76

5 فیصد پر کالا دھن سفید، وفاقی کابینہ نے نئی صنعتوں کیلئے ایمنسٹی کی منظوری دیدی، بیمار صنعتی یونٹس کیلئے 3 سالہ ٹیکس مراعات، تفصیلات جاری

اسلام آباد(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) صرف 5 فیصد ٹیکس دیں‘ کالا دھن سفید کریں‘ ذرائع آمدن نہیں پوچھے جا ئیں گے‘ حکومت نے تیسرا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم آرڈیننس جاری کردیا۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے آرڈیننس کی منظوری دے دی۔ سرمایہ کار ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے نئی کمپنی بنانے کا پابند ہو گا۔اس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی حتمی تاریخ دسمبر 2022 ہوگی۔ نئے یونٹ کے ذریعے جون 2024 تک کمرشل پیداوار شروع کرنا لازمی ہوگا۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت بیمار صنعتی یونٹس کو خرید کر منافع بخش بنانے والوں کیلئے سرمایہ کاری میں 3 سال تک ٹیکس استثنیٰ ہو گا۔آرڈیننس کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کرنے پر اگلے 5 سال ٹیکس چھوٹ ملے گی۔ انڈسٹریل پیکج 2022 کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق اس پیکج میں سرمایہ کاری کی کم از کم حد5 کروڑ روپے ہے ‘سال 2018 اور 2019 کی ایمنسٹی اسکیموں کے سابقہ ​​مستفید ہونے والے اس پیکج کے لیے اہل نہیں ہیں جبکہ گزشتہ تین سالوں میں بینک قرض کے نادہندگان بھی اس پیکج کے لیے اہل نہیں ہیں۔دریں اثناءوفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیا رنے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جاری انڈسٹریل پیکیج سے ملک میں معاشی انقلاب اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا‘ ٹیکس بیس بڑھا کر ٹیکسوں کی شرح کو مزید کم کیا جائے گا‘مینوفیکچرنگ کے بغیر کوئی صنعت ترقی نہیں کر سکتی‘ ‘برآمدات کے فروغ اور جی ڈی پی بڑھانے کے لیے مینوفیکچرنگ کی شرح 25 فیصد تک لانا ضروری ہے‘صنعتی شعبہ کو سہولیات فراہمی کے لیے حکومت تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے،پائیدار معاشی ترقی کیلئے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز انڈسٹریل پیکیج کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ سابق حکومت کی ناقص حکمت عملی کی سبب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے‘موجودہ حکومت کو ورثے میں تباہ حال معیشت ملی لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت درسست ٹریک پر گامزن ہو چکی ہے۔ٹیکس بیس بڑھا کر ٹیکسوں کی شرح کو مزید کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے حالیہ خطاب کو پوری قوم نے سراہا ہے جس سے اپوزیشن میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور وہ چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں