Skip to content

جوڈیشل کو فیصلہ مسترد کردیا حکومتی اتحاد

جوڈیشل کو فیصلہ مسترد کردیا، حکومتی اتحاد
لاہور(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) حکمراں اتحاد نے سپریم کورٹ کے فیصلےکو ’’جوڈیشل کو‘‘ قرار دیتے ہوئے مستردکردیا۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ تین ججز کے بینچ کے اس فیصلے سےسپریم کورٹ نے جمہوریت کاعدالتی قتل کیا ہے۔اپنے بیان میں ان کا کہناتھاکہ ہم نےکبھی فوجی آمریتوں کو قبول نہیں کیا تو عدالتی مارشل لاؤں کو بھی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان میں عدالتی فیصلے کو ’’جوڈیشل کو‘‘قراردیتے ہوئے کہاکہ انصاف کا قتل نامنظور ۔ ادھرمیڈیاسے گفتگومیںوفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو فیصلہ متنازع نہ ہوتا‘اپنی مرضی سے آئین کی تشریح کی جا رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں مزید تقسیم اور انتشار پیدا ہوگا، نواز شریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد کا آج سے دوسرا باب شروع ہوا ہے، آئین اور پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کو ان جھکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوگیا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے، 2018ء میں عوام کا چوری کیا گیا اصل مینڈیٹ عوام کو واپس دلوائیں گے ۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک فیصلے سے پنجاب کے اوپر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دیا جائے جس کا پنجاب میں مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں جوڈیشل کو سے مطابقت رکھتا ہے‘ آدھی سے زیادہ عوام اس فیصلے کو نہیں مانتی۔فل کورٹ بن جاتی تو آج کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ اس موقع پر ملک احمد خان نے کہاکہ عدلیہ کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا پارٹی ہیڈ ہدایت کر سکتا ہے یا پارلیمانی پارٹی۔ انہوںنے کہاکہ حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں میں 25 کو سپریم کورٹ کے حکم پر شمار نہیں کیا گیا،سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے میں قرار دیا کہ ووٹ ڈالا تو جائے گا لیکن شمار نہیں ہو گا،اس پر وکلاء برادری اور قانونی ماہرین کے اذہان میں بہت ابہام تھا،ابھی سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو ملنے والے دس ووٹ شمار کر لئے۔ انہوںنے کہاکہ ایک معاملے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا،پہلے سپریم کورٹ نے ایک ٹرینڈ سیٹ کیا پھر خود ہی اسی کے الٹ فیصلہ بھی دے دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *