14 اگست 2022. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی 185

14 اگست 2022. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

14 اگست 2022
آج 14 اگست 2022 ہے۔آج کے دن تقسیم ہند کے عمل کے بعد مسلمانوں کو بر صغیر میں اپنا الگ وطن حاصل ہوا۔اس وطن کے حصول کا مقصد انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کرنا تھا۔اسلامی نظام زندگی کو اپنا کر اسے منزل مقصود کی طرف گامزن کرنا تھا۔مگر ہماری بدقسمتی رہی کہ ہم آزادی کے مقاصد کو بھول گئے اور جاگیرداروں کے بعد سرمایہ داروں کے تسلط نے اس ریاست کو اپنے مقاصد کی تکمیل کی طرف نہ بڑھنے دیا۔نتیجتا یہ ملک بین الاقوامی چوروں، لٹیروں اور استحصالی قوتوں کے نمائندوں کے قبضہ میں آگیا۔آج تک ہم آزادی کے ثمرات سے محروم ہیں۔خدا جانے یہ امتحان اس قوم کو کب تک درہیش رہے گا۔استعمار کے مقابلے کے لیے اس ملک کو قیادت کب میسر ہوگی۔؟ہمارا ہر لیڈر امریکہ اور دوسری استعماری قوتوں کے ساتھ دوستی کا خواہشمند ہے۔جبکہ یہی قوتیں ہمارے مسائل کی اصل جڑ ہیں اور عجیب بات ہے کہ ہم انہی سےاپنے درد کی دوا چاہتے ہیں۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
عمران خان بھی امریکہ سے دوستی چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں غلامی نہیں چاہتے۔سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کی دوستی کسی بھی قوم کے لیے سود مند رہی ہے؟.عرب ممالک نے دوستی کی تو انکو دوستی سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟؟ ہم دوستی کریں گے تو کیا حاصل ہوگا؟قوموں کی زندگیوں میں دوست اور دشمن کی پہچان انکے عروج و زوال میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔جس قوم کو دوست اور دشمن کی پہچان نہیں ہوتی وہ کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔دوست دوست ہوتا ہے اور دشمن دشمن۔دشمن کبھی دوست نہیں ہوسکتا۔ہماری سیاسی قیادت کی اکثریت امریکی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں سجائے رکھنا چاہتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ انکی زندگی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی مرہون منت ہے۔یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ غلاموں سے بگار لی جاتی ہے اور اس کے عوض انہیں اتنا ہی دیا جاتا ہے جس سے انکے روح اور جسم کا رشتہ قائم رہ سکے۔
اگر ہم اس ملک کو آزاد اور خود مختار بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن سمجھنا ہوگا۔اسلامی جمہوری ایران کی قیادت دشمن شناسی کا ہنر رکھتی ہے اور وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں سینہ تان کے کھڑی ہے اس لیے وہ اقوام عالم میں باوقار طریقہ سے زندہ ہیں اور ترقی کی طرف رواں دواں ہیں۔اس کے مقابلے میں عرب اور عجم کے ممالک جو استعمار کو اپنا دوست سمجھتے ہیں وہ ہر قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔
میرا موجودہ حکمرانوں سے کوئی گلہ نہیں ہے کہ وہ علی اعلان یہ کہتے ہیں کہ جن وینٹی لیٹرز پر وہ زندہ ہیں وہ امریکہ کے عطا کردہ ہیں۔مجھے اعتراض یا شکوہ پی ٹی آئی کی قیادت سے ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہم امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں۔میرا سوال ہے کہ وہ اگر آپکو اپنا دوست رکھنا چاہتے تو آپکی حکومت کیوں گراتے۔؟کیا امریکی قیادت نے بھی کبھی کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے دوستی رکھنا چاہتے ہیں؟پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی دوستی اسکی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔جن ممالک کی امریکہ کے ساتھ دشمنی چل رہی ہے وہ امریکہ کے دوست ممالک سے زیادہ خوشحال ہیں۔
ہم عمران خان کے ساتھ اسی وجہ سے کھڑے ہیں کہ وہ اسلام مخالف اور پاکستان مخالف قوتوں کے مقابلے میں کھڑا ہے۔اس نے ناموس رسالت اور اسلامو فوبیا کا کیس مغربی دنیا کے سامنے خوبصورتی اور دلائل و براہین کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس میں اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اگر عمران نے مزید کامیابیاں حاصل کرنی ہیں تو اسے اسلام مخالف اور پاکستان مخالف قوتوں کے سامنے ہمیشہ کی طرح کھڑا رہنا ہوگا۔بصورت دیگر عوام اسکی تائید سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔عوام نے عمران خان کا ساتھ اس لیے نہیں دیا کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں انہیں بہت سہولتیں دی تھیں۔اقتدار چھن جانے کے بعد عوام اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں کہ وہ رجیم چینج کو امریکی سازش سمجھتے ہیں۔وہ بجا طور پر نقطہ رکھتے ہیں کہ مغربی طاقتیں ہماری معیشت اور روایات کو کمزور کرنے کی ضامن ہیں۔اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو اس بات پر بہت غور کرنا ہوگا۔
میری دعاء ہے اللہ تعالی وطن عزیز کو بے شمار ترقی عطا فرمائے۔اسے نظر بد سے محفوظ فرمائے۔
آمین۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں