134

شمالی وزیرستان میں دہشت گردی

شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز رزمک کے علاقہ گڑیوم میں پاک فوج کے سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے حملے میں کیپٹن محمد صبیح ابرار اور سپاہی نوید اختر کی شہادت اور دو فوجیوں کا زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت کے باعث دشمن اب بھی ہمارے علاقے میں سرگرم ہے اور جب تک یہ کیفیت برقرار ہے پاکستان کے سیکورٹی ادارے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے رہیں گے، یہ انہی کی مستعدی کا نتیجہ ہے کہ اب تک متعدد دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر فائرنگ کی، جوابی کارروائی سے ایک دہشت گرد مارا گیا۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرحد پار سے جو دہشت گرد بھیجے جاتے ہیں ان کے پیچھے افغانستان میں سرگرم بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے یا پھر یہ افغان سیکورٹی فورسز کی جان بوجھ کر یا پیشہ ورانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ دہشت گرد وقتاً فوقتاً پاکستانی سیکورٹی فورسز اور شہریوں کو اپنی سفاکانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتے اور پھر اپنی پناہ گاہوں میں لوٹ جاتے ہیں تاہم اگر افغانستان تعاون کرے تو دہشت گردوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہے جس کے لیے پاکستان بارہا اپنے اس موقف کو دہرا چکا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کا قیام خود پاکستان کے مفاد میں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر سرحدی نگرانی کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ان حالات میں کہ دونوں ملکوں کا اب تک بہت جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے، ضروری ہوگا کہ افغان حکومت سرحد محفوظ بنانے اور دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کرنے میں پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں