سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ غزوۂ بنی قریظہ
اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:
“اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اسی وقت بنو قریظہ کے مقابلے کے لیے کوچ کریں ، میں بھی وہیں جارہا ہوں -”
اس پر حضور اکرم ﷺ نے اعلان کرایا:
“ہر اطاعت گزار شخص عصر کی نماز بنو قریظہ کے محلے میں پہنچ کر پڑھے -”
اس اعلان سے مراد یہ تھی کہ روانہ ہونے میں دیر نہ کی جائے، آپ ﷺ نے خود بھی فوراً ہتھیار لگائے، زرہ بکتر پہنی، اپنا نیزہ دست مبارک میں لیا، تلوار گلے میں ڈالی… اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے –
آپ ﷺ کے گرد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ہتھیار لگائے گھوڑوں پر موجود تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تین ہزار تھی، ان میں 36 گھڑ سوار تھے، ان میں بھی تین گھوڑے آنحضرت ﷺ کے تھے، اس غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ اپنا قائم مقام مقرر فرمایا –
حضور اکرم ﷺ سے آگے آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ پرچم لیے ہوئے بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ آگے روانہ ہوئے تھے، اس لیے پہلے وہاں پہنچے، انہوں نے مہاجرین اور انصار کے ایک دستے کے ساتھ بنو قریظہ کے قلعے کے سامنے دیوار کے نیچے پرچم نصب کیا، ایسے میں یہودیوں نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کیا، اس پر حضرت علی اور دوسرے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو غصہ آگیا، نبی اکرم ﷺ وہاں پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں یہودیوں کی بدزبانی کے بارے میں بتایا، آپ ﷺ نے ان کی پوری آبادی کو گھیرے میں لینے کا حکم دے دیا، یہ محاصرہ پچیس دن تک جاری رہا ۔یہودی اس محاصرے سے تنگ آگئے، اور آخر کار آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوگئے ۔
حضور ﷺ نے انہیں باندھنے کا حکم فرمایا ۔ان کی مشکیں کس دی گئیں ، ان کی تعداد چھ سو یا ساڑھے سات سو تھی، انہیں ایک طرف جمع کردیاگیا ۔یہ سب وہ تھے جو لڑنے والے تھے، ان کے بعد یہودی عورتوں اور بچوں کو حویلیوں سے نکال کر ایک طرف جمع کیا گیا، ان بچوں اور عورتوں کی تعداد ایک ہزار تھی، ان پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کو نگران بنایاگیا ۔اب یہ لوگ بار بار آپ کے پاس آکر معافی مانگنے لگے ۔اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا تم اس بات پر رضامند ہو کہ تمہارے معاملے کا فیصلہ تمہارا ہی (منتخب کیا ہوا) کوئی آدمی کردے ” ” انہوں نے جواب دیا سعد بن معاذ (رضی الله عنہ) جو فیصلہ بھی کردیں ، ہمیں منظور ہے ۔سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مسلمان ہونے سے پہلے ان یہودیوں کے دوست اور ان کے نزدیک قابل احترام شخصیت تھے، حضور اکرم ﷺ نے ان کی یہ بات مان لی، سعد بن معاذ رضی الله عنہ غزوہء خندق میں شدید زخمی ہوگئے تھے، وہ اس وقت مسجد نبوی کے قریب ایک خیمے میں تھے، اب آنحضرت ﷺ کے حکم پر انھیں بنو قریظہ کی آبادی میں لایا گیا، ان کی حالت بہت خراب تھی ۔آخر وہ نبئ اکرم ﷺ وسلم کے پاس پہنچ گئے، انہیں ساری بات بتائی گئی… اس پر حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہہ نے کہا:
“فیصلے کا حق تو الله تعالیٰ ہی کا ہے یا پھر اللہ کے رسول کو ہے۔”
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“الله ہی نے تمہیں حکم دیا ہے کہ یہود کے بارے میں فیصلہ کرو۔”
اب انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا:
“میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، ان کا مال اور دولت مال غنیمت کے طور پر لے لیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام اور لونڈیاں بنالیا جائے۔”( حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہہ نے یہودیوں سے اپنی سابقہ دوستی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اتنا سخت فیصلہ اس لیے سنایا تھا کہ ان یہودیوں کا ظلم و ستم اور ان کی فتنہ انگیزی حد سے بڑھ گئی تھی، اگر انہیں یوں ہی زندہ چھوڑ دیا جاتا تو یقینی طور پر یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف بدترین سازشیں کرتے رہتے۔ان کا مزاج بچھو اور سانپ کی مانند ہوچکا تھا، جو کبھی ڈسنے سے باز نہیں آسکتا، اس لیے ان کا سر کچلنا ضروری تھا۔)
ان کا فیصلہ سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” تم نے الله تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ سنایا ہے…اس فیصلے کی شان بہت اونچی ہے… آج صبح سحر کے وقت فرشتے نے آکر مجھے اس فیصلے کی اطلاع دے دی تھی۔”
اس کے بعد نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بنو قریظہ کی حویلیوں میں جو کچھ مال اور ہتھیار وغیرہ ہیں ، سب ایک جگہ جمع کردیے جائیں ۔”
چنانچہ سب کچھ نکال کر ایک جگہ ڈھیر کردیا گیا، اس سارے سامان میں پندرہ سو تلواریں اور تین سو زرہیں تھیں ۔دو ہزار نیزے تھے، اس کے علاوہ بےشمار دولت تھی، مویشی بھی بے تحاشا تھے، سب چیزوں کے پانچ حصے کیے گئے، ان میں سے چار حصے سب مجاہدین میں تقسیم کیے گئے… یہاں شراب کے بہت سے مٹکے بھی ملے، ان کو توڑ کر شراب کو بہادیا گیا، اس کے بعد یہودی قیدیوں کو قتل کردیا گیا، قتل ہونے والوں میں ان کا سردار حئ بن اخطب بھی تھا۔بچوں اور عورتوں کو غلام اور لونڈی بنالیا گیا۔
اس واقعہ کے بعد حضرت سعد بن معاذ رضی الله عنہ غزوۂ خندق میں لگنے والے زخموں کے باعث شہید ہوگئے، ان کے جنازے میں فرشتوں نے بھی شرکت کی، انہیں دفن کیا گیا تو قبر سے خوشبو آنے لگی۔
قیدی عورتوں کے بارے میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جو عورتیں فروخت کی جائیں ، اپنے بچوں سے جدا نہ کی جائیں ( یعنی جہاں ماں رہے، وہیں اس کے بچے رہیں ، جب تک کہ بچہ جوان نہ ہوجائیں )اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو فروخت کرنا چاہے تو اسے اس کے بچے سے جدا نہ کرے۔”
اس کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ہزیل سے ان کی ناپاک حرکت کا انتقام لینے کا ارادہ فرمایا، بنو ھذیل نے رجیع کے مقام پر حضور صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو شہید کیا تھا، یہ لوگ خود آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور درخواست کی تھی کہ ان کے علاقے میں اسلام کی تعلیم کے لیے کچھ حضرات کو بھیج دیا جائے۔چنانچہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دس صحابہ رضی الله عنہہ کو ان کے ساتھ روانہ فرمایا، ان لوگوں نے انہیں دھوکے سے شہید کردیا، آپ صلی الله علیہ وسلم کو ان صحابہ کرام رضی الله عنہم کی مظلومانہ شہادت کا بے حد رنج تھا۔چنانچہ ان لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ فرمایا اور صحابہ کرام رضی الله عنہم کو تیاری کا حکم فرمایا… پھر لشکر کو لے کر روانہ ہوئے۔بظاہر تو شام کی طرف کوچ کیا تھا، مگر اصل مقصد بنو ہزیل کے خلاف کاروائی تھی، منزل کو اس لیے خفیہ رکھا گیا تاکہ دشمنوں کو جاسوسوں کے ذریعے پہلے سے معلوم نہ ہو اور مسلمان ان ظالموں پر بے خبری میں جاپڑیں ۔
مدینہ منوره میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنا قائم مقام حضرت عبداللہ بن اُمّ مکتوم کو مقرر فرمایا۔اس غزوۂ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کافی تعداد میں صحابہ رضی اللّٰہ عنہم تھے، ان میں سے بیس گھوڑوں پر سوار تھے۔
پہلے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے، جہاں صحابہ کرام رضی الله عنہم کو شہید کیا گیا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے وہاں ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، ادھر کسی طرح بنو ھزیل کو پتہ چل گیا کہ مسلمان ان پر حملہ کرنے کے لیے آرہے ہیں ۔وہ ڈر کے مارے پہاڑوں میں جا چھپے، جب حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو ان کے فرار کا پتہ چلا تو صحابہ کرام رضی الله عنہم کو مختلف سمتوں میں روانہ فرمایا… لیکن ان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔
آخر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے، اس غزوہ کو غزوہ بنی لحیان کہا جاتا ہے۔
راستے میں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم ابواء کے مقام سے گذرے، یہاں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی والدہ کو دفن کیا گیا تھا۔آپ صلی الله علیہ وسلم نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اپنی والدہ کی قبر نظر آگئی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کی… پھر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم روئے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو روتے دیکھ کر صحابہ کرام رضی الله عنہہ بھی روپڑے۔
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم مدینہ پہنچے، ابھی چند راتیں ہی گذریں تھیں کہ خبر ملی… عیینہ ابن حصین نے کچھ سواروں کے ساتھ مل کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی چراگاہ پر چھاپا مارا… اس چراگاہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے بیس اونٹ تھے… اونٹوں کی حفاظت کے لیے حضرت ابوذر غفاری رضی الله عنہ کے بیٹے تھے، اور حضرت ابوذر رضی الله عنہ کی بیوی بھی وہاں تھیں ۔ان حملہ آوروں نے حضرت ابوذر رضی الله عنہ کے بیٹے کو قتل کردیا۔
اس واقعہ کا سب سے پہلے حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله عنہ کو پتہ چلا… وہ اپنی کمان اٹھائے صبح ہی صبح چراگاہ کی طرف جارہے تھے، ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، وہ ان کا، گھوڑا لے کر آیا تھااور لگام سے پکڑ کر اسے ہنکارہا تھا، راستے میں ان کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ کے غلام سے ہوئی۔اس نے حضرت سلمہ رضی الله عنہ کو بتایا کہ عیینہ بن حصین نے کچھ سواروں کے ساتھ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی چراگاہ پر چھاپہ مارا ہے… اور وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اونٹوں کو لے گئے ہیں …چراگاہ کے محافظ کو انہوں نے قتل کردیا… اور ایک خاتون کو اٹھا کر لے گئے ہیں ۔
یہ سنتے ہی حضرت سلمہ رضی الله عنہ نے اپنے غلام سے کہا:
“اس گھوڑے پر بیٹھ کر روانہ ہوجاؤ اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو خبر کردو۔”
غلام تو اسی وقت روانہ ہوگی، ساتھ ہی سلمہ رضی الله عنہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر پکارے:
“لوگو! دوڑو… کچھ لوگ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اونٹ لے اڑے ہیں ۔”
یہ اعلان تین بار دہرا کر وہ اکیلے ہی لٹیروں کی طرف دوڑ پڑے۔