Skip to content

مسلمانوں پر تنگ ہوتی ہندوستانی سرزمین سید اسد عباس

  • by

سید اسد عباس:
بھارت کے برہمن سامراج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی مسلمان آبادی پر جبر و تشدد کا سلسلہ گذشتہ 74برسوں سے جاری ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں انسان اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں ، ہزاروںخواتین کی عصمت دری کی گئی ، لاکھوں بچے یتیمی سے دوچار ہیں ، ہزاروں جوان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔کون کون سے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا جائے جو مقبوضہ وادی میں نہیں ہوتیں۔مقبوضہ وادی کے ان مسلمانوں کا قصور فقط یہ ہے کہ وہ تقسیم ہند کے فارمولا کے تحت حق خودارادیت چاہتے ہیں اور پاکستان کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وادی کشمیر تو ایک جانب برہمن سامراج کے منہ کو لگا ہوا لہو اب ہندوستان کی ریاستوں اور آبادیوں کو بھی ویران کرنے کے درپے ہے ۔ ہندوستان میں 2014سے قائم بی جے پی کی حکومت کے سربراہ نریندر مودی کی پیشانی پر پہلا مسلمان دشمنی کا داغ اس وقت لگا جب وہ گجرات کا وزیر اعلی تھا ۔ گجرات میں ہونے والے اس قتل عام کے سبب مودوی کو’’ گجرات کا قصاب ‘‘کا لقب دیا گیا ۔ مودی کی جماعت اور اس کی ذیلی شاخیں اس وقت ہندوستان میں اسلاموفوبیا کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں ۔
بھارت میں حکمران جماعت مختلف عناوین کے تحت مسلم دشمنی کو بھارتی سماج میں پروان چڑھا رہی ہے ۔ ان کا سب سے اہم نعرہ ’’ہندوتوا ‘‘ ہے ۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ایک سیکولر ریاست نہیں بلکہ ہندو ریاست ہونا چاہیے اور ان کے نزدیک اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 14 فیصد مسلمان ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں پر دباؤ کو بڑھایا جارہا ہے ۔ کبھی گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل ، کبھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے اور ان کی زمینوں پر قبضے ، مسلم ناموں کو ہندو ناموں سے بدلنا ، مسلمانوں کو غدار قرار دینا سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔حال ہی میں جنوبی بھارت کی ایک ریاست کرناٹکا میں سرکاری سطح پر حجاب پر پابندی کا اعلان کیا گیا جس کے خلاف کرناٹکا کی مسلم بچیاں سراپا احتجاج ہیں ۔ کرناٹکا کے ایک کالج کی بچی مسکان خان اس وقت پورے ہندوستان اور دنیا بھر میں بے جے پی حکومت کے مسلم ستیز اقدامات کے خلاف مقاومت کے ایک استعارے کے طور پر دیکھی جارہی ہے ۔
جب مسکان خان نے ایک ہندو جتھے کے مقابل اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اسی وقت بھارت کے معروف فلمی ستارے شاہ رخ خان کے خلاف بھی ایک کمپین کا آغاز کیا گیا ۔ شاہ رخ خان لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شریک تھے جب انھوں نے ہاتھ بلند کرکے مسلمانوں کی طرح دعا کی اور اپنا ماسک ہٹا کر پھونکا ۔ان کے اس پھونکنے کو تھوکنے کا عنوان دے کر ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا جو کہ بھارتی سماج میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی ایک بین دلیل ہے ۔ گذشتہ برس ماہ دسمبر میں اتر پردیش میں منعقد ہونے والے بی جے پی کے ایک اجتماع میں مسلمانوں کے قتل عام کے نعرے لگے ۔ اس اجتماع میں شریک اکثر قائدین کا کہنا تھا کہ ہندؤں کو ہتھیار اٹھانے چاہئیں اور جہادیوں یعنی مسلمانوں کے خلاف میدان عمل میں اترنا چاہیے ۔ اس اجتماع کے حوالے سے بھی بی جے پی سرکار نہ فقط خاموش رہی بلکہ پوری طرح شریک تھی ۔
معروف بھارتی فنکار نصیر الدین شاہ نے اس اجتماع میں لگنے والے نعروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان میں پروان چڑھنے والے اسلاموفوبیاکو لگام نہ دی گئی تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے ، انھوں نے کہا کہ بھارت میرا دیس ہے میں اس سے دستبردار نہیں ہوں گا ۔ نصیر الدین شاہ نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو یونہی دیوار سے لگائے جانے کی باتیں جاری رہیں تو اس کے نتیجے میں ردعمل سامنے آئے گا ۔ انھوں نے کہا کہ میں 200ملین انسانوں کے ردعمل کی بات کر رہا ہوں ۔
تحریک پاکستان کے راہنما اور محسن پاکستان راجہ صاحب محمود آباد کے پوتے علی خان محمود آباد جو اس وقت اشوکا یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے استاد ہیں نے بھی بھارت میں بی جے پی حکومت کے تحت پروان چڑھنے والے اسلامو فوبیا پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسکان خان مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی کا اظہار ہے ، انھوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے مسلمانوں اور دیگر قومیتوں کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں کا سلسلہ جاری رہا تو ملک میں ایسی تحریک جنم لے گی جس کو دبانا ممکن نہ ہوگا ۔انھوں نے لکھا کہ مسکان کا نعرہ تکبیر اس بات کا اعلان ہے کہ ان کو بی جے پی یا کسی اور حکومت کی ضرورت نہیں ہے وہ اپنے حقوق کا خود تحفظ کر سکتی ہیں ۔ یاد رہے کہ گذشتہ دنوں مودی نے تین طلاق کے حوالے سے اتر پردیش میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم خواتین میرے ساتھ ہیں ۔
علی خان لکھتے ہیں کہ جب جرمنی میں یہودیوں کے خلاف زمین تنگ کی گئی تو اس وقت بعض یہودی ملحد ہو گئے یا انھوں نے عیسائیت اختیار کی تاکہ وہ زیادہ جرمن دکھائی دیں تاہم ان کو یہودی کے طور پر ہی دیکھا گیا ۔وہ ایک یہودی لکھاری کا مقولہ لکھتے ہیں کہ ’’اگر آپ پر بطور یہودی حملہ کیا جارہا ہے تو آپ کو بطور یہودی ہی اس کا مقابلہ کرنا چاہیے نہ جرمن بن کر ، نہ دنیا کے شہری کے طور پر اور نہ ہی انسانی حقوق کے داعی بن کر ‘‘علی خان لکھتے ہیں کہ مسکان خان نے یہی کیا ۔بھارت میں ہونے والے مسلم ستیز واقعات جہاں افسوسناک ہیں وہیں یہ قائداعظم اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کی بصیرت کے بھی آئینہ دار ہیں۔انھوں نے آج سے ایک صدی قبل ہی اس امر کا اندازہ لگا لیا تھا کہ مسلمانوں کا ہندوتسلط کے تحت رہنا ممکن نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد رکھی اور لاکھوں قربانیاں دے کر ایک الگ وطن حاصل کیا ۔ اللہ کریم ہندوستان کے مسلمانوں کو برہمنی سامراج کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھے اور ہمیں پاکستان جیسی نعمت عظمی کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *