پوتن کا بیلاروس کو جوہری میزائل فراہم کرنے کا وعدہ
روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کی سرحد پر اپنے اتحادی بیلاروس کو جوہری صلاحیت کے حامل اسکندر ایم میزائل نظام فراہم کرے گا۔
لوکاشینکو نے پوٹن سے کہا کہ وہ بیلاروس کے دفاع کو مضبوط کرنے میں مدد کریں تاکہ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی طرف سے جوہری ہتھیاروں سے لیس پروازیں ہیں۔
روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کی سرحد پر اپنے اتحادی بیلاروس کو جوہری صلاحیت کے حامل اسکندر ایم میزائل نظام فراہم کرے گا۔
مسٹر پوتن نے ہفتے کو بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی ملاقات میں کہا کہ ’آنے والے مہینوں میں، ہم بیلاروس کو اسکندر-ایم ٹیکٹیکل میزائل سسٹم منتقل کر دیں گے جو بیلسٹک یا کروز میزائلوں کو اپنے روایتی اور جوہری ورژن میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘
یہ اعلان اسی دن ہوا جب یوکرین نے کہا کہ وہ بیلاروسی سرزمین سے شروع کیے گئے میزائل حملوں کی ’بڑے پیمانے پر بمباری‘ کی زد میں آیا ہے حالانکہ بیلاروس باقاعدہ طور پر اس تنازعے کا فریق نہیں ہے۔
بیلاروس کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل سسٹم کے ساتھ ساتھ اپنی فضائیہ کو اپ گریڈ کرنے کی درخواست کی ہے کیوں کہ اسے اپنے نیٹو رکن پڑوسیوں لتھوانیا اور پولینڈ کی ’جارحانہ‘، ’تصادم آمیز اور ’قابل نفرت‘ پالیسیز کے بارے میں خدشات ہیں۔
مسٹر لوکاشینکو نے مسٹر پیوٹن سے بیلاروس کے دفاع کو ان پروازوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط کرنے کو کہا جو ان کے خیال میں بیلاروس کی سرحدوں کے قریب امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کی جوہری ہتھیاروں سے لیس پروازیں تھیں۔
انہوں نے بیلاروس اور اس کے قریبی اتحادی روس کو ایک چھتری تلے لاتے ہوئے کہا: ’منسک کو کسی بھی چیز کے لیے تیار رہنا چاہیے، یہاں تک کہ بریسٹ سے لے کر ولادی ووستوک تک اپنے آبائی وطن کے دفاع کے لیے سنگین ہتھیاروں کے استعمال کے لیے بھی۔‘
خاص طور پر انہوں نے بیلاروس کے فوجی طیارے کو جوہری صلاحیت کے حامل بنانے کے لیے مدد مانگی۔