سعودی عرب میں 80 لاکھ سے زائد تارکین روزگار کی غرض سے موجود ہیں جن میں تارکین کی سب سے بڑی کمیونٹی پاکستانیوں کی ہے جن کی تعداد 27 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ تارکین ہر سال کروڑوں ریال کا خطیر سرمایہ پاکستان بھجوا کر اپنے گھر والوں کی کفالت کررہے ہیں اور دوسری جانب اس زر مبادلہ سے پاکستان کی کمزور معیشت کو بہت بڑا سہارا بھی مل رہا ہے۔
تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے اور خصوصاً کورونا کے دوران معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے سعودی کمپنیوں کے حالات بھی خراب ہیں۔ بن لادن کمپنی دُنیا بھر میں تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصی مشہور ہے۔ تاہم اس کمپنی کے معاملات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کارکنان کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ سے پاکستانی کارکنان خاصے پریشان تھے۔
بن لادن کمپنی نے 342 پاکستانیوں کے واجب الادا بقایاجات سفارت خانہ پاکستان کو فراہم کر دیے ہیں۔ ایسے افراد جن کے بقایاجات بن لادن کمپنی کے ذمے باقی ہیں یا تا حال زیر التوا ہیں، براہ مہربانی سفارت خانہ پاکستان ریاض سے رابطہ کریں۔ شکریہ۔
تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے بن لادن کمپنی کے سینکڑوں پاکستانی متاثرین کے واجب الادا بقایا دلوا دیئے ہیں۔
بن لادن کمپنی کی جانب سے 300 سے زائد پاکستانی مزدوروں کی روکی گئی تنخواہوں کی ریکوری کیلئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کوششیں کی تھیں۔زلفی بخاری کی جانب سے کوششوں کے بعد سعودی کمپنی نے 7 لاکھ ریال کے واجبات جاری کردیئے رقم کے چیکس اوور سیز اوور سیز فاوٴنڈیشن کی طرف سے پاکستان میں مزدوروں کے خاندانوں کو تقسیم کی گئی۔
سعودی عرب کے پاکستانی سفارت خانے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ایسے افراد جن کے بقایاجات بن لادن کمپنی کے ذمے باقی ہیں یا تا حال زیر التوا ہیں، براہ مہربانی سفارت خانہ پاکستان ریاض سے رابطہ کریں۔