85

یہ تو ان کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ایک متشدد تنظیم بن جائے گی

پاکستان کے تین آرمی چیف اس بات کا عالمی برادری کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں ہی نہیں بلکہ میڈیا پر کھلم کھلا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم نے انتہا پسند ہی نہیں مسلح جماعتیں بھی بنائیں اور یہ ہماری غلطی تھی۔ عالمی برادری نے بھی آگے سے یہ نہیں کہا کہ چلو پھر آپ پر کیس بناتے ہیں اور آپ کے ملک کو “روگ ریاست” ڈیکلئر کرتے ہیں کیونکہ اب تو آپ نے اعتراف کرلیا۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ چلئے جب آپ اسے غلطی مانتے ہیں تو مٹی پاتے ہیں مگر آگے کے لئے اس سلسلے کو روکئے۔ یوں ملک میں کچھ ایکشن شروع ہوئے اور ان جماعتوں کو لگام دی گئی۔ یہاں تک کہ “کافر کافر” کہنے والے بھی اس تیس سالہ نعرے سے پیچھے ہٹ گئے اور سب نے امن کے ترانے گانے شروع کردئے۔ خدا گواہ ہے میں اسے سپورٹ کرتا ہوں۔ محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کوئی نہیں۔ لیکن اپنی جماعت کو جس طرح انہوں نے پچھلے قائدین والے چلن سے ہٹایا ہے اس پر دل میں ان کے لئے نیک جذبات ہی رکھتا ہوں۔ اور اس اقدام کو داد کے لائق سمجھتا ہوں۔
ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے فوجی حکام نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور انہیں کہا ہےکہ ہمارے ملک میں شیعہ انتہاپسندوں کی سرپرستی بند کریں۔ کیونکہ ہم اب اپنے ملک کو انتہاپسندی سے نکال رہے ہیں۔ ضرب عضب میں بلا تفریق مسلک و نسل ہر تنظیم کے مسلح کارندوں کو ٹھوکا گیا ۔ ایم کیو ایم، لیاری گینگ وار، ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد سمیت سب کے خلاف ایکشن ہوا۔ اور صرف انہی کو ٹھوکا گیا جن کا کیڑا ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ جنہوں نے طرز عمل تبدیل کیا انہیں کچھ نہیں کہا گیا۔ اور یہ اچھا کیا گیا ہے کہ ان کے پرانے کھاتے نہیں کھولے گئے بلکہ نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا گیا۔ یہ موقع کیوں دیا گیا ؟ کیونکہ ریاست مانتی ہے کہ یہ خود سرگرم نہیں ہوئے تھے بلکہ ہمارے کہنے پر ہوئے تھے۔ یعنی قصور کلی طور پر ان کا نہیں بلکہ ریاست بھی ذمہ دار ہے۔ لھذا اب جو پیچھے ہٹیں انہیں موقع دینا چاہئے۔ دو تین سال سے زیادہ ہوگئے کہ اب حافظ سعید اور مسعود اظہر کےکسی سویلین آرمی چیف جیسے بیانات نظر نہیں آتے۔ محمد احمد لدھیانوی تو خیر سے جنرل باجوہ کی حمد و ثنا بھی فرما لیتے ہیں۔ جس کا کل مقصد بس یہ ہوتا ہے کہ ہم ریاست کی تازہ پالیسی کے ساتھ ہیں۔ اگر ہم نے ریاست کی ماضی والی باتیں مانی تھیں تو ریاست کے آج والے احکامات بھی ہمیں قبول ہیں۔ ظاہر ہے دانشمندانہ پیغام تھا۔
اس پورے معاملے کا نچوڑ کیا ہے ؟ بس یہ کہ اب پاکستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ “ہم نے یہ جماعتیں بنائیں، ہم سے غلطی ہوئی، اب ہم اس سلسلے کو ختم کر رہے ہیں” اور ان انتہا پسند جماعتوں کے نابالغ چوزوں کا موقف کیا ہے ؟ یہ کہ “ہمیں فوج نے نہیں بنایا” یعنی ان بیوقوفوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کا ملک ان کی تخلیق کا “اعتراف” کرچکا ہے اور وہ بھی عالمی برادری کے سامنے۔ اگر انہوں نے آپ کو نہیں بنایا تو پھر تین آرمی چیف کیا کسی ناکردہ غلطی کا اعتراف کر رہے ہیں ؟ یہ لبیک ان کی تازہ غلطی ہے۔ یہ تو ان کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ایک متشدد تنظیم بن جائے گی۔ دو دن قبل ہی عرض کردیا تھا کہ پابندی کے بعد اگلا مرحلہ پولیس مقابلے کا ہی ہوتا ہے۔ ریاست کسی لیگل جماعت پر گولی نہیں چلا سکتی۔ پابندی تب ہی لگتی ہے جب ٹھوکنے فیصلہ ہوجائے۔ جنہیں میری تین روز قبل والی پوسٹ سمجھ نہیں آئی تھی انہیں آج سمجھ آگئی ہوگی۔ یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے۔ جو کہتے ہیں کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہتے ہیں۔
آپ سے قبل بھی کچھ بلیاں تھیں جنہوں نے اپنے مالکان پر “میاؤں” کی تھی۔ وہ بلیاں تو تھیں بھی کلاشنکوفوں والی۔ جب وہ عظیم جرنیلی بلیاں اب “حاجی” بن چکیں تو آپ کی کیا اوقات ؟ آپ کو کیا لگا کہ آپ پولیس پر ہاتھ اٹھائیں گے اور داد ملے گی ؟ میں دیسی لبرل نہیں کہ نواز دور میں تو آپ کی حرکتوں پر تنقید کروں اور عمرانی دور میں آپ کی بالواسطہ حمایت کروں۔ جو اس دور میں غلط تھا وہ آج بھی غلط ہے۔ پرتشدد جماعتوں اور مظاہرین کے خلاف پرتشدد ایکشن کا ہی قائل اور حامی ہوں۔ میرا سگا بیٹا بھی کسی کا رکشہ جلائے یا پولیس پر ہاتھ اٹھائے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ اسے بھی گولی کا مستحق سمجھتا ہوں۔ ایسی فسادی اولاد قبر میں ہی بھلی۔ یہ بات اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لیں کہ آپ غریب کا رکشہ جلا کر “خادم ختم نبوت” نہیں بن سکتے۔ آپ نے محشر میں اس رکشے کا حساب دینا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے مالکان پر “میاؤں” کی غلطی ؟ آپ کے مالکان کی تربیت کا پہلا نقطہ ہی “بے رحمی” ہے اور بالکل بجا ہے۔ فوجیں رحم کھانے لگیں تو دنیا کے کسی بھی ملک کا دفاع محفوظ نہیں رہے گا۔
جو عرض کر رہا ہوں یہ کسی فیس بکی کی ہوائی باتیں نہیں ہیں۔ حرکت الانصار جیسی تنظیم کا نوے کی دہائی میں مرکزی ناظم اطلاعات و نشریات رہا ہوں۔ سو جانتا ہوں کہ ہم میٹنگز کے لئے کہاں جاتے تھے اور کن سے میٹنگز کیا کرتے تھے۔ وہاں باتیں کیا ہوتی تھیں اور منصوبے کیا بنا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ایسی تنظیم تھی جس کی ملک کے اندر کوئی عسکری سرگرمی نہ تھی۔ کشمیر کاز کے لئے بنی تھی اور اسی تک محدود رہی تھی۔ مگر خدا نے عقل دے رکھی تھی سو اسی سے کام لیا اور27 برس کی عمر میں عسکری تنظیموں سے راہیں جدا کرلیں۔ کسی فوجی افسر نے یہ نہیں کہا کہ کدھر جا رہے ہو ؟ یہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ جو فوجی تب عزت کرتے تھے ان کی اگلی نسل آج بھی عزت ہی دیتی ہے۔ اور یقین جانئے داد دیتی ہے کہ آپ کا فیصلہ بہت دور اندیشی پر مبنی تھا۔ جو تب ہمیں نظر نہیں آرہا تھا وہ آپ نے ہم سے بھی قبل بھانپ لیا تھا۔
سو میرے عزیز ! آپ کو بھی یہی مشورہ ہے کہ اپنی نہیں تو ہماری عقل سے کام لے کر “آلہ کار” والی زندگی ترک کیجئے۔ اور معاشرے میں خیر و بھلائی کے مثبت کاموں میں حصہ لیجئے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ توہین رسالت یا صحابہ کرام کی اہانت ہم ہضم کر جاتے ہیں تو غلط فہمی ہے آپ کی۔ اس معاملے میں شریعت نے عام آدمی کی حیثیت سے جو ذمہ داری عائد کر رکھی ہے وہ بحمداللہ دینی فریضہ سمجھ کر ہی نبھاتے ہیں، اور اس معاملے میں اپنے تعلقات کام میں لا کر ریاست کی اونچی سطحوں تک بھی اپنی آواز اور تجاویز پہنچاتے ہیں۔ ہم تو خیر آپ کو دکھتے ہی لوفر ہیں لیکن آپ کی عقل میں تو اتنی سی بات بھی نہیں آتی کہ اگر توہین رسالت یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی اہانت پر غیرت ایمانی کا ثبوت یہ ہوتا کہ کسی غریب کا رکشہ نذر آتش کیا جائے یا پولیس افسر پر تشدد کیا جائے تو مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن رکشہ نہیں بلکہ اپنے قد کاٹھ اور مقام کے حساب سے ٹرالر نذر آتش کرتے نظر آتے۔ ہوگی آپ میں غیرت ایمانی ، مجھے کوئی انکار نہیں مگر آپ ان مذکورہ دو ہستیوں سے زیادہ غیرت ایمانی والے ہیں کیا ؟ اس ملک میں ہزاروں شیخ الحدیث و مفسرین پائے جاتے ہیں۔ کبھی دیکھا انہیں یہ حرکتیں کرتے ؟ یا کسی کو ایسی حرکتوں پر اکساتے ؟ وہ آپ سے اور مجھ سے زیادہ غیرت ایمانی والے ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ ان کا دینی علم و شعور اعلی درجے کا ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ شرعی احکام کیا ہیں اور ایک عام شہری کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں۔ بہتر ہے اپنے ڈیڑھ بالشتیے قائدین کے بجائے اپنے ہی مسلک کے بڑے اہل علم سے اپنے طرز عمل کے بارے میں معلوم کر لیجئے کہ یہ منشائے خداوندی کے تابع ہے بھی یا نہیں ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں