orya maqbool jan articles 309

یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا (تیسرا اور آخری حصہ) اوریا مقبول جان

یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا (تیسرا اور آخری حصہ)
اوریا مقبول جان
آکسفورڈ جسے سب بڑا خیراتی ادارہ اور سب سے بڑا گرامر سکول سمجھا جاتا تھا وہاں بھی طبقاتی نظام تعلیم رائج تھا۔ برطانیہ میں یہ قانون رائج تھا کہ ”کوئی شخص اپنے بچے کو اسوقت تک سکول میں داخل نہیں کرے گا جب تک اسکی زمین یا مکانوں کے کرائے کی آمدنی 20 شیلنگ سے نہ ہو”

سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مغلیہ ہندوستان میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہر کوئی بلاتخصیصِ مذہب، رنگ، نسل اور ذات پات، اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرا سکتا تھا تو اس وقت برطانیہ میں تعلیم صرف اشرافیہ کے بچوں تک محدود تھی۔ آکسفورڈ کمیشن کی رپورٹ جو 1852ء میں شائع ہوئی اس کے مطابق برطانیہ میں یہ قانون نافذ تھا کہ “کوئی شخص اپنے بچے کو تعلیم کے لئے نہیں بھیجے گا جب تک اسے زمین یا مکانوں کے کرایے سے 20 شلنگ آمدن نہ ہوتی ہو”۔ بائبل کا انگریزی ترجمہ ہوچکا تھا مگر اسے عام آدمی کی دسترس سے دور رکھنے کے لئے گرجاگھروں میں پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ 1780ء میں سنڈے سکول تحریک شروع ہوئی، جس نے عام آدمی کو تعلیم کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس کے نتیجے میں 1802ء میں Peel’s Act آیا جس کے تحت عام بچوں کے لئے بھی پڑھنا لکھنا اور حساب سیکھنا لازم قرار دے دیا گیا۔ تعلیم کا یہ طریقہ جو برطانیہ میں جوزف لنکاسٹر اور اینڈریو بیل نے شروع کروایا دراصل مغلیہ ہندوستان کے اتالیق سسٹم سے مستعار لیا گیا تھا۔ جس دور میں ہندوستان میں لاکھوں کے حساب سے سکول کام کر رہے تھے، 1801ء کے انگلینڈ میں صرف 3,363 سکول اور طلباء کی تعداد چالیس ہزار تھی۔ 1818ء میں یہ تعداد بڑھ کر 6,74,883 ہوئی اور1851ء میں 21,44,377 طلبہ سکول میں علم حاصل کر رہے تھے اور اسکولوں کی تعداد بھی بڑھ کر 46,114 ہو چکی تھی۔

دوسری جانب انگریز حکمرانوں نے برصغیر کے صدیوں پرانے تعلیمی نظام کی تباہی کا پورا خاکہ تیار کرلیا گیا تھا۔ یہ نظام تعلیم دین و دنیا دونوں علوم کا احاطہ کرتا تھا۔ تفسیر اور حدیث کے ساتھ ساتھ منطق، فلسفہ، علم ریاضی، جیومیٹری، الجبرا، علم الہندسہ، طب، گرامر، ادب اور فن تعمیرات پڑھائے جاتے تھے۔ ان مدارس سے ایک ایسی نسل برآمد ہوتی تھی جو ہندوستانی سول سروس، عدلیہ، صحت، تعلیم اور تعمیرات جیسے تمام شعبوں میں اپنی کارکردگی دکھاتی تھی اور جو اپنے اپنے مذاہب کے علم سے بھی آراستہ ہوتی تھی۔ اس تعلیمی نظام کی داغ بیل شاہ عبدالرحیم نے ڈالی تھی جنہوں نے اورنگ زیب عالمگیر کی فرمائش پر فتاوی عالمگیری مرتب کی۔ ان کے مدرسہ رحیمہ کا ہی کا نصاب تھا جو سب کے لئے قابل قبول تھا۔ اس وقت تک دین اور دنیا کی تعلیم میں کوئی امتیاز نہ تھااور نہ علیحدہ علیحدہ مدارس تھے۔ ایک ہی سکول کالج اور یونیورسٹی دونوں علوم ساتھ ساتھ پڑھائے جاتے تھے۔

اس جامع نظام پر پہلی کاری ضرب گورنر جنرل وارن ہٹینگز نے لگائی۔ اس نے 1781ء میں کلکتہ میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا، جس کا کام بنیادی طور پر شرعی قوانین کی تعلیم تھی، اس لیے کہ ہندوستان میں ابھی تک فقہ حنفی کے تحت شرعی عدالتیں کام کرتی تھیں اور اسے اپنے اہل کاروں کو یہ تعلیم دلوانا تھی۔ اس مدرسے میں پہلی دفعہ ھدایہ اور سراجیہ کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا انوکھا سکول تھا جس میں صرف فقہہ اور شرعی قوانین پڑھائے جاتے تھے۔ ظاہر ہے اس کے ساتھ تفسیر اور حدیث بھی نصاب میں شامل تھی۔ یوں جب برصغیر میں انگریز نے پہلا علیحدہ دینی مدرسہ قائم کردیا تو برطانیہ میں عیسائی مشنریوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق شور مچا دیا کہ ہندوستان میں عیسائی مشنریاں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ 1813ء میں عیسائی مشنریوں کو ہندوستان میں جدید سکول اور مشنریاں کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ مشنری سکول انگلش میڈیم تھے اور ان میں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ انجیل کی اخلاقیات (Ethics Biblical) بھی پڑھائی جاتی تھی۔ 1835 میں گورنر جنرل لارڈ ولیم بنٹیک نے انگریزی کو سرکاری طور پر ذریعہ تعلیم کی حیثیت سے نافذ کر دیا اور 1840ء میں سرکاری نوکریوں کے لئے انگریزی لازمی قرار دے دی گئی۔ 1835ء سے 1855ء تک ان مشنری سکولوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ عیسائی ہوگئے تھے۔ ان مشنریوں نے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے خلاف لٹریچر اور کتابیں شائع کیں اور پورے ہندوستان میں مناظروں کا آغاز کیا جو دلی آگرہ اور لکھنؤ کے علماء کے ساتھ کیے جاتے تھے۔ ان مناظروں اور مباحثوں کا آخری بڑا معرکہ 1854ء میں اگرہ میں ہوا، جس میں پادری فونڈر اور رحمت اللہ کیرانوی مدمقابل تھے۔ پہلے دور جنوری میں چلا اور پھر 11 اپریل 1854ء کو دوبارہ دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ رحمت اللہ کیرانوی یہ دعوی لے کر آئے کہ اگر میں بائبل میں تحریفات ثابت نہ کرسکا تو عیسائی ہو جاؤں گا۔ یہ معرکہ رحمت اللہ کیرانوی جیت گئے۔

اس کے صرف تین سال بعد 1857ء کی جنگ آزادی برپا ہو گئی جس میں انگریز فتح یاب ہوا اور ہزاروں علماء کو چوراہوں میں پھانسیاں دی گئیں، توپوں کے سامنے باندھ کر اڑا لیا گیا اور عمر بھر کے لئے کالا پانی بھیج دیا گیا۔ رحمت اللہ کیرانوی کو گورے پاگلوں کی طرح تلاش کر رہے تھے مگر وہ قسطنطنیہ میں خلافت عثمانیہ کے پاس جا پہنچے جہاں انہوں نے سلطان عبدالعزیز کے کہنے پر اس مناظرے میں کی گئی بحث پر مشتمل کتاب “اظہار الحق” لکھی۔ لیکن اس بڑے مناظرے اور 1857ء کی شکست کے بعد تمام علماء نے خود کو ان مناظروں و مباحثوں سے علیحدہ کرلیا اور دین کی اساس پر جو حملہ ہو رہا تھا اس سے بچنے کے لیے اپنی نگرانی میں علیحدہ ادارے قائم کرنے کی سوچ بڑھ گئی۔

دوسری جانب انگریزی کے لازمی ہونے اور جدید نظام تعلیم کے آنے کی وجہ سے سرسید احمد خان اور نواب عبداللطیف جیسے لوگوں نے مسلمانوں کو انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا درس دیا۔ شاہ عبدالعزیز جیسے شخص جنہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا انہوں نے بھی انگریزی زبان سیکھنے کو جائز کر دیا۔ مولانا کرامت علی جونپوری نے گوروں کی زبان اور تعلیم سیکھنے کی بات کی۔ اسی دوران ایک اور شخصیت عبدالرحیم داہری پیدا ہوئی جو اپنے دہریہ ہونے کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ داہری لکھتی تھی اس نے انگریزی زبان سیکھنے کے حق میں رسالہ بھی لکھا۔ 1857ء سے پہلے کے 50 سال کے دوران جدید تعلیم کے سکولوں سے جو تباہی ہندوستان میں آئی تھی وہ بہت خوفناک تھی۔ مغلوں کا اتالیق کا نظام اور اسکول سسٹم ختم کر دیا گیا تھا اور اس کی جگہ چند انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں نے لے لی تھی۔ یوں صرف 50 سالوں میں برصغیر کی تین نسلیں جہالت کے سمندر میں ڈوب گئیں۔ جو پڑھ لکھ جاتا وہ دین سے متنفر اور جدید سیکولر لبرل نظریات کا حامل ہو جاتا۔ علما نے یہ سوچ لیا تھا کہ اب اولین فریضہ دین کی حفاظت ہے اورہمیں علماء کی ایک ایسی کھیپ کی ضرورت ہے جو مساجد اور مسند ارشاد کو سنبھالے۔ اس ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے 1864 میں مولانا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔

شروع میں تو یہ اجازت دی گئی کہ پہلے یہاں تعلیم مکمل کرلیں پھر کسی انگریزی سکول میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں لیکن بعد میں یہ معمول بھی ترک کردیا گیا۔ اس کے بعد دارالعلوم ندوہ 1892ء میں قائم ہوا، مدرسہ فرنگی محل لکھنؤ 1905ء میں اور مدرسہ الہیات کانپور 1910ء میں قائم کیاگیا۔ ان تمام مدارس کے علماء انگریزی پڑھنے کی اجازت تو دیتے تھے مگرخوف ایسا تھا کہ کوئی مدرسے سے اپنے طالب علموں کو جدید تعلیم کی طرف جانے نہیں دیتا تھا۔ یوں پورا ہندوستان دو گروہوں میں تقسیم ہوگیا۔ سیکولر تعلیم والے علی گڑھ اور سرکاری کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور دین پڑھنے والے اپنے اپنے مسالک کے مدرسوں میں۔ 1857 میں یہی ہندوستان تھا جو انگریز کو ملا تو وہ 90 فیصد خواندہ اور پڑھا لکھا تھا مگر جب انگریز 1947 میں اسے چھوڑکر گیا تو یہ 88 فیصد ان پڑھ اور ناخواندہ ہو چکا تھا اور صرف 12 فیصد خواندہ اور پڑھا لکھا رہ گیا تھا۔ یہ ہے قافلہ لٹنے کی مختصر داستان اور لٹیروں کا تعارف۔ 20 اکتوبر 1931ء کو مہاتما گاندھی نے لندن کے انٹرنیشنل افیئر زکے انسٹی ٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم لوگوں نے مغلوں سے ایک پڑھا لکھا ہندوستان لیا تھا اور اب اسے مکمل طور پر ان پڑھ بنا چکے ہو۔ (ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں