108

امریکی تیل مارکیٹ کریش، کوئی مفت خریدنے پر تیار نہیں، منفی 37 ڈالر، پاکستان آنے والا تیل 26 ڈالر برقرار

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا کی معیشت کو بدترین نقصانات کا سامنا ہے تو دوسری طرف لاک ڈائون اور ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی ضرورت آدھے سے بھی کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بھی شدید نقصانات کا سامنا ہے۔

امریکی تیل مارکیٹ کریش کرگئی، کوئی مفت لینے کو تیار نہیں، قیمت منفی37ڈالرز،پاکستان آنےوالے خام تیل کی قیمتیں26ڈالرز پر برقرار ہیں۔

امریکی خام تیل کے ذخیرے بھر گئے، کئی ملکوں کی طلب کم ہوگئی،تیل کے کنویں بھی بند، 250فیصد سے زیادہ کمی، تاریخ میں پہلی بار منفی زون میں ٹریڈنگ، ڈائو جانس اسٹاکس 2.4 فیصد کم ہوگئے۔

ماہرین کاکہناہےکہ صرتحال ہارر شو جیسی ہے۔ پیر کا دن تیل کی صنعت کیلئے بدترین دھچکا ثابت ہوا، امریکا اور کینیڈا میں آئل مارکیٹس کریش کر گئیں جبکہ قیمتیں صفر سے بھی نیچے چلی گئیں۔

آئل مارکیٹ کریش ہونے کے نتیجے میں قیمتوں نے منفی میں جاکر نئی تاریخ رقم کر لی تاہم پاکستان آنے والے تیل کی قیمتیں 26؍ ڈالر فی بیرل پر برقرار ہیں۔

1946ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکا میں مستقبل کے تیل کے سودے اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتیں زمین بوس ہو کر صفر سے بھی نیچے گر گئے ہیں۔

تیل کی پیداوار میں خود کو خود کفیل سمجھنے والے ملک امریکا کےخام تیل کی قیمتیں منفی 37ڈالرز فی فی بیرل تک جا پہنچیں اور مراعات اور سستا تیل فروخت کرنے کے لالچ اور پیشکشیں بھی کام نہیں آ رہیں، یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے تیل کے سودے صفر سے بھی نیچے جا چکے ہیں۔

تقریباً 8؍ دہائیوں کے دوران امریکی تاریخ میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے اتنی کم ترین سطح پر کبھی نہیں آئیں۔

امریکا میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل منفی 37 ڈالرزفی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ انٹرنیشنل بینچ مارک برینٹ کروڈ اپنی کم ترین سطح 26.35؍ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔

صورتحال اس لحاظ سے بھی خراب ہے کہ امریکا میں تیل اسٹوریج کے ٹینک بھر چکے ہیں، جون مہینے کیلئے پیشگی کیے جانے والے معاہدے کیلئے قیمتیں 10؍ فیصد گر گئیں اور اب اس کی نئی قیمت 22.54؍ ڈالر فی بیرل بتائی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی طلب میں کمی کے بعد تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ سرمایہ کار اب بھی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے کے نتیجے میں قیمتوں میں استحکام آئے گا یا نہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب اور پیچیدہ ہو چکی ہے کہ تیل سستا ہونے کے باوجود مختلف ملکوں کی جانب سے خریداری نہیں کی جا رہی کیونکہ ان ممالک میں تیل ذخیرہ کرنے کے وسائل ختم ہو چکے ہیں جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس بھی اسٹوریج کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔

ایوا ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ نعیم اسلم کہتے ہیں کہ جتنی زیادہ پیداوار ہوگی اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے، اگر پیداوار کم ہو جائے تو پیداواری لاگت اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس سے ایک طرف تیل کی فروخت نہ ہونے کا نقصان ہوتا ہے جبکہ پیدواری لاگت بڑھنے سے بھی نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں تیل کی قیمتوں میں 90؍ فیصد سے بھی زائد حد تک گراوٹ کے نتیجے میں ڈائو جونز مارکیٹ ڈیٹا کی صورتحال مارچ 1983ء جیسی ہوگئی ہے جب تیل 21.99؍ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوتا تھا۔

فاکس نیوز کے پرائس گروپ فیوچرز کے مارکیٹ اینالسٹ فل فلین نے اس صورتحال کو خوفناک فلم (ہارر شو) قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم تیل کی ڈلیوری کے معاملے میں بدترین دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں کیونکہ دنیا میں تیل کی طلب تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ اوپیک ممالک تیزی سے پیداوار میں کمی نہیں کر رہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق رواں ماہ دنیا بھر میں تیل کی طلب میں 2؍ کروڑ 90؍ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ریکارڈ کی جائے گی۔ کم سطح پر معاشی سرگرمیوں کا مطلب خام تیل اور اس کی ذیلی مصنوعات بشمول پٹرول اور ڈیزل کی کم طلب کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں زوال کی ایک وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان معاشی جنگ بھی ہے۔ تیل کی پیدوار کے معاملے میں امریکا کے خود کفیل ہونے کے بعد روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار پر تنازع شروع ہوا تھا۔

سعودی عرب نے قیمتوں میں اضافے کی غرض سے تیل کی پیداوار میں کمی کی۔ سعودی عرب اس کے ذریعے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی مندی کو کم کرنا چاہتا تھا لیکن اسی دوران روس نے اپنا رد عمل ظاہر کیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ساتھ تعاون کرنا بند کر دیا۔

روس ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی برآمد میں سعودی عرب کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور یہی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا سبب ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2016 میں روس اور سعودی عرب نے ویانا میں 11 غیر اوپیک ممالک (جن کی تعداد اب 10؍ ہو چکی ہے) اور اوپیک ممالک کے مابین ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد قیمتوں کو مستحکم رکھنا تھا نہ کہ کم کرنا۔

ابتدا میں یہ معاہدہ 6؍ ماہ کیلئے تھا لیکن بعد میں اس کی آخری تاریخ میں توسیع کی گئی تھی جسے بعد میں اوپیک پلس کہا گیا۔ اس کے تحت اوپیک اور روس کی سربراہی میں اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل کی پیداوار میں توازن برقرار رکھنے پر کام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں