Skip to content

فوج، عدلیہ پر تنقید، 5 سال سزا، الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء میں ترمیم کی جائے گی، وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کی منظوری دیدی

اسلام آ باد (نمائندہ ،ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون 2016ءمیں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم لانے کی منظوری دیدی۔ آرڈیننس کے تحت فوج، عدلیہ اور دیگر سرکاری اداروں پر تنقید کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دینے کی تجویز ہے، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیرجرم قرار دیدیا گیا ہے، قانون کے تحت عدالتوں کوپابند کیا گیا ہے کہ فیصلہ 6؍ ماہ میں کیا جائے، وزراء اور پارلیمنٹیرینز بھی انتخابی مہم میں حصہ لے سکیں گے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بھی کابینہ سے منظوری لے لی گئی ہے،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وفاقی کابینہ کو ارسال کردہ سمری میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیارائے عامہ اور سماجی رویے پر اثر انداز ہو ر ہا ہے،سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیرجرم قرار دیدیا گیا۔ وفاقی کابینہ کی جانب سےآرڈیننس منظوری پر ردعمل دیتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ و پیپلزپارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کے اجراء پر پارلیمنٹ صدرمملکت کیخلاف اقدامات کا سوچ سکتی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اہم قانون سازی کیلئے آرڈیننس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون 2016ءمیں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم لانے کی منظوری دیدی۔ آرڈیننس کے تحت فوج، عدلیہ اور دیگر سرکاری اداروں پر تنقید کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دینے کی تجویز ہے۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی کہ وفاقی کابینہ نے سر کولیشن کے ذریعے الیکڑانک کرائمز کی روک تھام کے قانون دو ہزار سولہ میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم لانے کی منظوری دیدی ہے۔ ذرا ئع کے مطابق آرڈیننس کے تحت اداروں پر تنقید کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی جبکہ فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کیخلاف نفرت انگیز مہم چلانے پر ایکشن ہوگا۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت کی منظوری کے بعد آرڈیننس کا اطلاق ہوگا- وزارت انفار میشن ٹیکنا لوجی کی جانب سےکابینہ کو بھیج گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ آئین پا کستان آ رٹیکل 25(1) کے تحت دستور پاکستان شہر یوں کی برا بر ی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ہم یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیابہت زیادہ بڑھ گیا ہےجو رائے عامہ اور سماجی رویے پر اثر انداز ہو ر ہا ہے۔اس بدلتی صورتحال کے تناظر میں وزارت قانون و انصاف نے انسدادالیکٹر انک کرائم ایکٹ2016میں بعض ترامیم تجویز کی ہیں جنہیں صدارتی آ رڈی ننس کے ذریعے شامل کیا جا ئے کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ کا سیشن نہیں ہے۔وزارت قانون کا توثیق کردہ صدارتی آرڈی ننس منظوری کیلئے پیش کیا جا تا ہے۔اسکی منظوری دی جا ئے۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ سمری کا بینہ میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔ دریں اثنا ء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں انتخابات کیلئے طے شدہ ضابطہ اخلاق میں تبدیلی اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی ’عزت اچھالنے‘ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے دو اہم مجوزہ قوانین وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجیے گئے ہیں۔پہلےقانون کےتحت پارلیمنٹیرینز کوالیکشن کمپین میں حصہ لینےکی اجازت دی گئی ہے جبکہ دوسرے قانون کے تحت سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیرجرم قرار دیدیا گیاہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ سوشل میڈیا پرلوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیرجرم قرار دیدیا گیا ہے-انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت عدالتوں کوپابند کیا گیا ہے کہ فیصلہ 6؍ماہ میں کیا جائے۔دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی بجائے آرڈیننس کے اجرا کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس ضمن میں وہ 73 کے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس کیلئے درکار ضروریات کو کررہے ہیں اور نہ ہی خود سے فیصلہ کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ اس بارے میں سوچے گی کہ وہ صدر کیخلاف کس طرح کا اقدام اٹھائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اہم قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے صدارتی آرڈی نینس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، جمہوری روایات اور پارلیمنٹ کی توہین ہے ۔ ہفتہ کو ایک بیان میں اپیکا ایکٹ میں ترمیمی آرڈی نینس لانے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ سینٹ کے اجلاس کے دو دن بعد اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اچانک منسوخ کردینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ایک واردات کے انداز میں آرڈی نینس لانا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کو جان بوجھ کر نظرانداز کرکے آرڈی نینس کے اجرا کے لئے خصوصی فضا بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ آزادی اظہار رائے جیسے حساس معاملے پر آرڈی نینس کے ذریعے پابندیاں لگانا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لئے انتہائی منفی اقدام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *