ضمنی انتخابات، حیران کن نتائج مظہر برلاس
پنجاب میں حالیہ ضمنی الیکشن میں لوٹے ٹھاہ ہوگئے ہیں۔ اب ان لوٹوں کے ورثا پریشان ہیں، پریشانی کا یہ سلسلہ لواحقین تک پھیلا ہوا ہے۔ صف ماتم ملک کے اندر اور باہر بچھ گئی ہے۔ چونکہ افسوس کیلئے بعض لوگ بیرون ملک بھی حاضر ہوں گے اس لئے میں نے احتیاطی طور پر باہر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لوٹوں کی اس بربادی میں بہت سے لوگ بے نقاب ہوگئے ہیں۔ اب تمام پارٹیوں نے میٹنگز رکھ لی ہیں۔ جب تک آپ یہ کالم پڑھیں گے کچھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ ایک بھائی نے لندن سے اپنے دوسرے بھائی کو فون کرکے یہی مشورہ دیا ہے کہ اسمبلیاں توڑ دی جائیں لیکن یہاں والا بھائی اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہتا ہے۔ پتہ نہیں کیا ہو نے والا ہے کہ الیکشن سے دو تین دن پہلے میرے ایک سندھی بھائی نے اپنےقریبی دوستوں سے کہا کہ …’’یار کچھ پتہ نہیں اگر میں نہ رہا تو میرے بچوں کا خیال ر کھنا…‘‘ ویسے یہ بات ہمارے معاشرے میں عام ہے، انسان اپنے دوستوںسے ہی کہتاہے، آخر معاشرے کی کچھ روایات اور اخلاقیات بھی تو ہیں۔
حالیہ ضمنی الیکشن سے قبل کچھ ٹی وی چینلز مجھے اپنی گفتگو کا حصہ بناتے تھے، میں ایک سادہ آدمی کی طرح پہلے ان کو لوٹوں کی تعریف بتاتا پھر اس تعریف کے ساتھ تاریخ بھی بتاتا اور پھر انہیں یہ بھی بتاتا کہ اس کھیل میں سب شامل ہیں مگر عمران خان اپنے مضبوط بیانیے، جاندار تقریروں اور شاندار جلسوں کے باعث حالات کو اس موڑپر لے آیا ہے کہ اب لوٹے نہیںبچیں گے اور پی ٹی آئی اپنے مخالفین کے تمام تر حربوں کے باوجود سولہ سترہ سیٹیں لے جائے گی، میری اس بات پر وہ ہنستے مگر عجیب بات ہے کہ وہی لوگ الیکشن کی شام مجھے فون کرکے پوچھ رہے تھے کہ آپ کو کس نے بتایا تھا، میں ان سے یہی عرض کرتا رہا کہ کسی کے بتانے کے پیچھے آپ لوگ لگ جاتے ہیں جبکہ میں خود حالات کا سیاسی نگاہوں سے تجزیہ کرتا ہوں، ایک دو کو تو میں نے کہہ ہی دیا کہ آپ کو تو بتانے والوں نے یہ بتایا تھا کہ پی ٹی آئی صرف تین سے چار سیٹیں لے گی مگر میں بتانے والوں کے پیچھے نہیں لگتا۔
اقتدار کی اس جنگ میں فاتح بننے کیلئے ن لیگ نے ہر طرح کا جتن کیا ۔الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دن بھی گرفتاریوں کی اطلاعات آتی رہیں، ن لیگ اقتدار کی یہ جنگ ہر قیمت پر جیتنا چاہتی تھی مگر پی ٹی آئی نےنظریئے، جذبے اور جوش سے مخالفین کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ اس مرتبہ عمران خان نے اپنی مرضی سے فیلڈنگ سیٹ کی اور انہوں نے خود بھی ایک انتھک آدمی کی طرح مہم چلائی۔ انہوں نے پورے لاہور کی الیکشن ڈے کی حکمت عملی پرویز خٹک کے سپرد کر رکھی تھی، اپنے تمام مرکزی اور صوبائی رہنمائوں کو مختلف حلقوں میں متعین کر رکھا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے بھی یوسف رضا گیلانی سمیت کئی لوگوں کو چپ کروا دیا ہے حالانکہ ن لیگ کا آخری جلسہ ملتان ہی میں تھا۔
میرا خیال ہے کہ ابھی پی ٹی آئی کو دو سیٹیں کم ملی ہیں۔ اگر عمران خان بہاولنگر چلے جاتے تو وہ سیٹ نکل سکتی تھی، دوسری سیٹ کہوٹہ کلرسیداں والی ہے جہاں سے ن لیگ کا امیدوار محض 49 ووٹوں سے جیتا ہے یہاں کرنل بشیر اعوان پی ٹی آئی کے امیدوار تھے، اس حلقے میں تاخیری حربے استعمال ہوئے حالانکہ 75 فیصد رزلٹ میں بشیر اعوان دو ہزار ووٹوں سے آگے تھے، ابھی پوسٹل بیلٹس کا شمار بھی شاید باقی ہے۔ میجر طاہر صادق کہتے ہیں کہ ’’ہم اپنی جیتی ہوئی سیٹ کسی کو تحفے میں نہیں دیں گے بلکہ یہاں گنتی دوبارہ کروائیں گے…‘‘ یہ سب باتیں ٹھیک ہیں مگر یہاں کچھ پہلوانوں کی لڑائی ہے، ان میں سے بعض ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہیں اور بعض کی عمریں ساٹھ سال سے کم ہیں۔ بس یہ بوڑھے اور جوان پہلوانوں کا مقابلہ ہے۔
جونہی الیکشن نتائج آنا شروع ہوئے تو مستعفی صوبائی وزیر ملک احمد خان کھائی والا نے شکست تسلیم کرلی۔ یہ ایک اچھی روایت ہے بلکہ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے ۔ اس شکست کو مریم نواز نے بھی تسلیم کیا حالانکہ انتخابی مہم کے فوراً بعد انہیں کورونا ہوگیا۔ شکر ہے ان کے تمام جلسے مکمل ہوگئے ورنہ ایک اور بہانہ مل جاتا۔ اس دوران کئی برساتی ترجمان یہی بیان کرتے کہ …’’ جناب! ہماری تو کرائوڈ پلر لیڈر کو کورونا ہوگیا تھا ورنہ یہ ہو جاتا، وہ ہو جاتا…‘‘ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مریم نواز نے پوری انتخابی مہم چلائی ، اللہ انہیں صحت دے۔
ویسے اس ضمنی الیکشن کی پوری مہم میں مجھے نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ بہت یاد آتے رہے، وہ 90ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ’’عالمی ضمیر فروش کانفرنس‘‘ کروایا کرتے تھے ان کا سلوگن …’’ عوام بے وقوف لیڈر بے ضمیر…‘‘ تھا، اب نیا زمانہ ہے اب لوگ بے وقوف ثابت نہیں ہوئے بلکہ اب تو لوٹوں کو دیکھ کر میرؔ کا مصرع یاد آ جاتا ہے کہ ؎
پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں