Skip to content

نوشکی اور پنجگور میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے پیچھے مجید بریگیڈ کون ہے؟

  • by

کوئٹہ میں سردیوں کی ایک شام کو ارباب کرم خان روڈ پر ایک کار ایک گھر کے باہر آ کر رکی اور اس کے بعد ایک شدید دھماکہ ہوا۔ یہ گھر سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل کا تھا اور یہ واقعہ 30 دسمبر 2011 کو پیش آیا تھا۔
اس حملے میں شفیق مینگل محفوط رہے جبکہ ان کے محافظوں سمیت 10 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی اور کہا کہ مجید بریگیڈ کی جانب سے فدائی نوجوان درویش نے یہ حملہ کیا تھا۔
مجید بریگیڈ اور اس کے فدائین کا نام پہلی بار اس حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد اس بریگیڈ کا کوئی واضح حملہ نظر نہیں آتا۔
تقریباً سات سال کے بعد اگست 2018 کو بلوچستان کے سونے اور تانبے کے ذخائر والے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین میں ایک ٹرک سامنے سے آنے والی بس جس میں چینی انجنیئرز سوار تھے، ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں تین چینی انجنیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔
بی ایل اے کی مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا کہ حملہ آور نوجوان ریحان تھا جو مجید بریگیڈ کے سربراہ اسلم استاد عرف اسلم اچھو کا بیٹا تھا۔
اسی سال یعنی 2018 کو کراچی میں نومبر میں چین کے سفارتخانے پر حملہ کیا گیا، جس میں چار حملہ آور پولیس مقابلے میں مارے گئے، اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔
2019 میں اس گروپ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر شہر میں پی سی ہوٹل پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 3 حملہ آور مارے گئے۔ مجید بریگیڈ نے اس کارروائی کو فدائی مشن قرار دیا۔
اس کے اگلے سال جون 2020 میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا جہاں چار حملہ آور مارے گئے، اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔
نوشکی اور پنجگور میں بھی حالیہ حملوں کو مجید بریگیڈ نے فدائی حملے قرار دیا ہے۔ سنہ 2018 سے اب تک ایسے سات حملے ہو چکے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے نوشکی اور پنجگور میں ایف سی کے ہیڈکوارٹرز پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک سات فوجیوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 13 حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے گذشتہ شب جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ پنجگور میں دہشت گردوں نے دو مقامات سے ایف سی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بروقت کارروائی سے انھیں ناکام بنا دیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے میں سکیورٹی فورسز کا عزم اور حوصلہ ناقابل شکست ہے اور دہشتگرد اپنے عزائم میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے۔
مجید بریگیڈ نام کہاں سے آیا؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران جب بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت یعنی نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو بر طرف کیا جا چکا تھا تو مزاحمت شروع ہو چکی تھی۔
سنہ 1975 میں اگست کے مہینے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کوئٹہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے پہنچے تو ایک دستی بم دھماکے میں مجید لانگو نامی نوجوان ہلاک ہو گیا بعد میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ نوجوان بھٹو پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
مجید لانگو کا تعلق منگوچر کے علاقے سے تھا اور وہ طالب علمی سے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او سے وابستہ تھا۔
مجید لانگو کی ہلاکت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی کی ولادت ہوئی جس کا نام مجید رکھا گیا، جس نے کالعدم بلوچ لبرشین آرمی میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 2011 میں کوئٹہ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
بی ایل اے کا کہنا ہے کہ اسی ہلاکت والے دن اس فدائی گروپ کی تشکیل کا اعلان ہوا اور استاد اسلم نے اس کا نام دونوں بھائیوں کی بہادری کے پیش نظر مجید بریگیڈ رکھا ۔
مجید بریگیڈ کیوں بنائی گئی؟
بلوچستان میں حالیہ مسلح جدوجہد کا آغاز سابق وزیر اعلیٰ اور سینئیر سیاستدان نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔
بلوچستان میں اس وقت بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ نیشنل گارڈ دیگر تنظیمیں اور ان کے گروپس شامل ہیں جو مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے ان کی سرگرمی کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان میں سب سے پرانی تنظیم بی ایل اے ہے۔
بلوچستان میں جاری عسکری تحریک پر نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بتاتے ہیں کہ اسلم اچھو اور بشیر زیب نے مجید بریگیڈ کی بنیاد رکھی تھی۔
ان کے تربیتی اور اشاعتی مواد کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ وہ کچھ مزید پیشرفت کریں کیونکہ سب سے خطرناک اقدام یہ ہی ہوتا ہے کہ آپ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہیں پر گھس جائیں۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اور مجید بریگیڈ کے سربراہ بشیر زیب بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین رہے ہیں۔ بعد میں انھوں نے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔
بی بی سی کی جانب سے تحریری طور پر بھیجے گئے سوالات کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ کے قیام کے مقاصد یہ تھے کہ عسکری حوالے سے مخالف کو وہاں ضربیں لگائی جائیں، جہاں روایتی گوریلا جنگ میں ممکن نہیں اور اس کا سیاسی مقصد دنیا اور دشمن کو یہ دِکھانا ہے کہ بلوچ آزادی کے حق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس مقصد کے لیے ہم اپنی جانوں کے نذرانے پیش کریں گے۔‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مجید بریگیڈ اور باقی مزاحمت کاروں میں فرق یہ ہے کہ گوریلا کو حملہ کر کے بحفاظت نکلنے کی تربیت ہوتی ہے جبکہ بریگیڈ کے فدائی کو اپنی جان کے قیمت پر مقصد حاصل کرنے کی تربیت ہوتی ہے، جس میں طویل مزاحمت کے لیے جسمانی برداشت کی بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
قوم پرست اور سیکولر فدائی حملے
دنیا میں اپنے سیاسی مقصد کے لیے فدائی حملوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ اس بارے میں حسن الصباح، روس، یونان کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
پاکستان انسٹیٹوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور شدت پسندی و عسکرت پسندی کے ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ جو بھی سیکولر تحریکیں رہی ہیں ان میں بھی فدائی مشن کا سلسلہ رہا ہے، پھر چاہے وہ جاپان کی ہو یا تامل ٹائیگرز کی۔
سری لنکا کے تامل ٹائیگرز نے بھی فدائی حملے خود شروع نہیں کیے تھے بلکہ انھوں نے یہ تصور یونان سے لیا تھا۔ یہ تحریکیں ایک دوسرے کو کاپی کرتی ہیں۔ ایک عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس میں مذہبی اثرات ہیں جبکہ قوم پرستی کی اپنے اثرات اور روایات ہیں۔‘
یاد رہے کہ مذہبی شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان نوجوانوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ ان کا برین واش کیا جاتا ہے۔
بشیر زیب کا دعویٰ ہے کہ مجید بریگیڈ، بلوچ لبریشن آرمی کا مکمل طور پر ایک رضاکار ونگ ہے، اس میں کسی کو شامل نہیں کیا جاتا بلکہ نوجوان خود شعوری فیصلہ کرکے شامل ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ شمولیت کے بعد تمام فدائیوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت، اپنا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں۔
’مذہب سب کا ذاتی معاملہ ہے، اجتماعی حوالے سے مجید بریگیڈ کسی سے جنت کا وعدہ نہیں کرتا۔‘
شہری اہداف
بلوچستان کی مزاحمتی تحریک زیادہ تر پہاڑوں میں رہی ہے جبکہ مجید بریگیڈ نے شہری علاقوں میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس میں کراچی اور گوادار کے حملے شامل ہیں۔
عامر رانا کہتے ہیں بلوچ لبریشن فرنٹ نے ایران میں 1973 کی دہائی میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ پہلے شاہ ایران کے خلاف، اس کے بعد جو انقلاب آیا اس کی حکومت کے خلاف شہروں میں کارروائیاں کی گئیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں بلوچ عسکریت پسندی میں اس طرز کے حملوں کی شدت بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تحریک میں تعلیم یافتہ نوجوان بھی آرہے ہیں۔
’ان تک معلومات کی رسائی آسان ہو گئی ہے اور انھیں معلوم ہے کہ پوری دنیا مں کس قسم کی گوریلا تحریکیں جاری ہیں، کونسا حملہ زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق اس میں مشن بے شک ناکام بھی ہو جائے، پر اس کو کوریج اتنی مل جاتی ہے کہ ریاست کے لیے وہ ایک مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ان حملوں کا مقصد پیغام پہنچانا ہوتا ہے، جس میں وہ کامیاب رہتے ہیں۔
افغانستان میں تبدیلی اور حملوں میں شدت
پاکستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے پاکستان انسٹٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 کے مقابلے میں 2021 میں بلوچستان میں حملوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق درحقیقت بلوچستان دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ تھا جہاں ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 93 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پناہ گزین رہنما اور عسکریت پسندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بلوچستان منتقل ہوں، حملوں کی شدت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔
پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ افغانستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کے کیمپ موجود ہیں۔ اس حوالے سے انڈیا پر ان کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ نگار شہزادہ ذوالقفار کا کہنا ہے کہ جب سے طالبان افغانستان میں اقتدار آئے ہیں حملے بڑھے ہیں اور وہاں نامعلوم افراد کے حملے میں بعض عسکریت پسند رہنما مارے بھی گئے ہیں۔
’افغانستان میں تبدیلی کے باوجود جو ایکشن ہوئے ہیں ان میں اضافہ ہوا ہے، خیال تو یہ ہی کیا جا رہا تھا کہ طالبان کے آنے سے یہ سارے معاملات ختم ہو جائیں گے۔‘
عامر رانا کہتے ہیں کہ ’اس میں طالبان نے کوئی زیادہ تعاون نہیں کیا۔ انھوں نے ان عسکریت پسندوں کو فی الحال وہاں رہنے کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ آپ کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ دوسرا کیمپ انھیں ایران میں ملا ہے، وہاں تربیتی کیمپ تو نہیں ہیں لیکن آپریش کے بعد انھیں پناہ گاہیں مل جاتی ہے، یہ ایک نیا پہلو ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *