Skip to content

مسجدیں اوقاف کے حوالے کردو! راقم:خواجہ مُحَمَّد حنیف جلالپوری

  • by

مسجدیں اوقاف کے حوالے کردو!

راقم:خواجہ مُحَمَّد حنیف جلالپوری

ترقیم: 16 جنوری 2022 بروز اتوار

علامہ مفتی گلزار احمد نعیمی مدظلہ کے تعارف کے کٸی حوالے ہیں،ملک گیر مذہبی تنظیم اھل حرم پاکستان کے بانی و صدر ہیں،جامعہ نعیمیہ اسلام آباد کے بانی،ناظم اعلی اور شیخ الحدیث ہیں، اس کے علاوہ اقلیتی کمیشن پاکستان کے بھی ممبر ہیں،میرے لیے اعزاز کی بات یہ ھے کہ موصوف جامعہ نعیمیہ لاھور میں شعبہ عصری تعلیم میں میرے ھم جماعت تھے،مفتی صاحب اسلام آباد میں ھمارے مستقل میزبان ہوتے ہیں اور اپنے اکثروبیشتر پروگراموں میں بڑی محبت سے دعوت دیتے ہیں،شریک ہوجاٸیں تو شکرگزار ہوتے ہیں اور نہ جاسکیں تو عذر قبول کرلیتے ہیں،انہی کے توسط سے اسلام آباد میں ادارہ امن و تعلیم سمیت کٸی معروف تنظیموں کے اجلاسوں اور سیمیناروں میں شرکت اور اظہار کا موقع ملتا رہتا ھے،کٸی سال پہلے “ادارہ معظمات اسلام” نامی تنظیم کی طرف سے ایک تھری سٹار ہوٹل کے ھال میں منعقدہ ایک سیمینار میں بندہ عاجز کو مقرر کی حیثیت سے شرکت کا موقع میسر آیا جس کا موضوع تھا”مسجد بطور سماجی مرکز” …….اس وقیع سیمینار میں منتظمین کی خواہش پر تمام مسالک کے نماٸندے اپنی اپنی آرإ و تجاویز اور متعلقہ موضوع پر تحریری مواد لے کر آٸے تھے،اس کے علاوہ سول سوساٸٹی کے نماٸندے بھی شرکت اور مقررین سے سوالات کرنےکے لیے مدعو تھے۔پہلے سیشن میں تمام مسالک کے ترجمانوں اور نماٸندوں کی تقاریر تھیں اور دوسرے سیشن میں سول سوساٸٹی کے نماٸندوں کی سوالیہ اور استفھامیہ نشست تھی نیز میزبان تنظیم کے مسٸول کا صدارتی خطبہ ہونا تھا۔تلاوت اور اجتماعی درودشریف کے بعد بشمول بندہ عاجز کے کم و بیش دس مقررین نے سات سے دس منٹ تک کی تقریریں کیں اور اس موضوع پر تحریری مواد کی فاٸلیں منتظمین کے حوالے کیں،سبھی مقررین کی تقاریر کا لب لباب یا ماحصل ان چند سطور میں سمویا یا بیان کیا جاسکتا ھے”مسجد صرف ایک معبد ہی نہیں بلکہ یہ ایک طرح کا اسلامک کمیونٹی سنٹر ھے،یہ نماز پنجگانہ کی باجماعت اداٸیگی کی مقدس جگہ،ایک دوسرے سے باھمی ملاقات اورآپسی معاملات سے شناساٸی اور حل دہی کامربوط اور مضبوط مقام ،دعوت و ارشاد کا اعلی مکتب،ایک پورے ریجن کے لوگوں کے باھمی تنازعات کی سستی ترین عدالت،تعلیم و تدریس کا بہترین ادارہ،تصنیفی و تالیفی سرگرمیوں کے لیے دارالتحقیق،ایک دوسرے کی مالی و اخلاقی امداد کا گہوارا اور فروغ امن و آشتی کا موردومصدر ہوتی ھے،مسجدکو صرف بندگی،خطبہ جمعہ اور صرف ناظرہ و ترجمہ قرآن کی تعلیم تک محدود اور مخصوص کردینا کوٸی بڑی دانشمندی کی بات نہیں ھے،مسجد کو عہد نبویﷺ کے تناظر میں دیکھیں تو بیک وقت یہ فلاحی ورفاہی مرکز،نظامتی و انتظامتی سیکریریٹ
،تعلیمی و تربیتی مدرسہ و مکتب، بیرونی مسافروں اور وفود کے لیے دارالضیوف،دفاعی حوالے سے مشاورت اور ٹریننگ کے لیے معسکر،سستے انصاف کی فراھمی کے لیے ثالثی کونسل اور کورٹ ،ابلاغ دین کے لیے تیز ترین اور کثیر المقاصد دعوتی انسٹیٹیوٹ اور ہر طرح کی عبادات کے لیے مقدس معبد ھے،اس لیے ضرورت اس امر کی ھے کہ اس دو جدید میں اس پر لگی محدودیت کی پانبدیاں ختم کی جاٸیں اور اسے صرف عبادت و ریاضت کے حصار سے نکال کر لا محدودیت کی راہ پر گامزن کیا جاٸے اور صرف عبادت کی چھاپ اتار کر اسے حقیقی معنوں میں سماجی و رفاہی مرکز کا درجہ دینے کی بھی کوشش کی جاٸے”
سیمینار کا پہلا سیشن مکمل ہوا تو اسے سیمینار کے ناظم اسٹیج نے بڑا کامیاب اور تجاویز کے حوالے سے بہت موثر قرار دیا اور کٸی جہتیں سامنے آنے سے اس اقدام کو کارگر اور ثمربار تسلیم کرکےجہاں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا وھاں تمام شرکإ پر زور دیا کہ وہ سامنے آنے والی تجاویز،آرإ اور معلومات کو مفاد عامہ کے لیے تقریر و تحریر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اشاعت پزیر کریں تاکہ مسجد کے سماجی کردار سے بیش از بیش فاٸدہ اٹھایا جاسکے،تمام نماٸندوں نے اس کی تاٸید کی اور ایسا ہی کرنے کا عندیہ بھی ظاھر کیا،اب چاٸے کا آدھے گھنٹے کا وقفہ ہوا، جونہی یہ وقفہ ختم ہوا تو
ناظم اسٹیج نے سول سوساٸٹی کے نماٸندوں کو دعوت دی کہ وہ ملک بھر سے تشریف لاٸے ہوٸے تمام مکاتب فکر کے مستند و معتمد نماٸندوں سے “مسجد بطور سماجی مرکز” کے حوالے سے سوال کرسکتے ہیں،ایک دو ساٸلین نے خفیف سے سوال کیے جن کا جواب مقررین نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی دے دیا لیکن ایک ساٸل کے سوال پر ماحول میں کچھ ارتعاش سا پیدا ہوا،مبین شاکر نام کے ایک صاحب نے پوچھا کہ اللہ تعالی قرآن مجیدمیں فرماتا ھے “و أن المساجد
للہ” کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تو پھر ان پر مسلکوں اور فرقوں کی چھاپ کیوں ھے؟ کبھی نہیں کہا گیا کہ یہ مسجد اللہ کی ھے بلکہ سو فیصد کہا جاتا ھے یہ بریلویوں کی ھے،یہ دیوبندیوں کی ھے،یہ اھل حدیثوں کی ھے،یہ جماعت اسلامی والوں کی ھےاور یہ شیعوں کی ھے! دوسرا سوال یہ ھے کہ کسی مقرر نے مسجد کو وحدت ملی یا اتحاد بین المسلمین کی مظہر قرار نہیں دیا حالانکہ عہد نبویﷺ میں مسجدوں کے دروازے غیرمسلموں تک کھلے رہتے تھے! ان کے سوالات نے سناٹا طاری کردیا اور ان سوالوں کا تسلی بخش جواب کسی کے پاس نہیں تھا،سبھی کمال خاموشی سے سوالات سنتے رہے اور جواب دینے میں کسی نے پہل نہ کی اور سبھی پس و پیش سے کام لینے لگے،مبین شاکر نے کہا میں تمام مسالک کے علمإ اور ذمہ داروں سے کہوں گا کہ وہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں،فرقہ واریت کی بیخ کنی کے لیے اور اس امت کو جسد واحد بنانے کی خاطر پورے ملک کی مساجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیں تاکہ یک لخت ان کا درجہ( Status) بدل جاٸے کہ یہ فلاں فرقے کی نہیں بلکہ یہ اوقاف کی مسجدیں ہیں،
حکومتی عمل دخل سے ان میں خاص فرقوں کی تعلیم،تبلیغ اور سرگرمیوں پر پابندی ہونے کی وجہ سے اجتماعی زندگی کا تصور ابھرے گا اوراگلے چند سالوں میں لوگ اپنی شناخت فرقوں کی بجاٸے خالص مسلمان ہونے میں عافیت اور فخر کے ساتھ کراٸیں گے پھر ملک بھر کی ان تمام مساجد میں وہ تمام خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے جو آپ ھمیں پچھلے اڑھاٸی تین گھنٹے سے دکھا رھے ھیں،اس پر تمام مدعو نماٸندوں نے احتجاج سا کرنا شروع کردیا کہ یہ صاحب کیا اوٹ پٹانگ قسم کے سوالات اٹھا رہے ہیں اور ان ہونی قسم کی باتیں انہوں نے شروع کردی ہیں،انہیں بٹھایا جاٸے،ناظم اسٹیج دوڑتے ہوٸے اس ساٸل مقرر کے پاس گٸے اور کہا کہ آپ غیر متعلقہ سوالات کیوں کر رہے ہیں؟ھم یہاں رواداری اور ھم آھنگی کو فروغ دینے کی غرض سے اکٹھے ہوٸے ہیں نہ کہ مزید افتراق و انتشار کے لیے،اس پر مبین شاکر نے کہا کہ میری ان لوگوں سے آخری گزارش ھے کہ آپ مسجدیں محکمہ اوقاف کو نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں براہ کرم یہ واپس اللہ کو دے دیں جس کی یہ ہیں،اگر آپ نے ایسا کردیا تو پھرمسجد معبدبھی ہوگی،سماجی مرکز بی ہوگی،مدرسہ و مکتب بھی ہوگی،دارالضیوف بھی،معسکر بھی،عدالت بھی اور دعوت و ارشاد کا سنٹر بھی ہوگی اور اس کی لاکھوں برکات مزید بھی ظاھر ہوں گی
“اگر یہ نہیں تو بابا سب کہانیاں ہیں”
نہیں تو یہ بس فرقہ پرستوں کا ٹھکانہ،محدود اور قلیل مقاصدکا پہلےکی طرح مرکز ہی رہیں گی۔۔۔۔۔۔کھسر پھسر تو مبین شاکر کی گفتگو کے درمیان رک نہ سکی تھی البتہ جونہی وہ بات کرکے واپس اپنی سیٹ پہ چلے گٸے تو مجھ سمیت ہر کوٸی سکتے میں آگیا کہ یہ صاحب کیسی باتیں کرگٸے ہیں؟ پھر ہر کوٸی اپنے قریب بیٹھے ساتھی سے پوچھنے لگا کہ اس سے پہلے کبھی کسی سے ایسی عجیب باتیں سنی ھیں کہ “فرقہ پرستی اور مذہبی گروہ بندی کے خاتمہ کے لیے مسجدیں محکمہ اوقاف کو دے دی جاٸیں اور اس سے بھی بہتر ھے کہ واپس اللہ تعالی کو دے دی جاٸیں کیونکہ اللہ کی مسجدیں بریلوی،دیوبندی،اھلحدیث،جماعتی یا شیعہ نہیں اور اگر یہ مسجدیں بریلوی،دیوبندی،اھل حدیث،جماعتی اور شیعہ ہیں تو اللہ کی نہیں”ہر کسی کا جواب نفی میں تھا،احتجاجی فضإ کے بعد یکسر چھا جانے والی خاموشی سے ایسا محسوس ہورھا تھا کہ ذہنی طور پر ہر کوٸی سوچ رھا ھے اگر ایسا ہوجاٸے تو کمال ہوجاٸے اور ان مساجد میں عہد نبویﷺ کا پرتو نظر آنا شروع ہوجاٸے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *