Skip to content

اسٹے آرڈرز سے انتظامی بحران، کھربوں روپے FBR جمع نہیں کر پارہا، صرف عدلیہ ذمہ دار نہیں، ایسا فورم چاہئے جہاں حل نکلے، وفاقی کابینہ

اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے عدالتوں میں اسٹے آرڈرز کی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بڑا انتظامی بحران پیدا ہوچکا ہے‘اس وقت تقریباً 950 اسٹے آرڈرز ہیں‘ صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 3 کھرب روپے کے ہیں اور 3 ہزار ارب روپے ہائی کورٹس یا عدالتوں کے فیصلوں اور اسٹے آرڈرز کی وجہ سے ایف بی آر جمع نہیں کر پا رہا ہے‘یہ بات تو طے ہے کہ صرف عدلیہ اس کی ذمہ دار نہیں ‘ اس میں حکومتی وکلا اور اداروں کی بھی غلطیاں ہوں گی‘کابینہ نے وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اہم ملکی امور پر مشاورت کرنے کے لئے فورم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے‘ہم سمجھتے ہیں عدلیہ کے لیے ان معاملات پر ایسا سیٹ اپ ہونا چاہیے جہاں ہم مل بیٹھ کر ان معاملات کا کوئی حل نکال سکیں‘یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ ملک کی بہت اہم انتظامی ضرورت ہے‘وزیر قانون سے کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں‘وفاقی کابینہ نے اہم شخصیات بالخصوص خواتین پر الزامات اور ان کے خلاف سوشل میڈیا اورچندچینلز پر گھٹیا زبان کے استعمال پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لئے قانون سازی پر زوردیا ہے‘پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی، اس میں شبہ نہیں‘اپوزیشن میں حکومت گرانے کی سکت نہیں ہے‘اپوزیشن نے حکومت گرانے کی 13 بار ناکام کوششیں کیں، ہمیں تحریک عدم اعتماد نہیں، یہ لوگ جیلوں میں نظر آ رہے ہیں، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، مریم نواز پاکستان کی تاریک علامتیں ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیں، یہ ماضی کے لوگ ہیں‘ کابینہ نے سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دی‘کابینہ نے بین الاقوامی کمپنی پیوجیو کو پاکستان میں گاڑیوں کے کاروبار کے آغاز کے لئے اپنی گاڑیاں ٹیسٹنگ کی غرض سے درآمد کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 34 ہزار 500 میٹرک ٹن دال مونگ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت افغانستان برآمد کرنے، سعودی عرب کے ساتھ 821.8 ملین ڈالر قرضوں کی موخر ادائیگی کے معاہدے کی منظوری دی، 2027ء تک مجموعی طور پر تقریباً چار ارب ڈالر کی ادائیگیاں موخر ہو جائیں گی جو ملکی ترقی کے لئے استعمال کی جاسکیں گی، کابینہ نے وفاقی حکومت کے گریڈ1 تا19 تک کے ملازمین اور ایف سی و رینجرز کے لئے 15 فیصد ڈسپیریٹی ریڈیکشن الائونس 2022ء کی منظوری دے دی ہے۔ منگل کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اہم ملکی امور پر مشاورت کرنے کے لئے فورم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس فورم کی موجودگی میں اہم انتظامی امور میں غیر ضروری التوا ختم کرنے میں مدد ملے گی۔اس وقت ایف بی آر کے 300 ٹریلین روپے اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے 250 ارب روپے کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں، اگر سٹے آرڈرز کی مدت متعین کردی جائے تو ملک وقوم کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بہت بڑی رقم ہے، اس کی وجہ سے انتظامی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کا ایک سیٹ اپ بنے جس میں بڑے فیصلوں پر حکومت اور اداروں میں مکمل یکجہتی ہو۔انہوں نے کہا کہ اڑھائی بلین ڈالر سے زیادہ ویکسین درآمد کر کے ہم نے لگائی ہے اسی وجہ سے ہمارا خسارہ اوپر گیا ہے۔وزیر طلاعات نے کہا کہ کابینہ نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے بورڈآف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے میسرز ٹریکوم ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو جھمپیر ضلع ٹھٹھہ میں 50 میگاواٹ ونڈ ٹربیون منصوبہ لگانے کے لئے دو بڑی کرینیں درآمد کرنے پر کسٹم ڈیوٹی میں ایک مرتبہ استثنیٰ کی منظوری دی۔ کابینہ نے بین الاقوامی بانڈز کی مدت میں توسیع کرنے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے ڈاکٹرنوید حامد کو مزید تین سال کے لئے مانیٹری پالیسی کمیٹی پر بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے سید جاوید حسن کو اچھی کارکردگی کی بنیاد پر مزید 3 سال کے لئے چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ نیوٹیک تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت قانون کی سفارش پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں تعیناتیوں کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیڈرل سروسز ٹریبیونل کیمپ آفس کراچی کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے کراچی صدر میں واقع پاکستان سیکرٹریٹ آرٹلری میدان میں زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت صحت کی سفارش پر Remdesivir)100 ایم جی) کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل پرائس 3967.34 روپے سے کم کر کے 2308.63 روپے کرنے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے وزارت قومی صحت کی سفارش پر پاکستان میں ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹ (اے پی آئی) صنعت کی ترقی اور فروغ کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے باسکا بلاک میں چائنہ شنہوا آئل کے ورکنگ انٹرسٹ اینڈ آپریٹرشپ کا 33.5 فیصد حصہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کو منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے بریگیڈیئر(ر) توفیق احمد کو ایم پی ۔1 سکیل میں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس (این آئی ای) کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی تو یہاں بھی قیمتیں بڑھیں گی، قیمتوں کو زیادہ دیر تک بڑھنے سے روکنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *