Skip to content

روس، یوکرین سرحدی کشیدگی: یوکرین میں ایمرجنسی نافذ، شہریوں کو روس سے نکلنے کی ہدایت

روس کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کے باعث یوکرین میں آئندہ 30 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جبکہ روس میں رہنے والے شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہاں سے فوری طور پر نکل جائیں۔
یوکرین کی پارلیمان نے اس بِل کو منظوری دی ہے جس میں ذاتی دستاویزات کا تحفظ شامل ہے اور اس کی مدد سے حکومت ضرورت کے تحت کرفیو لگا سکتی ہے۔
اس کے تحت یوکرین کی جانب سے ڈیجیٹل اور ریڈیو ذرائع ابلاغ کی سروسز کی بندش کی جاسکے گی۔ یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
اس قانون کے تحت یوکرین کے فوجی حکام کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ اعلان یوکرین کے تمام علاقوں پر نافذ ہوگا، سوائے ان دو مشرقی علاقوں کے جہاں سنہ 2014 سے ایمرجنسی نافذ ہے۔
یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کرنے اور وہاں اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں مغربی ممالک بشمول امریکہ، جرمنی اور برطانیہ نے روس پر تجارتی پابندیاں لگائی تھیں۔
ڈونیسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ باغی 2014 سے یوکرین کی افواج سے لڑ رہے ہیں اور وہ وہاں ان علاقوں کو ‘آزاد ریاستیں’ قرار دیتے ہیں۔ مغربی طاقتوں کو خطرہ ہے کہ اس سے روسی افواج کا یوکرین کے مشرقی علاقوں میں داخل ہونا آسان ہوجائے گا۔
روسی صدر ولادیمر پوتن نے یوکرین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بارے میں کہا کہ روس ابھی بھی مغربی ممالک کے ساتھ ‘سفارتی حل’ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
البتہ دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ نے روسی جارحیت پر مغربی ممالک سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر روس پر سخت سے سخت پابندیاں عائد کریں۔
روس کے ڈیفنڈر آف آف دا فادرلینڈ ڈے کے موقع پر ولادیمر پوتن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ‘مخلصانہ گفتگو’ کے لیے ہمیشہ منتظر ہیں۔
انھوں نے ساتھ ساتھ روسی افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھرپور طریقے سے تیار ہیں اور انھیں یقین ہے کہ وہ ملکی مفاد کے دفاع کے لیے حاضر ہیں۔
دوسری جانب گذشتہ روز برطانیہ اور امریکہ نے روس کے خلاف مختلف پابندیوں کا اعلان کیا جس کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں مغربی ممالک کو کہا کہ وہ ان کے شکرگزار ہیں اور چاہتے ہیں کہ صدر پوتن پر مزید دباؤ بڑھایا جائے۔
حالات کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر یوکرین نے روس میں رہنے والے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور اپنے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ روس نہ جائیں۔
یوکرین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ روس جانے سے اجتناب کریں اور یہ کہ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف بڑھتی جارحیت کے نتیجے میں وہ وہاں رہنے والے یوکرینی شہریوں کو سفارتی مدد فراہم نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ روس میں لاکھوں کی تعداد میں یوکرینی شہری رہائش پذیر ہیں۔
’امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے خلاف متحد‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف تجارتی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے روس کی جانب سے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیجنے کے اقدام کو ‘بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی’ قرار دیا ہے۔
روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے دو روسی بینکوں وی ای بی اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ یعنی ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کی مزید دفاعی امداد کرے گا جبکہ نیٹو اتحاد کے ممالک میں امریکی دستے بھیجے جائیں گے۔
اس موقع پر صدر بائیڈن نے روسی صدر پوتن پر الزام لگایا کہ انھوں نے یوکرین کی سالمیت پر حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن کی تقریر سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ یورپ میں سکیورٹی امور پر بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا روس سے لڑنے کا کوئی ادارہ نہیں مگر نیٹو اتحاد کے علاقوں کی حفاظت کی جائے گی۔
یوکرین کے خلاف روسی اقدامات پر عالمی ردعمل
برطانوی حکومت نے تنبیہ کی ہے کہ روسی صدر ولادیمر پوتن کی جانب سے یوکرین کے بارے میں لیے گئے اقدامات کے باعث روس پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی تاہم روس کے نائب وزیر خارجہ آندرئی رودنکو نے کہا ہے کہ اگر روس کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ باغیوں کے زیر انتظام دونوں ‘ریاستوں’ میں اپنے فوجی اڈے قائم کر لیں گے۔
صدر پوتن کئی ماہ تک روسی فوج کی جانب سے یوکرین پر حملے کے دعووں کی تردید کرتے رہے لیکن اب انھوں نے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیج دیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان دستوں کا مقصد ’امن قائم رکھنا ہے۔‘
خیال رہے کہ جرمنی نے روسی گیس پائپ لائن نورڈ سٹریم ٹو کی منظوری روک دی ہے۔
امریکہ نے روس کے اس موقف کو سخت الفاظ میں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس جنگ کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ ادھر یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’کسی سے خوفزدہ نہیں ہے۔‘
حالیہ برسوں میں لیوہینسک اور ڈونسک میں لوگوں کو بڑی تعداد میں روسی پاسپورٹ دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سے خواتین، بچوں اور بوڑھے افراد کو باغیوں کے زیرِ قبضہ ان علاقوں سے محفوظ جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز یعنی پیر کو صدر پوتن نے اپنے ایک گھنٹے طویل خطاب میں کہا تھا کہ یوکرین ان کے ملک کی تاریخ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انھوں نے مشرقی یوکرین کو قدیم روسی سرزمین کہا تھا۔
اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر واسلی نیببنزیا نے مشرقی یوکرین کو یوکرین کی جارحیت سے بچانے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس ڈونباس میں ایک نئی خونریزی نہیں ہونے دینا چاہتا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
روس دنیا میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
البتہ برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ساتھ ساتھ روس پر دھمکیوں کی پابندی کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔
عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے سرمایہ کاری مائیک کری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ ‘دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کے ہر دس میں سے ایک بیرل تیل روس کا فراہم کیا ہوا ہوتا ہے اور ان حالات میں تیل استعمال کرنے والے صارفین بہت متاثر ہوں گے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *