تھی جس کے تحت جاپانی فضائیہ کے جنگی جہاز بھاری بموں اوربارود سے لیس ہوکر امریکی جنگی بحری جہازوں سے ایسے ٹکرائیں کہ وہ اپنے اوپر لدے تمام جنگی جہازوں سمیت تباہ ہوجائیں ، اس مقصد کے لئے جاپانی افواج نے جاپانی پائلٹوں کی ایسی پلاٹون تیار کی تھی جس کا مقصد اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جان قربان کرنا تھا ، ایسے پائلٹوں کو کامی کازے کا نام دیا گیا تھا ،میرے خصوصی حملہ آور گروپ میں چھ ہوائی جہاز اور مجھ سمیت اٹھارہ پائلٹ تھے جنھیں کامی کازے مشن سونپا گیا تھا ، ہمارا مقصد اس وقت کے شہنشاہ ہیروہیٹو اور اپنے ملک جاپان کے لئے قربانی پیش کرنا تھا ، پندرہ مئی 1945ء کو ہمیں بتایا گیا کہ آپ کے گروپ کو تیار رہنا ہے کسی بھی وقت خصوصی مشن کا حکم آسکتا ہے ہمیں معلوم تھا کہ کامی کازے مشن ایسا مشن ہے جس کا انجام صرف موت ہے اور ہم اس مشن کے لئے بالکل تیار بھی تھے، اس رات کو ہمیں آخری وصیت تحریر کرنے کو کہا گیا ، میں نے اپنی وصیت میں والدہ سے معذرت تحریر کی کیونکہ وہ میرے اس کامی کازے مشن کے سخت خلاف تھیں جبکہ والد سے بھی معذرت کے ساتھ چند باتوں کی تاکید کی ، اگلی صبح ہمیں اوکیناوا کے قریب پہنچنے والے امریکی بحری جہاز کو تباہ کرنے کا ہدف دیا گیا ،اصل میں تو ہم کواپنے جہاز کو امریکی بحری جہازکے ساتھ ایسے ٹکرانا تھا کہ ہمارے جہاز پر لدا ہوا آٹھ سو کلو بارود اور بم امریکی جہاز کو تباہ کردیں اور وہ امریکی بحری جنگی جہاز امریکہ کے کسی کام کا نہ رہے ،اگلی صبح ہمیں جاپانی افواج کی طرف سے بہترین پروٹوکول دیا گیا ، ہم اپنے آخری مشن پر روانہ ہونے کو تھے ،ایک پل کو بھی محسوس نہیں ہورہا تھا کہ یہ زندگی کاآخری دن اور آخری مشن ہے جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھتے ہی خود پر فخر محسوس ہورہا تھا کہ اپنے ملک و قوم اور اپنے شہنشاہ کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا موقع مل رہا ہے ، کچھ ہی دیر میں جہاز آٹھ سو کلو باردو کے ساتھ رن وے پر دوڑ رہا تھا اور پھر تیز ہوائوں کو چیرتے ہوئے میں امریکی بحری جہاز کے سمت رواں دواں تھا ، میرے جہاز میں صرف اتنا ہی فیول تھا جس کے ذریعے میں امریکی جنگی بحری جہاز تک پہنچ سکوں واپسی کے لئے فیو ل تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی، کافی دیر تک پرواز کے بعد نہ صرف مجھے امریکی جنگی بحری جہاز دکھائی دینے لگا تھا بلکہ امریکی جہاز پر تعینات افواج نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا جس کے ساتھ ہی مجھے اپنے چاروں طرف آگ کی بارش نظر آنے لگی یہ وہ گولیاں تھیں جو امریکی بحری جہاز سے میرے جہاز پر فائر کی جارہی تھیں میں نے بھی بھرپور جوابی فائرنگ سے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا لیکن چند گولیاں میرے جہاز کے انجن میں پیوست ہوچکی تھیں اور اب میرا جہاز امریکی جہاز کی جانب بڑھنے کے بجائے سمندر کا رخ کرچکا تھا ،زندگی اور موت میںچند لمحوں کا ہی فاصلہ باقی بچا تھا ،مجھے افسوس تھا کہ میں چاہتے ہوئے بھی امریکی جہاز تک نہیں پہنچ پارہا تھا،امریکی جہازسے خطرناک فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تیز ہوتا جارہا تھا ان کے ہتھیار بھی بہت زیادہ جدید لگ رہے تھے ،میرے جہاز پر مسلسل گولیا ں لگ رہیں تھیں لیکن میں اب تک بچا ہوا تھا اور پھر میرا جہاز سمند میں گرگیالیکن میںزخمی نہیں تھا ، میرے ساتھ آنے والا جہاز بھی سمندر میں گرکر تباہ ہوچکا تھا لیکن پائلٹ بچ گیا تھا ،ہمارا جہاز امریکی جہاز سے خاصا دور گرا تھا لہٰذا ہم امریکی قیدی بننے سے بچ گئے ،بڑی تگ ودود کے بعد ایک جزیرے میں پناہ لی ،کئی دن زندگی اور موت کی لڑائی جاری رہی،یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جاپانی فوج کی سرچ بوٹ نے ہمیں ڈھونڈ لیاتھا ،ایک طویل سفر کے بعد ہم آٹھ جون کو ہیروشیما پہنچے جہاں دو دن قبل ایٹمی حملہ ہوچکا تھا ،زندگی موت میں تبدیل ہوچکی تھی جاپانی شہنشاہ نے شکست تسلیم کرکے اپنےعوام کو مزید موت کے منہ میں جانے سے بچالیا تھا لیکن ہیروشیما کو دیکھ کر افسوس ہورہا تھا کہ کیوں زندہ بچ گیا لیکن زندگی ابھی باقی تھی ،پھر جاپان کی ترقی کا عمل بھی دیکھا اب دنیا کو یہ بتانے کے لئے زندہ ہوں کہ جنگ سے بچیں، اس میں موت کے سوا کچھ نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں