پاکستان کو نئے بجٹ میں اضافی اقدامات کی ضرورت ہو گی: آئی ایم ایف
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کے نئے بجٹ کو آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد سے ’ہم آہنگ‘ کرنے کے لیے ’اضافی اقدامات‘ کی ضرورت ہو گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی اسلام آباد میں نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے کہا کہ یہ ’ہمارا ابتدائی تخمینہ‘ ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے روئٹرز سے گفتگو میں اعتراف کیا تھا کہ آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں اور وہ مزید براہِ راست ٹیکسز کا خواہاں ہے، تاہم اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کی حکومت اس حوالے سے پراعتماد ہے کہ بجٹ میں مطلوبہ رد و بدل کر لیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کی نمائندہ نے کہا کہ ’حکام کے ساتھ کچھ محصولات اور اخراجات پر مزید وضاحت کے لیے بات چیت جاری ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف حکام کو پالیسیوں کے نفاذ میں مدد دینے کے لیے تیار ہے تاکہ اقتصادی استحکام لایا جا سکے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے پروگرام میں موجود ہے مگر 90 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط آئی ایم ایف کو لاحق تحفظات کی وجہ سے جاری نہیں کی گئی ہے۔