153

کرتاپورراہداری!حکومت کرنا چاہے تو بہت کچھ کرسکتی ھے

*کرتاپورراہداری!حکومت کرنا چاہے تو بہت کچھ کرسکتی ھے*
میں سرکاری دورے پہ کرتارپورکیوں گیا?.26جنوری شام بجے واک کرتے ہوئے برادرم پیرضیاء الحق نقشبندی صاحب نے دورہ کرتارپور کے متعلق بتایا اور ساتھ چلنے کی دعوت دی .مجھے اس جگہ اور دورہ سے صرف اتنی دلچسپی تھی کہ قادیانیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ نت نئ افواہیں سننے کو ملتی ہیں جبکہ کسی چیز کے بارے کوئ رائے قائم کرنا کہ وہ رحمانی ھے یا شیطانی,جائزو ناجائز میں فرق جاننے کے لئے قریب سے جائزہ,مطالعہ اور مشاھدہ کرنا ضروری ھے. یہی میرا مقصد تھا.یہ دورہ صاحبزادہ پیر سید سعید الحسن شاہ صاحب صوبائی وزیر اوقاف کی زیر قیادت تھا.محکمہ اوقاف پنجاب نے اس کے انتظامات کررکھےتھے وایوان اوقاف مال روڈ لاہور سے روانہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس قافلہ میں شھر لاہور سے مختلف مکاتب فکر کے تقریبا 62 کے قریب علماومشائخ اور علمی ودینی شخصیات شامل ہیں.جن میں مولانا مفتی محمدرمضان سیالوی خطیب جامع مسجد داتا دربار,ممتازکالم نگارپیرمحمدضیاءالحق نقشبندی,مولانامفتی محمدعمران حنفی داراافتاء جامعہ نعیمیہ,مولانامحمدعبداللہ ثاقب,مولاناقاری محمدشفیق اللہ اجمل,مولانا پروفیسرممتازربانی.علامہ میرآصف اکبرصاحب,مولاناصاحبزادہ عبدالخبیرآذاد خطیب جامع مسجدبادشاہی ,مولانا حافظ کاظم رضا صاحب,محترم حاجی شاہدحمیدقادری,محترم ڈاکٹرفیاض حسین رانجھا,مولانا عبداللہ روپڑی صاحب ودیگرعلماومشائخ شامل تھے.تقریبا سبھی علماہی تمیز خیر و شر کے جذبے سے ہی گئے تھے. تمام علمائے کرام ہی اس پروجیکٹ کاعمیق نظری سےمشاہدہ کرنا چاہتے تھے.کرتارپور نارووال شہر سے تقریبا 25کلومیٹر ایک سرحدی علاقہ ھے.جو کہ انڈین بارڈر سے 4کلومیٹر کی دوری پرھے. یہاں پہنچنےپر پروجیکٹ کے انچارج جناب برگیڈئیر (ر) عمران صاحب نے وفد کا استقبال کیا اور پھر ایک بڑی سی بلڈنگ میں لے گئے. پروجیکٹ کے بارے10 منٹ کی ایک ڈاکومنٹری مووی دکھائ گئ اور پھر خود تفصیلی بریفنگ دیتے ھوئے بتایا کہ اس توسیع سے قبل یہ جگہ چارصرف ایکڑتھی اور اب نئ توسیع کے بعد 104 ایکڑ پرمحیط ھے.تعمیر نو کے وقت 100 سال قبل گردوارہ کےپرانے حصے کو جوں کا توں ہی باقی رکھا گیا .یہاں پر سکھوں کے مذیبی پیشوا گرونانک نے سولہویں صدی میں اپنی زندگی کے 18سال گزارے.اس منصوبہ سے قبل انڈیا کے سکھ انڈیا کی طرف سے آتے بارڈر کے اس پار کسی اونچی جگہ پہ کھڑے ھوکردوربینوں کے ذریعے تھوڑا بہت درشن کرکے وہاں سے ہی دل میں اپنے مذہبی مقام کے درشن کی ادھوری کسک لیکر واپس چلے جاتے.قریب آکردرشن نہیں کرسکتے تھے اور بہت سارے جو آنا چاہتے تھے تو لاکھوں روپیہ خرچ کر کے ویزہ لگوا کربائے ائیر یا ٹرین کے راستے آنا پڑتا تھااور ادھر آ کر ھوٹلوں مخں قیام کرنے پڑتے. حکومت پاکستان نے خصوصا آرمی چیف جناب قمرجاویدباجوہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی دلچسپی پر سکھوں کی سھولت کے لیے کرتارپور راہداری منصوبےکو ایک سال کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا.اس راہداری کوکھولنے کے لئے یہاں دونوں ملکوں کے قوانیں اور دیگر مسائل آڑے آئے وہاں بارڈر اور گردوارے کے درمیان بہتا ھوادریائے راوی بھی بڑی رکاوٹ تھا. اس راہداری کے لئے سب سے پہلے دریائے راوی پر آٹھ سو میٹر یعنی ایک کلومیٹر سے صرف دو سو میٹر کم ایک بہت بہترین قسم کا پل تعمیر کیا گیا.اس سارے منصوبے کو باڑلگاکرمحصورکیا گیاھے. رینجر کے چاک وچوبند دستے 24گھنٹے اس سارے منصوبےکی سخت سکیورٹی پرمعمورہیں. سکیورٹی کے متعدد حصار قائم کئے گئے.رینجرز کے اہلکار چوبیس گھنٹے ,موٹربایکس,گھوڑوں,اور پیدل ڈویوٹی دیتے ہیں.انڈیا سے آنیوالے لوگوں کے لئے پورا ائیرپورٹ والا نظام بنایا گیا ھے.ایف آئ اے اور امیگریشن سے متعلقہ تمام ادارے وہاں موجود ہیں.آنیوالے ہرشخص کے دسیوں فنگرپرنٹ سمیت تمام ریکارڈ محفوظ کرکے ایک نارنجی (orange)رنگ کا کارڈگلے میں لٹکانے کے لئے فراہم کیا جاتا ھے. جبکہ پاکستان کی طرف س اس جگہ کاوزٹ کرنیوالے وزیٹرزکو گرین رنگ کا کارڈ دیا جاتا ھے.صبح 8 بجے انڈیاکرطرف سے لوگ کی آمد کا سلسلہ شروع ھوتا ھے.شام 5بجے سے قبل آئے ھوئے سکھ یاتریوں اور دیگرلوگوں کا واپس جانا ضروری ھے. یہ بات قابل ذکرھے کہ اس راہداری سے آیاھوا کوئ فرد بھی پاکستان کے دوسرے کسی شہر یا علاقے میں نہیں جاسکتا.اور نہ ہی ابھی یہاں رات رہ سکتا ھے.
برگیڈئر(ر)عمران الطاف صاحب نے بریفنگ کے بعد ایک بڑی بس کے ذریعے اس سارے پراجیکٹ کا علمائے کرام کو خود ساتھ جاکر وزٹ کروایا حتی کہ انڈین بارڈر پہ پاکستان اور انڈیا کے بارڈردروازے کے پاس لے گئے.امیگریشن ایریا اور اس کے تمام پراسس کا معائنہ بھی کروایا.جگہ جگہ سکیورٹی کیمرے نصب ہیں .یوں پورا منصوبہ اور مکمل راہداری اعلی قسم کے سکیورٹی کمیروں کی زد پہ ھے ایک انچ جگہ بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی نظر سے اوجھل نہیں ھے. پانچ ہزارسکھ یاتری بیک وقت یہاں آ سکتے ہیں . ایک بڑاوسیع وعریض مہمان خانہ بنایا گیا ھے یہاں ایک وقت میں2500 افرادکھانا کھا سکتے ہیں. 2000 افراد کی رہائش کا انتظام ھے.ایک بڑی لائبرئری,میوزیم.
میڈیکل سنٹر,مسلمانوں کے لئے بڑی جامع مسجد.بھی شامل ھے.
یہ پراجیکٹ واقعی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے اوربراعظم ایشیاء کی بڑی عمارتوں میں سے ایک بڑی عمارت ہے.
بریفنگ کے دوران وقفہ سوالات میں مولانا عبداللہ ثاقب صاحب نے سب سے پہلے وہی سوال کیا جو نہ صرف وفدمیں شامل تمام شخصیات بلکہ ہرپاکستانی مسلمان کے دل کی آواز تھی .سوال یہ تھا کہ انڈیا سے صرف سکھ کمیونٹی کے لوگ ہی آ سکتے ہیں یا دیگر کمیونٹیز کے لوگ بھی یہاں آسکتے ہیں.تو برگیڈئرصاحب نے بتایا کہ اگرچہ یہ جگہ سکھوں کے لئے ایک مقدس مقام ھے مگر اپنی خوبصورتی,فن تعمیر اوردلکش مناظراور محل وقوع کے لحاظ سے یہ ایک انٹرنیشنل اہمیت کاپراجیکٹ بن چکاھےانڈیا سے کوئ بھی فرد اسے دیکھنے اور گھومنے پھرنے آسکتا ھے.اصل چیز یہ ھے کہ وہ پاکستان کے دیگر شھروں اور علاقوں میں ہرگز نہیں جاسکتے. صبح ہرآنیوالے کو شام کو واپس جانا ھوتا ھے. اور وہ کسی طرح بھی لگی ھوئ باڑ اورسکیورٹی حصارکوعبورکرکے پاکستان کے کسی دوسرے شھریا علاقے میں نہیں جاسکتا.یہاں 20 ڈالرکے عوض ویزہ گردوارے اور اور کرتارپور راہداری کے وزٹ کے لئے صرف صبح 8 تا شام5بجے تک کے لئے جاری ھوتا ھے.انڈیا اس منصوبے کو ناکام کرنا چاہتا ھے اس لئے انڈیا کی طرف سے یہاں آنے والوں کے لئے کئ رکاوٹیں ہیں جسکی وجہ سے ابھی روزانہ صرف400 کے قریب لوگ یہاں آتے ہیں.اگر پاکستان کی طرح انڈیا بھی سکھوں کے مذہبی جذبات کا خیال کرتا ھوئے انڈیا سے آنیوالوں کے لئے سھولیات فراہم کرے تو یہاں روازنہ ہزاروں لوگوں کے وزٹ کی وجہ سے یہ علاقہ مذید اہمیت اختیار کرسکتا ھے.
مولانا حافظ کاظم حسین صاحب نے برگیڈئرصاحب سے پوچھا کہ جناب اس منصوبے پراتنا پیسہ خرچ کرنے کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوا تو اس پر برگیڈئرصاحب نے بتایا کہ پوری دنیا میں اس منصوبے سے ہاکستان کے بارےسوفٹ ایمیج کا پیغام گیا ھے.پوری دنیا دیکھ رہی ھے کہ انڈیا میں مودی سرکاراپنے ملک میں اقلیتوں پر کیا ظلم کر رہی ہے. جبکہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات نہ صرف ہیں بلکہ انھیں سرکاری طورپہ توسیع اور سھولیات بھی فراہم کی جارہ ہیں.یہاں ہر طرح کے مکتب فکر اور مذاہب کے لوگوں کو قانون کے مطابق اپنے مذہب اوردین ,دھرم کے مطابق اپنی عبادت کرنے کی آزادی ہے.
انڈیاکی طرف سے آنیوالےہر وزیٹر کے لئے ضروری ھے کہ وہ 20 ڈالرپاکستان قومی خزانے میں جمع.جس کے لئےیہاں نیشنل بنک کی برانچز بنی ھوئ ہیں.مسقبل قریب میں اس کے پاکستانی معیشت پربڑے اچھے اثرات مرتب ھوں گے.
تمام بریفنگ اور اس وزٹ کے عمیق مشاہدہ کے بعدیہ کہنا بالکل غلط ھوگا کہ یہ راہداری قادیانیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائ گئ ھے.یاد رھے قادیانیوں کا جو یار ھے وہ غدار ھے اور ایسے ہی کسی مسلمان پہ شک یا اپنی ذاتی وطبعی عداوت کی بنا پربلاثبوت وتحقیق کسی مسلمان کو قادیانی قراردینا بھی بڑا جرم ھے.اس حوالے بڑی احتیاط کی ضرورت ھے .حدیث مبارکہ کے مطابق جو کسی مسلمان کوکافر کہےاور وہ کافر نہ ھوتو ایسی صورت میں کہنے والا خود کافرھوجاتا ھے.
الغرض کرتارپور راہداری حکومت پاکستان کا بہترین اور کثیرالمقاصد منصوبہ ھے.یہ منصوبہ جہاں سکھوں کے لئے خوش آئند ھے وہاں اسکی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں کو بہت سی سھولیات میسر آئیں ہیں.اس انٹرنیشنل پراجیکٹ کی وجہ سے جس زمین کی قمیت فی ایکڑ3 سے 4 لاکھ تھی اب وہی زمین 40 لاکھ روپے فی ایکڑ ھوچکی ھے.یہی وجہ کہ اس منصوبے کی وجہ سے جہاں دنیابھرکی سکھ کمیونٹی وزیراعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جناب قمرجاوید باجوہ صاحب کے شکرگزار ہیں وہاں اس علاقے کے مکین بھی انھیں دعائیں دے رھے ہیں.حکومت کو چاہئے کہ ایسے مذید منصوبے بنائے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ھو.اقوام عالم میں وطن عزیزکی اچھی شھرت ھو.اس منصوبے کو دیکھ کرمیرے اس یقین میں مذید اضافہ ھواکہ حکومتیں کرنا چاہیں تو بہت کچھ کرسکتی ہیں. ایک سال کی انتھائ مختصر مدت میں اتنا بڑےمنصوبے کی تکمیل ایک عجوبے سے کم نہیں ھے.چنانچہ ارباب اقتدارسے یہ کہوں گا کہ سکھوں کی طرح مسلمانوں کو بھی انکے مقدس مقامات خصوصا حرمین طیببن کے لئے ویزہ اور دیگر سفری سھولیات کو آسان اور سستا کیا جائے.مساجد اور مزارات کی مذید تزئین وآرائش کی جائے.یہ بات حقیت ھے کہ یہ ملک اسلام اور مسلمانوں کے لئے بنا تھا.لھذا انھیں بھی اپنے مذہبی مقامات کی حاضری خصوصا حج اور عمرہ کے لئے بھرپور سھولیات اور آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں.اس سے مسلمانوں کی دعائیں بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کی جائیں. جو یقیناوزیراعظم اور جناب آرمی چیف صاحب کا حقیقی اثاثہ ھوگا.
آخرمیں اپنے قارئین سے گزارش کروں گا کہ کرتارپور سمیت کسی بھی حکومتی منصوبے کو گھر بیٹھے طعن وتشنیع کرنے کی بجائے پوری طرح تحقیق کرلیں.میرے رسول علیہ السلام کا فرمان عالیشان ھے کہ “کسی شخص کے جھوٹا ھونے کے لئے یہی کافی ھے کہ وہ سنی سنائ بات پہ یقین کرتے ہوئے آگے پھیلائے” بریفنگ اور کرتارپور راہداری کے قوانین اور سکیورٹی کے مطابق تو قادیانی اس راستے پاکستان ہرگزنہیں آسکتے. بیشک کسی بھی مسلمان ختم نبوت کے غداروں, قادیانیوں سے ذرا بھی ہمدردی نہیں ھے.مگر اسکا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہم شکوک وشبھات کی بنا پر اپنے ملک کی ترقی وخوشحالی میں روڑے اٹکائیں.محب وطن احباب گہری نظر رکھیں جیسے ہمیں یہ راہداری کبھی بھی قادیانیوں کے لئےاستعمال ھو برداشت نہیں ھے ایسے ہی اس منصوبے کے خلاف بلا تحقیق وثبوت آوازیں بھی مودی جراثیم سے لتھڑی ھوسکتی ہیں.محب وطن ضرور شئرکریں.شکریہ
واللہ اعلم بالصواب.
محمدنعیم جاویدنوری
صدر جے یوپی لاھور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں