اسلام آ باد،لاہور (نمائندہ ،ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے میاں چنوں کے نواحی قصبہ تلمبہ میں مقدس اوراق کو جلانے کے الزام میں مشتعل ہجوم کی جانب سے ایک شخص کو ہلاک کرنے کے معاملہ کا نو ٹس لے لیا۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ کسی فرد/گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائیگی چنانچہ انبوہی تشدد (Mob lynchings) کو نہایت سختی سےکچلیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نےIG پنجاب سےمیاں چنوں واقعےکےذمہ داروں اور فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہنےوالےپولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں۔بلاول بھٹو نے تلمبہ واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مشتعل جتھوں کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا،فواد چوہدری نے کہا کہ سیالکوٹ اور میاں چنوں جیسے واقعات عشروں سے نافذ تعلیمی نظام کا حاصل ہیں ، اصلاح نہ ہوئی تو بڑی تباہی کیلئے تیار رہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں جتھوں کے ہاتھوں قتل کے واقعات شرمناک اور تشویشناک ہے ،سینیٹر ساجد میر حکومت اپنی رٹ نافذ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ تلمبہ واقعے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ میں نے بارہا اپنے نظام تعلیم میں تباہ کن شدت پسندی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا سیالکوٹ اور میاں چنوں جیسے واقعات عشروں سے نافذ تعلیمی نظام کا حاصل ہیں یہ مسئلہ قانون کے نفاذ کا بھی ہے اور سماج کی تنزلی کا بھی، اسکول، تھانہ اور منبر اگر ان تین کی اصلاح نہ ہوئی تو بڑی تباہی کیلئے تیار رہیں۔ ادھر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خانیوال میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشتعل جتھوں کو بے لگام نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سلسلہ پورے معاشرے کو عدم تحفظ سے دوچار کردیگا، حکومت واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تلمبہ کے 17موڑ پر ہونے والے سانحے نے ایک بار پھر پوری قوم کا سر شرم سے جھکادیا، سانحہ سیالکوٹ کے بعد سانحہ تلمبہ جیسے واقعات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے واقعے کی مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ ملک میں قانون کو ہاتھ میں لینے اور جتھوں کے ہاتھوں قتل کرنے کے بڑھتے واقعات قابل مذمت ہے، حکومت سماج میں بڑھتے انتشار پر موثر اقدامات کیا کرتی، اسے اس معاملے کا شعور اور احساس تک نہیں، معاشرے کے تمام طبقات کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے جامع حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ سیالکوٹ سانحے کی طرح فیصل آباد کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل ووزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے علماء و مشائخ اور تمام مذاہب کے قائدین تلمبہ واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ خانیوال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلمبہ واقعے کے مجرموں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور وہ کیفر کردار تک پہنچیں گے ، خود ہی جج ، خود ہی مدعی ، خود منصف کا نظام نہیں چل سکتا، توہین رسالت اور توہین مذہب کے قانون کی موجودگی میں خود لوگوں کو قتل کرنے کے رحجان کے خاتمے کیلئے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، تلمبہ واقعے میں قتل ہونے والا ذہنی معذور تھا، قاتلوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا ہے۔دریں اثنا مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی رٹ نافذ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ توہین مذہب کا بے بنیاد الزام لگانا اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا خود توہین مذہب، توہین مذہب حساس معاملہ ہے، الزام لگانے والے کو ہی ثبوت دینا ہوتے ہیں۔ملک بھر کے علماءو مشائخ اور تمام مذاہب کے قائدین نےواقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے۔