34

أفضل البشر بعد الانبیاء جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

أفضل البشر بعد الانبیاء جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
تحریر :محترمہ میمونہ اسلم جامعہ نقشبندیہ کنز الایمان منڈی بہاؤالدین
ماہ جمادی الثانی کا چاند طلوع ہوتے ہیں ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ معنا والی آیت کریمہ کانوں میں گونجنے لگتی ہے اور اس مقدس و محترم ہستی کی یاد آنے لگتی ہے جس کے قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر احسانات ہیںجسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وبارک وسلم کے صحابہ میں سب سے برتر وبالا ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جنھوں نے تن من دھن سے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں ہر وقت پیش رکھا ہے، جو سفر ہجرت میں ہمرکاب مصطفی تھی، جن کی صحابیت کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے، جن پرقیامت کے دن. رب تعالی خصوصی تجلی فرمائے گامیری مراد یار غار رفیق مزار، فدائے حبیب پروردگار،أفضل البشر بعد الانبیاء جناب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہےحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جاملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہےسیرت حلبیہ میں ہے کہ کُنِيَ بِاَبِی بَکْرٍ لِاِبْتِکَارِهِ الْخِصَالِ الْحَمِيْدَةِ ’’آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر اس لئے ہے کہ آپ شروع ہی سے خصائل حمیدہ رکھتے تھے‘‘۔آپ نے چار خواتین سے نکاح کیےجن کے نام ام قتیلہ،ام رومانحبیبہ بنت خارجہ بن زید اور أسماء بنت عمیس ہیںحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی چھ اولادیں تھیں ۔ جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں ۔آپکے صاحبزادےعبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا. توحضرت عبداللہ بن ابوبکر بھی اسی وقت اسلام لے آئے تھے ۔عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے دوسرے بیٹے ہیں ۔ یہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا سے پیدا ہوئے تھے ۔ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام لائے تھے ۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبدالکعبہ سے بدل کا عبدالرحمن رکھامحمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نہ کے بیٹوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ ان کی پرورش حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی. کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد محمد بن ابو بکر کی والدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کر لیا تھاآپ کی صاحبزادیاںاسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سب سے بڑی بیٹی تھیں ۔ آپ کا نکاح حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا تھا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری بیٹی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوا ۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہا ازواج مطہرات میں شامل ہیں ۔اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد پیدا ہوئیں ان کی پرورش جناب ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمائیآزاد مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمانے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں-بحیرہ راہب نے آپکے ایک خواب کی تعبیر میں آپکو نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کا وزیر اور جانشین ہونے کی بشارت سنائی تھیقرآن کریم میں تقریبا 32 آیات ایسی ہیں جن میں آپکی شان و عظمت کا اظہار موجود ہےآپکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قرابت اپنی قرابت سے زیادہ محبوب تھیحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سات ایسے غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کیا جن کو اسلام لانے کی پاداش میں مکہ میں سخت عذاب دیا جاتا تھا۔ حضرت بلال’ حضرت عامر بن فیہرہ’ حضرت زنیرہ’ حضرت نہدیہ اور ان کی بیٹی’ بنو موہل کی باندی اور ام عبیس۔آپ نے اسلام اور مسلمانوں کو بے حد نفع پہنچایارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال مبارک کے بعد آپکے ہاتھ پر. سقیفہ بنو ساعدہ میں اصحاب رسول نے آپکے ہاتھ پر بیعت کر لہ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مشن کو جاری رکھا،مرتدین سے اور مانعین زکوۃ سے جہاد بھی فرمایاآپکے بے شمار اعزازات ہیں جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے1- مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنا2-خلافت میں اول ہونا3-امامت میں اول ہونا 4-علم میں اول ہونا5-امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونا6-امت میں امیر حج بننے میں اول ہونا7-ان کی اقتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الوصال میں نماز ادا فرمانا 8-مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے سب دروازے بند کروا کر انکے خوخہ کو. کھلا رکھنے کی اجازت ہونا9-اللہ تعالیٰ کا ان کو خطا پر ہونا ناپسند ہونا10-صدیق کے لقب سے ملقب ہونا11-حضور پر کل مال نثار کرنے کی سعادت حاصل ہونا12-غار ثور میں خدمت کا اعزاز اور اس نیکی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آسمان کے ستاروں کے برابر نیکیوں سے فائق قرار پانا13-جنت میں ادھیڑ عمر لوگوں کا سردار ہونا14-حضور کے فرمان کو سب سے زیادہ سمجھنے والے ہونا15-نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہربات کوبلاتعجب مان کر فورا تصدیق کرنے والے ہونا16-حضور کے وصال پرلوگوں کو سمیٹنے اور جمع رکھنے والے17-جن کو خلیل بنانےکو حضور نے پسند فرمایا18- نبی پاک کا لوگوں کو اپنی عدم موجودگی میں صدقات ان کو پیش کرنے کا حکم فرمانا19- نبی کریم کا ذات السلاسل کے امیر لشکر عمرو بن العاص کو بتانا مردوں میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ محبوب ہیں 20-روح الامین کا بھی آپ کی افضلیت کی خبر دینا 21-آپ کی چار نسلوں کا شرف صحابیت سے مشرف ہوناآپکے والدین، صاحبزادے، پوتے سب مسلمان اور صحابی تھے22- نبی پاک کا ان کی دل آزاری کرنے والوں سے ناراض ہونا23-تکبر سے بری ہونے کی سند ملنا24-خلیفہ بنائے جانے کے مسئلہ میں حضور کا فرمانا کہ اللہ و مسلمین ان کے غیر کا انکار کر دیں گے25-ہر شخص کی نیکی کا بدلہ دے دینا اور انکے بارے میں ارشاد نبوی کہ انکا بدلہ قیامت میں ملے گا26-جس قوم میں یہ موجود ہوں وہاں کسی اور کو امامت کی اجازت نہ ہو نا27-صاحب حوض ہونا-حشر میں نبی پاک کے بعد سب سے پہلے انکے لئے زمین کا شق ہونا28-شب معراج انکا نام آسمانوں پر حضور کے نام سے ملا ہوا دیکھا جانا29-حجرہ رسول میں دفن ہونا30-اسلام لاکر 40 ہزار درہم رسول اللہ پرخرچ کرنا31-عتیق یعنی آگ سے آزاد قرار پانا32-ان کی ذات میں جنتیوں والی صفات کا جمع ہونا33-جنت کے ہر دروازے سے ان کو پکارا جانا34-حضور کا ان کو ان کا. حضور کو دیکھ کر. مسکرانا34-ان کے مال کا حضور کو سب سے زیادہ نفع پہنچانا35-روضہ رسول میں داخلے کی بارگاہ رسالت سے اجازت ملنا36-آیت تیمم اترنے پر حضرت اسید بن حضیر کا یہ اعتراف کرنا اے آل ابو بکر یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے37-تمام صحابہ کا آپ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لینا38-سفر ہجرت میں حضور کی حفاظت کے لیے کبھی حضور کے آگے چلنا کبھی پیچھے، جہاں سے خطرہ محسوس ہونا دفاع سرکار کے لیے وہاں چلنے لگ جانا39-نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ احادیث ان کو حفظ ہونا40-ان کی صحابیت اور معیت کا قرآن میں ذکر ہونا41-انکی صحابیت کا انکار کرنے والے کا کافرہونا42-لا تحزن ان اللہ معنا کہہ کر ان سے حزن کا دور کر دیا جانا43-غلاموں کو حضور کے حکم سے آزاد کروانا44-صحابہ میں سب سے زیادہ حضور کی رفاقت و عنایات پانا45-بئر اریس پر حضرت ابو موسی اشعری کی زبان سے نبی پاک کی طرف سے دنیا میں ہی جنت کی بشارت ملنا46-اپنے لیے نیا کفن پسند کرنے کے بجائے پرانے کپڑوں میں دفن ہونے کی. وصیت کرنا47-حضرت ابو بکر کا اونچے درجوں میں ہونا48-حضور کا ان کو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کہنا یہ میری سماعت اور بٓصر ہیں 49-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زمین میں اپنا وزیر فرمانا50- ان کو جنت کے ہر بالا خانہ میں مرحبا کہا جائے گاآپ کا وصال 22جمادی الثانی کو.ہوااور آپ روضہ رسول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک پہلو میں مدفون ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں