انصاف کی فتح عوامی مینڈیٹ کا احترام ہوا تحریک انصاف
اسلام آباد (ایجنسیاں)تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہاہےکہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا گیا ہے ۔پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اسدعمر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کافیصلہ دو ٹوک ہے، اگر کسی نے گورنر راج لگانے کی کوشش کی تو وہ گھنٹوں بھی نہیں چلے گا‘ پاکستان روشن مستقبل کی طرف جا رہا ہےجبکہ اپنے بیان میں پی ٹی آئی رہنماء فواد چوہدری کا کہناتھاکہ عوام کو عمران خان کی قیادت میں جمہوریت کی یہ عظیم فتح مبارک ہو‘اصولی طورپر پنجاب کےا نتخابات کے بعد حمزہ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا لیکن وہ بے اصولی کی سیاست میں پڑگئے ‘آج سپریم کورٹ نے آئین بحال کیا‘ پنجاب میں ایک جمہوری حکومت کا آغاز ہوا ہے ۔ادھر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج انصاف کی فتح ہوئی ہے، آئین کی بالادستی کو قبول کیا گیا ہے، عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا گیا ہے۔شہبازشریف قوم کو مزیدنہ آزمائیں ‘فوری طور پر باوقار طریقے سے مستعفی ہوں‘ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے جو کردار ادا کیا وہ شرمناک ہے، انہوں نے آئین کو روندا‘سپریم کورٹ نے بڑے حوصلے، خندہ پیشانی، حوصلے سے حکومت کی دھمکیوں کو برداشت کیا ہے، ہم عدلیہ کے شکر گزار ہیں، وزیر قانون کو کیا اختیار تھا کہ وہ روسٹرم پر آ کر گفتگو کریں، انہوں نے دھمکانے کی کوشش کی، ثابت ہو گیا کہ عدلیہ آزاد ہے، اس فیصلے اور ان انتخابات کے بعد ملکی سیاست ایک نیا رخ اختیار کرے گی، عمران خان بہت جلد عوام سے رجوع کریں گے۔مستقل حل صاف اور شفاف انتخابات ہیں، پرویز الٰہی حلف اٹھائیں گے‘ انہوں نے اپنے اختیارات عمران خان کو سونپ دیئے ہیں اور کہا ہے کہ میں مشاورت سے چلوں گا۔انہوں نے شہباز شریف سے کہوں گا کہ اسمبلیاں تحلیل اور نئے انتخابات کی تیاری کریں۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اسد عمر کا کہنا تھا کہ پچھلے چار مہینے میں پاکستان کی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ جمہوری مینڈیٹ کسی اور کے پاس ہو اور بند کمروں میں سازشوں کی بنیاد پر اس عوام کے مینڈیٹ رکھنے والے سے اقتدار چھینا گیا ہو لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بیروانی مداخلت ہوگئی اور دنیا کی بڑی طاقتوں نے زور لگا دیا لیکن عمران خان جھکنے کو تیار نہیں ہوا اور قوم اس لیڈر کیساتھ کھڑی ہو گئی۔پاکستان واقعی قوم بن چکی ہے، اور وہ کسی کی ڈکٹیشن لینے کو تیار نہیں ہے، یہ دلیری جو قوم نے دکھائی ہے کہ غلامی منظور نہیں ہے، اور پاکستان کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جس کا دعویٰ ہے کہ وہ سب پر بھاری ہے، وہ 21 جولائی کی رات کو ایک اور خط لہرا کر پاکستان کی عوام کا مینڈیٹ نہیں چھین سکتا۔