artural ghazi 106

معروف ترک سیریز یکم رمضان سے اردو ڈبنگ میں نشر کی جائے گی

زیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اردو زبان میں ڈب کی جانے والی اسلامی تاریخ پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز کو’دیرلیش ارطغرل‘ رمضان میں ’ارطغرل غازی‘ کے نام سے سرکاری ٹی پر نشر کیا جائے گا۔
زیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اردو زبان میں ڈب کی جانے والی اسلامی تاریخ پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز کو’دیرلیش ارطغرل‘ رمضان میں ’ارطغرل غازی‘ کے نام سے سرکاری ٹی پر نشر کیا جائے گا۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تاریخی ترک ڈرامے ’دیرلیش ارطغرل‘ کا اپنی تقریر میں ذکر کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ترک سیریز اردو میں ڈب ہو تاکہ ہمارے لوگوں کو مسلمانوں کی تاریخ کا پتہ چلے۔

مسلم تاریخ سے شغف رکھنے والے پہلے ہی اس سیریز کے دلدادہ ہیں اور تقریباً پوری دنیا کو اس ڈرامے نے اپنی جانب راغب کیا ہوا ہے۔

دیرلش کی تحریر و تخلیق کار محمت (محمد) بوزدک ایک منجھے ہوئے فلم ساز ہیں۔
انہوں نے کمال مہارت سے روایتی اسلامی عقائد کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بُرائی کے خلاف لڑنے والے ہیرو کی کہانی کے ساتھ ملا کر جس طرح اس شو کے ذریعے پیش کیا ہے وہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے۔

ارطغرل اپنے پلاٹ ، اپنی پروڈکشن اور اداکاری کے اعتبار سے بلاشبہ ایک شاہکار ہے۔ ’ارطغرل‘ ترکی کے خانہ بدوش قبیلے ’قائی‘ کی کہانی ہے۔

قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جو ایک طرف بے رحم موسموں کے نشانے پر ہے اور دوسری جانب منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہے۔
مت و جرات کی یہ عجیب داستان ہے کہ چرواہوں کا یہ خانہ بدوش قبیلہ جو جاڑے کے بے رحم موسم میں قحط سے بچنے کے لیے حلب کے امیر سے ایک زرخیز چراگاہ میں قیام پزیر ہونے کی اجازت مانگ رہا ہوتاہے آگے چل کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھ دیتاہے جو آٹھ سو سال قائم رہتی ہے۔

دیرلیش ارطغرل کی مقبولیت:

اس ڈرامے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ٹی آر ٹی کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل ابراہیم ایرن کے مطابق یہ ڈرامہ 60 سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے۔اب تک دنیا کے 78ممالک میں یہ سیریز دیکھی جا رہی ہے جس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔

فنی اعتبار سے تو یہ ڈرامہ ایک شاہکار ہے ہی، اس کی ایک اور خوبی بھی ہے ہے کہ یہ مسلمانوں پر مسلط کردہ احساس کمتری کا طلسم کدہ توڑ کر پھینک دیتا ہے۔

ڈرامے کا یہ تہذیبی پہلو اتنا شاندار ہے کہ 2007 میں نیویارک ٹائمز میں ولیم آرمسٹرانگ نے لکھا کہ طیب اردوان اور ترکی کی نفسیات جاننے کے لیے ’ارطغرل‘ ڈرامہ دیکھ لیجیے۔

اس بیان نے پروپگینڈے کی ایک صورت اختیار کر لی جس کے بعد اردوان نے ’ارطغرل‘ کے خلاف ہونے والے اس سارے پروپیگنڈے کے جواب میں صرف ایک فقرہ کہا کہ’جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں