Skip to content

وزارت اطفال کی ضرورت !طاہرمحمود اعوان / حاصل کلام

وزارت اطفال کی ضرورت !!
طاہرمحمود اعوان / حاصل کلام
hasilekalaam@gmail.com
21 جنوری 2022

پاکستان میں لوگوں کو صحافیوں اور میڈیا سے اکثر یہ شکوہ رہتا ہے کہ وہ خبر کے مثبت پہلوئوں کی بجائے ہمیشہ منفی سائڈ ہی دکھاتے ہیں جبکہ خبروں اور تجزیوں کا محور بھی عوام کی بجائے “خواص ” رہتے ہیں ۔ یہ شکوہ بجا بھی ہے ، سچی بات تو یہ ہے کہ بہت سے سنجیدہ صحافی خود بھی اب اس طرز صحافت سے اکتا چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح اس بھیڑ چال سے بچ کر بچی کچی صحافت بچا لی جائے ۔ اس کے لئے صحافیوں کے علاوہ صحافتی اداروں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے ۔ادارہ ساتھ نہ دے تو تنہا صحافی کچھ نہیں کرسکتا ،یہ ادارے ہی ہوتے ہیں جو اپنے کارکنوں کی صلاحتیوں میں نکھار پیدا کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں دیگر شعبہ جات کی طرح صحافت بھی اب “ڈیجیٹل “دور میں داخل ہوگئی ہے ۔اس لئے اب صحافتی تقاضے بھی مختلف ہوتے جارہے ہیں جن کو نبھانے کے لئے سخت محنت کے ساتھ ٹریننگ کی ضرورت بھی ہے ۔ ڈیجیٹل صحافت میں ہمارے ہاں “اردو نیوز ” اور “انڈیپنڈنٹ اردو ” اچھا اضافہ ہیں ۔ ان کی رپورٹس پڑھ اور دیکھ کر لگتا ہے کہ عام آدمی بھی خبروں میں اہمیت رکھتا ہے جب کہ تعلیم ،صحت ،کلچر سمیت دیگر شعبوں میں ان اداروں کے رپورٹرز اچھا کام کر رہے ہیں جسے سراہا جانا چاہے ۔
سراہے جانے کی مستحق وفاقی وزارت تعلیم بھی ہے جس نے رواں ہفتے اسلام آباد کے سکولوں میں زیر تعلیم پانچویں جماعت تک کے بچوں کو بھاری بھرکم “بیگز ” سے نجات دے دی ہے ۔ تمام بچوں کو کتابوں کے دو دو سیٹس دیئے گئے ہیں ،سکول میں بچے سکول کی کتابوں اور گھر آکر گھر والی کتابیں استعمال کریں گے جب کے بیگ میں صرف نوٹس بکس ،سٹیشنری اور لنچ باکس ہی رہ گئے ہیں ۔ سکول کے بچوں کے ناتواں کندھوں پر دس پندرہ کلو کے بھاری بھرکم بیگز دیکھ کر اکثر دل کڑتا رہتا تھا ۔وفاقی وزارت تعلیم کا بھلا ہو کہ اب والدین اس کوفت سے بچ جائیں گے ۔ یہ سلسلہ تمام صوبوں اور پرائویٹ تعلیمی اداروں تک بھی پھیلانا چاہے ۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ سکول میں ہی بچوں کا ٹائم اس انداز سے مینج کیا جائے کہ بچے کلاس ورک کی مشق سکول میں ہی کر لیا کریں ۔
کچھ سال قبل ہمارے ایک دوست امیر ولی خان کینیڈا سے اعلیٰ تعلیم اور سینٹرل ایشیا کے کسی ملک سے بیگم لیکر وطن واپس آئے ، جب بچے سکول جانے کے قابل ہوئے تو دونوں نے داخلے کے لئے اسلام آباد کے کئی سکول وزٹ کئے تاہم کوئی بھی پسند نہ آیا ،نتیجتاََ دونوں نے ملکر بچوں کو گھر میں ہی پڑھانا شروع کردیا۔ گھر میں مہمانوں کو آنا جانا لگا رہتا تھا ، جو بھی گھر آتا ،پہلے تو حیران ہوتا پھر اپنے بچے بھی بھیج دیتا ۔ یوں کچھ عرصے میں ہی اتنے بچے ہوگئے کہ انہیں سکول کھولنا پڑ گیا ۔ سکول بہت سی خصوصیات کا حامل تھا ، چھوٹے بچوں کو ہوم ورک سکول میں ہی کرا کے گھر بھیجا جاتا تھا ۔کتابیں حتی کہ نوٹ بکس بھی سکول میں ہی رکھی جاتی تھیں ،بچے گھر سے صرف پانی کی بوتل اور لنچ لے کر آتے تھے ۔سکول کا کوئی خاص یونیفارم نہیں تھا ،بچے گھر کا کوئی بھی صاف ستھرا لباس پہن کر سکول آجاتے تھے ،والد روز روز یونیفارم کے خرچوں اور مائیں انہیں دھونے, سکھانے اور استری کرنے کی مشقت سے بری تھیں ۔فیس نہایت مناسب تھی اور سکول میں آئے روز کوئی نیلا ،پیلا ،گرین ،ریڈ ڈے بھی نہیں منایاجاتا تھا ،نتیجتا بہت سے سفید پوشوں کے بچے بڑے آرام اورسکون سے پڑھ رہے تھے ۔ یہ سکول (No Profit No Loss) کی بنیاد پر چل رہا تھا لیکن اس کے باوجود حکومتی اداروں اور کچھ معاشرتی عناصر نے اتنا تنگ کیا کہ ایک روز دونوں میاں بیوی نے سامان باندھا ،سکول پارٹنر کے حوالے کیا اور دوبارہ کینیڈا جا بسے ۔سکول تو آج بھی شاید چل رہا ہے لیکن جس نظریے سوچ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا شاید اب ویسا نہ رہا ہو ۔
ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ اگر کوئی کچھ کرنا چاہے تو ہم لٹھ لیکر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ اس ملک میں تعلیم کے نام پر کاروبار ہو رہا ہے ۔آج بھی سرکاری اور نجی سکولوں میں غیر اعلانیہ رٹا سسٹم نافذ ہے ۔ بچے اگر اس رٹے رٹائے کے علاوہ کچھ لکھنا یا بولنا چاہیں تو چپ کرادیا جاتا ہے ۔نیم ٹرینڈ ٹیچرز اپنا رزلٹ اچھا دکھانے کے لئے اکثر بچوں کو صرف وہی سوالات اور جوابات رٹا دیتے ہیں جو پیپر میں آنے ہوتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو نسل ہم تیار کر رہے ہیں ان میں خود سے سوچنے ۔کوئی قدم اٹھانے اور سوال کرنے کی ہمت ہی نہیں رہتی ۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ سولہ سال تو ہم بچوں کو رٹے رٹاتے رہتے ہیں اور جب ملازمتوں اور مقابلے کے امتحانات کا وقت آتا ہے تو ایم سی کیوز (MSQs) اور ذہانت کی سطح ( IQ Level ) کے ایسے ٹیسٹ دے دیئے جاتے ہیں جسے امتحان دینے والے ارسطو اور آئن سٹائن ہوں ۔۔
اس رٹا سسٹم کی بدولت ہماری درسگاہوں سے اچھے اور کارآمد انسان کم اور ربورٹ ذیادہ پیدا ہورہے ہیں ۔اگر ہمیں ہجوم سے واقعی ایک قوم بننا ہے تو بچوں پر توجہ دینا ہوگی ۔ اس ملک میں ہر نہ ہونے والی “وزارت ” موجود ہے لیکن بچوں سے متعلق کوئی خاص وزارت یا ڈویژن موجود نہیں ہے ۔ کوئی بھی یہ دیکھنے کے لئے نہیں ہے کہ بچوں کو کیا پڑھایا جا رہا ہے اورکیوں پڑھایا جارہا ہے ؟ بچے کون سی گیمز کھیل رہے ہیں اور کیوں کھیل رہے ہیں ؟ کمپیوٹر یا موبائل پر کھیلی جانے والی ذیادہ تر گیمز بچوں کو تشدد پر اکساتی ہیں ۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں جو بچوں کے لئے اچھی گیمز اور معیاری کارٹون ہی بنا سکے ۔ ہم بچوں کو انگلش یا انڈین کارٹون دکھاتے ہیں جن میں نہ ہمارا کلچر ہوتا ہے نہ تہذیب ۔ کسی زمانے میں پی ٹی وی سے بچوں کے لئے اچھے پروگرام نشر ہوتے تھے ۔کارٹونز کا ٹائم بھی صبح صبح ہوا کرتا تھا اور بچے بڑے شوق سے کارٹون کی خاطر صبح صبح ہی جاگ جاتے تھے ۔ بچوں کے لئے لکھی جانے والی کہانیوں میں بھی بے شمار خامیاں ہیں اور اصلاح درکار ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ویسے تو وزیروں ،مشیروں اور معاون خصوصی کی ایک پوری فوج بھرتی کر رکھی ہے ۔ کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک الگ سے وزارت اطفال بھی قائم کردی جائے جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے جملہ معاملات کی ذمہ دار ہو ۔ جو بچوں کے لئے اپنی تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے کارٹونز ،موبائل گیمز تیار کروائے ۔بچوں کو پڑھایا جانا والا نصاب وقتاََ فوقتاََ چیک اور اپڈیٹ کیا جائے ۔ تعلیم کے ساتھ بچوں کو اتبدائی سٹیج سے ہی چھوٹے موٹے ہنر سکلز اور زندگی گزارنے کے آداب سکھائے جائیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسی کوئی وزارت یا ادارہ معرض وجود میں آجائے تو کچھ نہ کچھ بہتری کا سامان ہوسکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *