Skip to content

روس، یوکرین کشیدگی: امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی روس کے خلاف تجارتی پابندیاں، صدر پوتن پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام

امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف تجارتی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے روس کی جانب سے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیجنے کے اقدام کو ‘بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی’ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے گذشتہ روز مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈونیٹسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ باغی 2014 سے یوکرین کی افواج سے لڑ رہے ہیں اور وہ وہاں ان علاقوں کو ‘آزاد ریاستیں’ قرار دیتے ہیں۔
مغربی طاقتوں کو خطرہ ہے کہ اس سے روسی افواج کا یوکرین کے مشرقی علاقوں میں داخل ہونا آسان ہوجائے گا۔
’امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے خلاف متحد‘
روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے دو روسی بینکوں وی ای بی اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ یعنی ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کی مزید دفاعی امداد کرے گا جبکہ نیٹو اتحاد کے ممالک میں امریکی دستے بھیجے جائیں گے۔
اس موقع پر صدر بائیڈن نے روسی صدر پوتن پر الزام لگایا کہ انھوں نے یوکرین کی سالمیت پر حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن کی تقریر سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ یورپ میں سکیورٹی امور پر بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا روس سے لڑنے کا کوئی ادارہ نہیں مگر نیٹو اتحاد کے علاقوں کی حفاظت کی جائے گی۔
یوکرین کے خلاف روسی اقدامات پر عالمی ردعمل
برطانوی حکومت نے تنبیہ کی ہے کہ روسی صدر ولادیمر پوتن کی جانب سے یوکرین کے بارے میں لیے گئے اقدامات کے باعث روس پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی تاہم روس کے نائب وزیر خارجہ آندرئی رودنکو نے کہا ہے کہ اگر روس کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ باغیوں کے زیر انتظام دونوں ‘ریاستوں’ میں اپنے فوجی اڈے قائم کر لیں گے۔
صدر پوتن کئی ماہ تک روسی فوج کی جانب سے یوکرین پر حملے کے دعووں کی تردید کرتے رہے لیکن اب انھوں نے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیج دیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان دستوں کا مقصد ’امن قائم رکھنا ہے۔‘
خیال رہے کہ جرمنی نے روسی گیس پائپ لائن نورڈ سٹریم ٹو کی منظوری روک دی ہے۔
امریکہ نے روس کے اس موقف کو سخت الفاظ میں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس جنگ کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ ادھر یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’کسی سے خوفزدہ نہیں ہے۔‘
حالیہ برسوں میں لیوہینسک اور ڈونسک میں لوگوں کو بڑی تعداد میں روسی پاسپورٹ دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سے خواتین، بچوں اور بوڑھے افراد کو باغیوں کے زیرِ قبضہ ان علاقوں سے محفوظ جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز یعنی پیر کو صدر پوتن نے اپنے ایک گھنٹے طویل خطاب میں کہا تھا کہ یوکرین ان کے ملک کی تاریخ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انھوں نے مشرقی یوکرین کو قدیم روسی سرزمین کہا تھا۔
اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر واسلی نیببنزیا نے مشرقی یوکرین کو یوکرین کی جارحیت سے بچانے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس ڈونباس میں ایک نئی خونریزی نہیں ہونے دینا چاہتا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
روس دنیا میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
البتہ برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ساتھ ساتھ روس پر دھمکیوں کی پابندی کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔
عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے سرمایہ کاری مائیک کری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ ‘دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کے ہر دس میں سے ایک بیرل تیل روس کا فراہم کیا ہوا ہوتا ہے اور ان حالات میں تیل استعمال کرنے والے صارفین بہت متاثر ہوں گے۔
یورپی یونین، روس اور نیٹو کا موقف
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد وہ اپنے ردعمل میں یوکرین کے ساتھ اتحاد، سختی اور عزم کا اظہار کریں گے۔
روس کے اس اقدام نے یوکرین کے ساتھ جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں یوکرین کی سرحد پر پہلے ہی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ روسی فوجی تعینات ہیں۔
روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ نہیں کرے گا تاہم امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوین اس حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس اعلان کے فوراً بعد قوم سے خطاب میں پوتن نے کہا کہ جدید یوکرین کو ’سوویت روس نے بنایا۔‘ اپنے ایک بیان میں انھوں نے یوکرین کو ’قدیم روسی زمین‘ قرار دیا ہے۔
روسی ہم منصب کے فیصلے کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں سے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس صدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور امریکی شہریوں کی جانب سے مالی معاونت نہیں کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق اس حکم کے تحت ایسے افراد پر پابندی لگائی جائے گی جو یوکرین کے ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ’میں روس کے اس فیصلے کی مذمت کرتا ہوں جس میں نام نہاد آزاد ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے اور منسک جیسے معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے جو تنازع کے حل کے لیے کِیے گئے تھے اور روس ان میں فریق ہے۔
انھوں نے اپنے بیان میں روس پر الزام لگایا کہ ایسا کرنے سے روس یوکرین میں مداخلت کی وجہ ڈھونڈ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *