ملکی مسائل،گرینڈ ڈائیلاگ وزیراعظم
لاہور اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومیں محنت، صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں جس کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، صحت اور تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے، ملکی مسائل کے حل کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ ضروری ہے،قرضے پر ملک کب تک زندہ رہیگا، ترقی و خوشحالی کیلئے ذاتی انا کو مارنا ہوگا،صنعت، زراعت، معیشت پر سیاست کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے، ہم نے 75سالوں میں ہونے والے تجربوں سے کچھ نہیں سیکھا، مجھے آئے ڈیڑھ ماہ ہوا ہے ساڑھے تین برسوں کا حساب کون دیگا، پی ٹی آئی حکومت نے تمام منصوبے سیاست کی نذر کردیئے،جب دنیا میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی تھی تو ہم نے مارچ کے مہینے میں یکایک قیمتوں کو گرادیا، ساڑھے تین سال کسی کو ایک دھیلا نہیں دیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو لاہورمیں واقع 600بستروں پر مشتمل انڈس اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے میٹرو بس ٹکٹ کا نرخ آدھا کرنے کا اعلان کردیا جس سے ٹکٹ اب20روپے کا ہوگیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومیں محنت، صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں جس کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، صحت اور تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبے ہیں جن میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، معیشت کا پہیہ چلائیں گے، معیشت مضبوط کرنے کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔ وزیر اعظم ے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جس میں ملک کی ترقی سے منسلک تمام شعبے پر بات کی جائے۔ ہمیں ملک کو آگے چلانا ہے تو ہمیں بڑے پیمانے پر مذاکرات کرنے ہوں گے، ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنی ہوگی۔ گرینڈ ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے اس میں صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت کی ترقی کیلئے بات کی جائے، آئی ٹی سمیت متعدد ایسے شعبے ہیں جن میں یہ ملک بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہاں کوئی سیاست کی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین اسپتال تھا اسے سیاست کی نظر کردیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے صرف سیاست کی خاطر اتنا بڑا جرم کیا کہ لاکھوں لوگوں کو بے آسرا کر دیا، یہ دروازہ بند ہوجانا چاہیے کوئی آئے کوئی جائے صنعت، تعلیم، صحت، زراعت، معیشت پر سیاست کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے لیے دل چاہیے، بڑی سوچ چاہیے، اس کیلئے ہمیں اپنی ذات سے بالاتر ہونا ہوگا، اپنی انا کو مارنا ہوگا، یہ سب ہمیں اپنی قوم کے لیے کرنا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگلی حکومت آئے اور پچھلی حکومت کے قائم کیئے گئے ادارے تباہ کردیں۔ سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ قرض پر انحصار کرنے والا ملک کب تک زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج پیٹرول، بجلی اور دیگر کی قیمتیں جو بڑھی ہیں یہ ابھی کا فیصلہ نہیں ہے، یہ معاملہ اسوقت سے چل رہا ہے جب تحریک عدم اعتماد کی بات ہورہی تھی، جب دنیا میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی تھی تو ہم نے مارچ کے مہینے میں یکایک قیمتوں کو گرادیا، ساڑھے تین سال کسی کو ایک دھیلا نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی کوشش کی لیکن دل پر پتھر رکھ کر قیمتیں بڑھانی پڑیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ غریب شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔ وزیر اعلی پنجاب کو کہا ہے کہ پیک آورز میں میٹرو کے ٹکٹ آدھے کردیئئے جائیں تاکہ غریب آدمی کو ریلیف دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ میں موجود ڈیٹا بہت شفاف ہے، اسکے تحت ہم 7 کروڑ عوام کو 2ہزار روپے مہینہ دیں گے۔