اسلام آباد (تبصرہ / انصار عباسی) اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 10؍ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے انتخاب نے کابینہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو پرکھنے کے معیار کے حوالے سے کئی لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، لیکن یہ معاملہ ’’اندھوں کا قائد بھی اندھا‘‘ کا لگتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سربراہ ہیں لیکن اس ڈویژن کو بھی کارکردگی فہرست میں کوئی جگہ نہیں ملی۔ وزیراعظم کی اپنی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فہرست میں 18واں نمبر ملا ہے۔
جن لوگوں کو بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان کی کئی بڑی ناکامیاں ہیں، جبکہ جو لوگ ناکام ہوئے ہیں وہ ایسے شعبہ جات کے سربراہان ہیں جن کے متعلق حکومت عموماً دعوے کرتی ہے کہ انہوں نے شاندار کام کیا ہے اور دنیا کے دیگر ملکوں کیلئے بھی مثال قائم کی ہے۔
کامیابیوں اور ناکامیوں کے ان سرکاری دعووں کے بیچ، خراب کارکردگی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے حالانکہ حکومت عوام کے آگے بیان دیتے وقت کچھ اور ہی دعوے کرتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیں تو وزارت خزانہ کو بہترین کارکردگی دکھانے والے 10؍ افراد کی فہرست میں کوئی جگہ نہیں ملی۔
حالانکہ یہ مثال عمومی طور پر کہی جانے والی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کی معیشت اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حالت بڑی خراب ہے لیکن ساتھ ہی یہ پی ٹی آئی حکومت کے اس دعوے کی بھی نفی کرتی ہے کہ اس نے معاشی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایسی کامیابیاں کہ جن کی بین الاقوامی کمیونٹی بھی تعریفیں کرتی ہے۔
حکومت دس ارب درختوں کے سونامی پروجیکٹ کو اپنا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ اس سے ماحولیات کے شعبے میں بہت بڑا کام کیا گیا ہے اور یہ عالمی برادری کیلئے نقش قدم پر چلنے کیلئے ایک بہترین مثال ہے لیکن جن لوگوں نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے انہیں 10؍ بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی فہرست میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
اسی طرح، وزیراعظم عمران خان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ پاکستان نے کورونا سے نمٹنے کیلئے تشکیل دی گئی پالیسی کے مطابق عمل کرنے میں بہت بہتر کام کیا ہے اور یہ دیگر ملکوں کیلئے ایک مثال ہے۔ لیکن یہاں بھی وزارت صحت کی کوئی تعریف کی گئی اور نہ وزیراعظم خان کے مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے کام کو سراہا گیا۔
تاہم، وزارت خارجہ اور اس کے وزیر کو وہی ملا جو ان کا حق تھا کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات ماضی کے مقابلے میں خراب ہوئے ہیں وزیراعظم عمران خان حماد اظہر کی تعریف کرتے ہیں اور کئی بار سب کے سامنے ان کو سراہا بھی ہے لیکن جمعرات کی تقریب نے توانائی کے شعبے میں حماد اظہر کی وزارت اور ان کی خراب کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
کئی لوگ ایسے ہیں جو خود کو ترّم خان سمجھتے ہوں گے لیکن انہیں بھی کارکردگی کی فہرست میں خراب جگہ ملی۔ وزیر قانون فروغ نسیم ایسی مثالوں میں سے ایک ہیں اور ایک ذریعے نے تو یہ بھی کہا ہے کہ فروغ نسیم کے تحت وزارت قانون کو سازشوں اور غلط مشورے دینے کے معاملے میں فہرست میں اول نمبر پر رکھنا چاہئے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی بدقسمت ٹھہرے کہ کپتان کے ذہن میں ان کا نام تک نہ آیا۔ تاہم، یہ معلوم نہیں کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت کو بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا حالانکہ پاکستان ماسوائے چاول تقریباً سبھی اناج درآمد کر رہا ہے۔
سی پیک کے تحت وزارت مواصلات بڑی سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر کی ذمہ دار ہے لیکن وزارت کے سبھی پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہیں۔ سکھر حیدرآباد موٹر وے گزشتہ پانچ سال سے تاخیر کا شکار ہے۔ سی پیک کی مغربی راہداری کو 2018ء میں مکمل ہونا تھا لیکن یہ گزشتہ ماہ کی مکمل ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مراد سعید کو نمبر ون وزیر قرار دیا گیا ہے۔
سی پیک کے مسائل کے باوجود اسد عمر کو دوسرا بہترین وزیر قرار دیا گیا۔ شیرین مزاری کو بھی بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل کیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو گمشدہ افراد کے حوالے سے پیش کی گئی اس قانون سازی میں کامیابی نہیں ملی جس پر شیرین مزاری نے کام کیا تھا۔
یہ وجہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ شیخ رشید نے ایسا کیا کر دکھایا ہے کہ انہیں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ حقیقتاً، امن عامہ کی صورتحال بگڑ رہی ہے اور دہشت گردی نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
رزاق دائود کو بھی بہترین کارکردگی دکھانے والا قرار دیا گیا ہے حالانکہ سوال تو یہ کرنا چاہئے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں زبردست کمی اور برآمدی شعبے کو دی گئی سہولتوں اور بے مثال مراعات کے باوجود ملکی برآمدات میں کمی کیوں ہو رہی ہے۔
یہ دن شبلی فراز، غلام سرور، پرویز خٹک، زبیدہ جلال، عمر ایوب، طارق چیمہ، امین الحق، فہمیدہ مرزا، علی امین گنڈا پور، فواد چوہدری، فروغ نسیم، علی حیدر زیدی، اعجاز احمد شاہ، محمد میاں سُومرو، اعظم سواتی، صاحبزادہ محبوب سلطان ، مونس الٰہی اور دیگر کیلئے خراب رہا۔ لیکن ایسی کوئی فہرست نہیں ہے جس میں پتہ چل سکے کہ کس نے سب سے زیادہ خراب کارکردگی دکھائی۔