ہفتے کی چھٹی بحال، وزراء، سرکاری عہدیداروں کے فیول کوٹے میں 40 فیصد کمی، حکومتی خرچ پر بیرون ملک علاج بند، وفاقی کابینہ
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں،ٹی وی رپورٹ) حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد شروع کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور اس پر قابو پانے کیلئے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔اجلاس میں توانائی کی بچت کا پلان پیش کیاگیا، وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کی منظوری دیدی ہے، وزراء اورسرکاری عہدیداروں کے فیول کو ٹہ میں 40فیصد کمی، حکومتی خرچ پر بیرون ملک علاج پر پابندی اور سرکاری میٹنگز ورچوئل ویڈیو پر کرنے کی کابینہ نے منظوری دیدی۔ سرکاری دفاتر میں لنچ، ڈنر، ہائی ٹیز اور گاڑیا ں خریدنے پر پابندی لگادی گئی، ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ تمام نئی بھرتیوں اور سرکاری دفاتر کیلئے فرنیچر کی خریداری پر پابندی عائد، تجارتی مراکز جلد بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ نہ ہوسکا،بازار جلد بند کرنے کیلئےتاجروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 2871میگاواٹ مزید بجلی سسٹم میں شامل کرلی،30 جون تک پورٹ قاسم پلانٹ سے 600میگاواٹ ملنے پر لوڈ شیڈنگ 2گھنٹے رہ جائیگی۔ وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے قمرزمان کائرہ، امین الحق اور مولانا اسعد کے ساتھ میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دی۔ اس موقع پر وفاقی وزرا مولانا اسعد محمود اور قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پٹرول پر مستحق افراد کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے،مشکل وقت سے نکلنے کے لئے غیر مقبول اور مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم نے رضاکارانہ طور پر اپنی اور وفاقی وزرا کو مہیا سیکورٹی گاڑیوں میں 50 فیصد کمی کردی۔ تمام اقسام کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی البتہ ایمبولینس، اسکول بس، کچرا اٹھانے والی گاڑیوں پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سرکاری دفاتر کے لیے مشینیں بشمول ایئر کنڈیشنر، مائیکرو ویو، فریج، فوٹو کاپی مشین اور دیگر کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سرکاری افسران کے غیر ضروری بین الاقوامی دوروں، بیرون ملک سے آئے وفود کے علاوہ تمام سرکاری دعوتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، وفاقی کابینہ نے بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات میں 10 فیصد کمی منظوری دی ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جبکہ خالی اور غیر ضروری آسامیاں ختم کی جائیں گی، گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی بچت اور ایفیشنسی بڑھانے کیلئے صوبائی حکومتیں سال میں 2 مرتبہ گاڑیوں کی لازمی ٹیوننگ کے نوٹیفکیشن جاری کریں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کو ملک میں بجلی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، ملک کو غیر معمولی ہیٹ ویو کا سامنا ہے، بجلی کی 28400 میگاواٹ کی طلب ہے، بجلی کی طلب اور رسد میں 4600 میگاواٹ کا فرق ہے، مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور میں 2018ء میں 14000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کے منصوبے نامکمل رہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں بجلی کی طلب کے مسئلے کو احسن انداز سے حل کیا، بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کے منصوبوں پر توجہ نہیں دی، وزیراعظم نے گزشتہ دو روز سے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے حوالے سے اجلاس کیے۔انہوں نے کہا کہ 15 جون تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ساڑھے 3 گھنٹے ہوگا، 15 جون کے بعد مزید پلانٹس کے چلنے سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تین گھنٹے ہوجائے گا، 25 سے 29 جون تک لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا، 30 جون کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ 2 گھنٹے رہ جائیگی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی، وزیراعظم نے کابینہ ارکان اور حکومتی ارکان کا پٹرول کوٹا 40 فیصد کم کر دیا ہے، کابینہ کو پٹرولیم کوٹا میں حکومتی اہل کاروں کیلئے 33 فیصد کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جسکی کابینہ نے منظوری دیدی، ہفتے کی چھٹی سے سالانہ 386 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی تجویز آئی ہے وزیراعظم نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی تجویز کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی۔ بازار رات میں جلد بند ہونے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ ہوگی جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ بھی موجود ہونگے انکے ساتھ یعنی صوبوں کے ساتھ ملکر بات چیت کے بعد بازار جلد بند کرانے کے معاملے کا اعلان کیا جائیگا اس سے قبل تاجروں کو اعتماد میں لیا جائیگا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ سرکاری میٹنگز زیادہ سے زیادہ ورچوئل ہوں، غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں، حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے، کابینہ نے سرکاری حکام کے بیرون ملک علاج و معالجے پر بھی پابندی لگا دی ہے، جتنے فیصلے کابینہ میں کیے گئے ہیں ان پر آج سے عمل شروع ہوجائے گا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اجلاس میں بات کی گئی، اجلاس میں ڈسکہ الیکشن پر الیکشن کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کابینہ اراکان نے تشویش کا اظہار کیا، لوئر اسٹاف پر انتخابات میں گڑبڑ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور یہ لوگ ابھی تک اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں، اس واقعے میں الیکشن کمیشن کا عملہ اغوا ہوگیا تھا، بیلٹ بکس چوری ہوگئے تھے، ڈسکہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اس پر انکوائری کرکے اگر ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو آٗئندہ انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت پٹرول پرٹارگٹڈ سبسڈی کی جانب جا رہی ہے،یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک موٹر سائیکل والے کو سبسڈی دی جائے تو ایک لینڈ کروزر والا بھی وہی سبسڈی لے۔انہوں نے کہا کہ مشکل صورتحال میں مشکل اور غیر مقبول فیصلوں سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے،توانائی کی قلت سے چھٹکارا کیلئے ملک بھر میں کوئلہ کے ذخائر سے کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ تیل پر ابتدائی طور پر بے نظیر انکم سپورٹس کے اعداد وشمار کے مطابق 90 لاکھ افراد مستفید ہوں گے جبکہ اس میں مزید 60 لاکھ کا اضافہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی اس پر عمل کریں گے۔تاکہ اشرافیہ سے بھی اس مشکل وقت میں ملک وقوم کے مفاد میں حصہ لیا جاسکے۔