256

صادق سنجرانی کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی۔

ایوان بالا (سینیٹ) میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہو نے پر ووٹوں کی گنتی کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر بیرسٹر سیف نے اعلان کیا کہ قرار داد کے حق میں 50 ووٹ ڈالے گئے جو مطلوبہ تعداد کو پورا نہیں کرتے لہٰذا قرار داد مسترد ہو گئی۔

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرار داد پر کل 100 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 4 مسترد ہوئے۔

سینیٹر بیرسٹر سیف نے اجلاس کی صدارت کی، وہ پریزائیڈنگ آفیسر بھی ہیں۔

سینیٹ اجلاس سے قبل معمول کی گھنٹیاں بجائی گئیں، پریزائیڈنگ آفیسر بیرسٹر سیف نے قائدِ ایوان راجہ ظفرالحق کو تحریک پیش کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد راجہ ظفرالحق نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی۔

پریزائیڈنگ آفیسر نے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے والوں کے نام پڑھ کر سنائے۔

چیئرمین سینٹ کون ہوگا: فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

پریزائیڈنگ آفیسر نے ووٹنگ کے لیے طریقہ کار سے آگاہ کیا، جس کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئی، ووٹ ڈالتے وقت موبائل یا کیمرہ پولنگ بوتھ میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹنگ کا آغاز ہوتے ہی پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم نے کاسٹ کیا۔

جس کے بعد سینیٹرز کے نام انگریزی حروفِ تہجی کی ترتیب سے ایک ایک کر کے پکارے گئے اور سینیٹرز نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی ایوان میں موجود تھے جنہوں نے اپنی باری آنے پر ووٹ کاسٹ کیا۔

سینیٹ اجلاس کے لیے بیلٹ بکس اور پولنگ بوتھ ایوان میں پہلے ہی پہنچا دیئے گئے تھے، جبکہ ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار اسکرینز پر آویزاں تھا۔

ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن سینیٹرز بھی موجود تھے، مشاہد اللّٰہ خان، شیری رحمٰن، جاوید عباسی، عبدالغفور حیدری نے صادق سنجرانی کی نشست پر جا کر ان سے ملاقات کی۔

سینیٹر کامران مائیکل، راجہ ظفر الحق، سلیم مانڈوی والا، شبلی فراز اور دیگر سینیٹ ارکان بھی ایوان میں موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں