پریس ریلیز. نویں عظیم الشان خاتون جنت کانفرنس 2022
حضرت فاطمہ امہ کیلئے مشعل راہ، حجاب، خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے خواتین کیساتھ علماء میدان عمل میں آئیں:مفتی گلزار احمد نعیمی
اسلامی ممالک پر پابندیاں عائد کرنیوالی عالمی دنیا کو اسرائیل و بھارت کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے؟ شرکاء کانفرنس کا فلسطین و کشمیری مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی
حکومت ریاست مدینہ کے نعرے کیساتھ عملی اقدامات بھی اٹھائے، کانفرنس سے مفتی گلزار نعیمی، مولانا خبیر آزاد ،سید علی رضا بخاری، پروفیسر حبیب الرحمان عاصم سمیت دیگر کا خطاب
اسلام آباد 20 فروری 2022 ء ( پ ر) خاتون جنت کانفرنس کے شرکاء نے حکومت سے ریاست مدینہ کے قیام کیلئے عملی کوششوں پر زور دیدیا، شرکاء نے کہاکہ حضرت فاطمہ ہی امہ اور خصوصاً خواتین کیلئے مشعل راہ ہیں، اسلامی ممالک پر پابندیاں عائد کرنیوالی عالمی دنیا کو اسرائیل و بھارت کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے؟ حجاب، خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے خواتین کے ساتھ علماء کو بھی میدان عمل میں آنا ہوگا۔
جماعت اہل حرم پاکستان کے زیر اہتمام سالانہ نویںخاتون جنت کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔کانفرنس کی میزبانی جماعت اہل حرم پاکستان کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کی جبکہ کانفرنس سے چیئرمین روئت ہلال کمیٹی عبدالخبیر آزاد، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے رہنما ضیاء اللہ شاہ بخاری، مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر عباس شیرازی، انور علی نجفی سمیت دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمۃ الذہراہؑ نہ صرف مسلم خواتین بلکہ پوری انسانیت کیلئے ان کا کردار مشعل راہ ہے۔ شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح پڑوسی ملک بھارت میں مسکان بی بی نے جرات مندانہ کردار ادا کرکے تمام مسلم خواتین کے حوصلے کو بڑھایا وہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ واضح ہوگیا کہ جب انسان اپنے مسلمہ حقوق کیلئے ڈٹ جائے تو کم ترین تعداد کے باوجود وہ حزب مخالف کو پسپا ہونے پر مجبور کرسکتاہے مگر افسوس پردہ اور اسلامی معاشرت کیلئے جہاں مسلم خواتین مغرب تا ہندوستان تک اپنی تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں اس کے برعکس پاکستان ایک سازش کے تحت خاندانی نظام اور معاشرت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شرکاء نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ فلسطین میں آئے روز مظالم کی انتہاء کی جارہی ہے مگر افسوس او آئی سی سمیت عالمی دنیا نہ صرف آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں بلکہ اس ناجائز ریاست کی ہر برائی پر پردہ ڈالنے کے ساتھ اس کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔ ایک طرف مسلم ریاستیں مسلسل اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو تسلیم کئے جارہی ہیں جبکہ دوسری طرف صیہونی ریاست اب اقوام متحدہ کو بھی آنکھیں دکھا رہاہے کیا صرف پابندیاں مسلم ممالک کیلئے ہیں اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آنے والے سالوں میں اس کے مضر اثرات مرتب ہونگے۔ علماء و مشائخ نے حکومت وقت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ صرف ریاست مدینہ کا نام نہ لیا جائے بلکہ ریاست مدینہ ے قیام کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں، انسانی حقوق کے ساتھ لوگوں کے شہری و بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے، معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنیوالے عناصر کیخلاف سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں۔ کانفرنس کے شرکاء نے فلسطین و مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور او آئی سمیت تمام عالمی اداروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک مسئلہ فلسطین و کشمیر حل نہیں ہونگے دنیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ۔کانفرنس سے مفتی ابو بکر نعیمی، طاہر رشید تنولی، علامہ تنزیل الرحمن ، مجتبی حیدر نقوی، ظفر سپاری، پیر عتیق الرحمان،احمد رضا قادری، امانت علی زیب و دیگر نے خطاب کیا۔