دلی فساد کے نرغے میں پھنسنے والے محمد زبیر کی آپ بیتی 234

دلی فساد کے نرغے میں پھنسنے والے محمد زبیر کی آپ بیتی

سفید کرتے پاجامے پر خون کے چھینٹے۔ زمین پر سجدہ ریز ایک غیر مسلح نوجوان جو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ہتھیلیاں سر سے بہنے والے خون سے رنگین ہیں۔ وہ چاروں طرف سے فسادیوں میں گھرا ہوا ہے۔ فسادی اسے لاٹھی، ڈنڈے اور لوہے کی سلاخوں سے پیٹ رہے ہیں۔

37 سالہ محمد زبیر کی یہ تصویر دہلی فسادات کے سانحے کا چہرہ بن گئی ہے۔ ایک ایسا چہرہ جس کے زخم ابد تک رستے رہیں گے۔ وہ چہرہ جس کے زخم شاید کبھی نہ بھر سکیں۔

شمال مشرقی دلی کے رہائشی زبیر جب سوموار کو قریی مسجد میں ہونے والے سالانہ اجتماع میں شامل ہونے کے لیے گھر سے نکلے تھے تو انھیں یہ گمان بھی نہ گزرا ہوگا کہ ان کی دنیا کس طرح بدلنے والی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پیر کے دن میں دعا میں شامل ہونے کے لیے عید گاہ گیا تھا۔ دُعا سے فارغ ہونے کے بعد، میں نے اپنے بہن بھائیوں اور بچوں کے لیے کچھ کھانے کی اشیا خریدیں۔ میں ہر سال اجتماع کے بعد بچوں کے لیے حلوہ پراٹھے، دہی بڑے، اور نان خطائی خریدتا ہوں۔ اس دن بھی خریدا۔ نان خطائی نہیں ملی تو بچوں کے لیے نارنگی خریدی۔ پہلے میں نے سوچا کہ بہن یا کسی رشتہ دار کے ہاں چلا جاؤں۔ پھر سوچا کہ پہلے گھر جاتا ہوں۔ آس لگائے بیٹھے بچے خوش ہوں جائيں گے۔’

اس دن زبیر جلدی میں اپنا فون لیے بغیر ہی گھر سے نکل گئے تھے۔
وہ یاد کرتے ہیں: ‘میں عیدگاہ سے گھر کی طرف چل پڑا۔ جیسے ہی کھجوری خاص کے آس پاس آیا، مجھے معلوم ہوا کہ وہاں بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ ہندو مسلم ہو رہا ہے۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ بھجن پورہ میں سب وے سے ہوتے ہوئے چاند باغ پہنچ جاؤں گا۔ جب میں بھجن پورہ مارکیٹ پہنچا تو بازار بند تھا۔ وہاں بھیڑ تھی۔ شور شرابہ مچا ہوا تھا۔ میں وہاں سے نکلا۔ میں نے کرتا پاجامہ اور ٹوپی پہن رکھی تھی۔ پورا اسلامی لباس تھا۔ جب میں وہاں سے جانے لگا تو کسی نے مجھ سے کچھ نہیں کہا۔ پھر میں سب وے سے نیچے اترنے لگا۔ وہاں ایک شخص مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا کہ آپ نیچے مت جاؤ۔ وہاں خطرہ ہوسکتا ہے۔ آپ آگے سے نکل جاؤ۔’

ایسے ٹوٹ پڑے جیسے میں ان کا شکار تھا
اس شخص کی بات مان کر زبیر سب وے سے نہ جا کر سامنے سے جانے لگے۔ جب وہ آگے بڑھے تو انھوں نے دیکھا کہ دونوں طرف سے شدید پتھراؤ ہو رہا ہے۔

زبیر کہتے ہیں: ‘ایک طرف ہزاروں کا ہجوم تھا۔ دوسری طرف کتنے لوگ تھے میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ لیکن پتھراؤ دونوں طرف سے ہو رہا تھا۔ یہ دیکھ کر میں ڈر گیا اور پیچھے ہٹنے لگا۔ اسی وقت بھیڑ میں موجود کچھ لوگوں نے مجھے دیکھ لیا۔ اس کے بعد ایک لڑکا حملہ آور انداز میری طرف بڑھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ میری اس سے تھوڑی سی بحث ہوئی اور اس کے بعد بہت سارے لوگ آکر مجھ پر ٹوٹ پڑے جیسے میں کوئی شکار تھا۔’

زبیر کہتے ہیں: ‘سر پر ایک راڈ ماری۔ بھر دوسری بار، پھر تیسری بار، لگاتار مار پڑتی رہی۔

‘میرے سر پر اتنی راڈ پڑیں کہ میں اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ میرے ہوش جانے لگے۔ آس پاس کی آوازیں گم ہونے لگیں۔ پھر کسی نے میرے سر پر تلوار مار دی۔ اللہ کا کرم کہ تلوار میرے سر پر مکمل طور پر نہیں گری اور پہلو میں گری۔ اگر میرے سر پر پڑتی تو بچ جانے کا حساب کتاب ختم ہوجاتا۔’

حملہ آور زبیر کو مارتے رہے۔ اتنا مارا گیا تھا کہ زبیر کو لگا کہ اب ان کی موت یقینی ہے۔
‘میں نے کہا، اللہ اب آپ کے پاس آنا ہے’
وہ کہتے ہیں: ‘میں نے اللہ کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ میں نے دل ہی دل میں کہا، اللہ اب تیرے پاس آنا ہے۔ کوئی امید نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ 20-25 آدمی تھے۔ ان کا ہاتھ جب تک چلتا رہا، وہ مجھے مارتے رہے۔ ایک کے بعد ایک، کبھی ڈنڈا، کبھی راڈ۔۔۔ اتنا مارا گیا کہ میں بتا بھی نہیں سکتا۔’

زبیر کا کہنا ہے کہ حملہ آور انھیں پیٹتے ہوئے ‘جئے شری رام’ اور ‘مارو ملا کو’ جیسے نعرے لگارہے تھے۔ مار پڑنے کے بعد، زبیر کو بس اتنا یاد ہے کچھ لوگ انھیں اٹھا کر لے جا رہے تھے۔

انھیں اٹھا کر لے جانے والے لوگ کہہ رہے تھے ‘پلی پار لے چلو، جلدی لے چلو۔’

اس کے بعد زبیر کو کچھ ہوش ایمبولینس اور پھر ہسپتال میں آیا۔ ہسپتال میں ان کے پاس اپنا کوئی نہیں تھا۔ انھوں نے قریبی لوگوں سے اپنا فون نمبر دے کر اپنے گھر والوں کو بلانے کی درخواست کی۔

زبیر یاد کرتے ہیں: ‘اس وقت ڈاکٹرز مجھے زیادہ توجہ نہیں دے رہے تھے۔ مجھے اپنے سر میں بہت تکلیف تھی۔ بہت خون بہہ رہا تھا۔ میرے سامنے ایک اور شخص بھی تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔ میں ڈاکٹر کو کہتے سنا کہ دونوں ہاتھ کاٹ دینے پڑیں گے۔ میں یہ سب سن کر خاموش ہو جاتا تھا۔ مجھے لگا کہ یہاں مجھ سے زیادہ پریشانی میں کوئی ہے۔’

وڑھی ماں صرف روتی ہے۔۔۔
زبیر کو ٹانکے کب لگے یاد نہیں۔ ان کے سر میں 25-30 ٹانکے لگے ہیں۔ وہ افسردہ ہیں کہ اب تک حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے آیا ہے۔

ابھی تک زبیر ایف آئی آر بھی نہیں کرا سکے ہیں کیونکہ نہ تو وہ اس حالت میں ہیں اور نہ ہی ان کے اہل خانہ۔ یہاں تک کہ اسے ہسپتال سے ایم ایل سی بھی نہیں ملا ہے جو ایف آئی آر کے لیے اہم ہے۔

زبیر کے بچے اور اہل خانہ بھی ان سے چار دن بعد ہی مل پائے۔ ان کی تصویر دیکھ کر اہل خانہ کو لگا کہ وہ زندہ نہیں بچیں گے۔

زبیر کی بوڑھی والدہ نے بھی انھیں چار دن بعد ہی دیکھا۔ ان کا رو رو کر برا حال ہے۔ وہ نہ تو میڈیا سے بات کرتی ہیں اور نہ ہی زیادہ بولتی ہیں۔

صرف روتے ہوئے کہتی ہیں: ‘مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے۔ میں حکومت سے کچھ نہیں چاہتی۔ خدا کا شکر ہے میرا بیٹا بچ گیا۔ اب ہمیں تنہا چھوڑ دو۔’

‘جب مجھےپیٹا رہا تھا پولیس وہیں گھوم رہی تھی’
کیا زبیر حکومت سے کچھ کہنا چاہیں گے؟

جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہم حکومت سے کیا درخواست کریں گے۔ ہمیں ایسی حکومت سے کیا امید رکھنی چاہیے جو فسادات کو نہیں روک سکے؟

جب پولیس کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو زبیر نے کہا: ‘جب مجھے مارا پیٹ
ا جارہا تھا تو پولیس والے وہاں چاروں طرف گھوم رہے تھے۔ اس کے باوجود فسادی بالکل بے خوف تھے۔ گویا کوئی میلہ لگا ہوا ہے۔ جیسے انھیں کچھ بھی کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہو۔ جب مجھے مارا جارہا تھا تو میں نے دیکھا کہ پولیس والے وہیں ٹہل رہے تھے۔ جیسے وہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا ان کا اس سے کوئی مطلب نہیں تھا۔

محمد زبیر نے کہا کہ اس سے قبل ان کی کسی سے کبھی لڑائی یا تُو تُو میں میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے نہ تو انھیں کسی نے ‘تو’ بولا تھا اور نہ ہی انھوں نے کسی کو ‘بے’ کہہ کر پکارا تھا۔

زبیر کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں انھیں چوٹ نہ لگی ہو۔ سارا جسم نیلا ہے۔ اتنی چوٹوں کے باوجود وہ مقامی ڈاکٹر سے ہی مرہم پٹی کروا رہے ہیں۔

وہ کچھ دن بعد بڑے ڈاکٹر کے پاس جائیں گے کیونکہ انھیں ابھی بھی ماحول خراب ہونے کا ڈر ہے۔ بات کرتے ہوئے وہ درمیان میں کراہ اٹھتے ہیں۔
انھیں ہندو نہیں کہہ سکتے’
کیا وہ خوفزدہ ہیں؟ کیا وہ ناراض ہیں؟ جب ان سے پوچھا گیا تو زبیر کہتے ہیں کہ جب فسادیوں نے انھیں مارا تھا تب بھی وہ خوفزدہ نہیں تھے۔

وہ کہتے ہیں: ‘کچھ درندے زیادہ سے زیادہ آپ کی جان لے سکتے ہیں۔ وہ کچھ اور نہیں کرسکتے ہیں۔ میں اس وقت بھی نہیں ڈرا اور آج بھی نہیں۔ ڈرنا بہت بڑی بزدلی اور کمزوری کی علامت ہے۔ خوف اس وقت ہوتا ہے جب آپ کوئی جرم کر رہے ہو، گھناؤنے کام کر رہے ہو۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، پھر خوف کیسا ہے؟ خوف تو انھیں ہونا چاہیے جو ایک نہتے شخص کو مار رہے تھے۔’

زبیر کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ کبھی بھی ملک کے دارالحکومت دہلی میں ایسا کچھ دیکھیں گے۔

زبیر بولتے ہوئے قدرے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ تھوڑا سا توقف کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں: ‘میں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں۔ ہندو مذہب، اسلام، عیسائیت۔۔۔کوئی دھرم، کوئی مذہب کبھی بھی غلط سبق نہیں دیتا۔ جنھوں نے میرے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ بچوں کے لیے خوشی خوشی کھانا لے جانے والے ایک غیر مسلح شخص کو تلوار سے مارنا، ڈنڈے سے مارنا، راڈ سے مارنا۔۔۔ ایسے لوگوں کو انسانیت کا دشمن اور درندہ ہی کہا جائے گا۔ میں ان کو کسی مذہب سے جوڑنا درست نہیں سمجھتا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ہندوؤں نے میرے ساتھ ایسا کیا۔ ایسا کرنے والا نہ ہندو ہو سکتا ہے اور نہ مسلمان۔ ہر مذہب پیار محبت اور امن کا پیغام دیتا ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں