85

بیٹی کے نام خط.عامر خاکوانی

یٹی کے نام خط
عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”میری پیاری بیٹی ، میری نورنظر!
یہ خط ویسے تو تمہارے ہی نام ہے، مگر اس خوبصورت شہر لاہور، ہمارے پیارے ملک پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی ان گنت بچیوں کے چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔کاش میری یہ تحریرتمہارے ساتھ ان کے دلوں میں بھی اتر سکے۔ کاش رب تعالیٰ اس لفظوں میں وہ فسوں پھونکھ دیں، جن کا اثردیر تک رہے ۔

میری بیٹی، تم حیران تو ہوگی کہ آج تمہارے باپ نے گفتگو کے لئے خط کا سہارا کیوں لیا۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ میں جو باتیں کرنا چاہتا تھا، وہ ایک سے زیادہ بیٹیوں تک پہنچ سکیں،یہ خیال آیا کہ کبھی لکھے الفاظ زبانی گفتگو سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

میری آنکھوں کا نور، میرے دل کا ٹکڑا، میری لخت جگر لائبہ ، ہمیشہ یاد رکھو کہ تم ایک مسلمان لڑکی ہو، تم ایک خدا کو مانتی ہو، اس کے آخری رسول حضرت محمد ﷺکو اپنا پیغمبر، آقا اورحقیقی رہنما مانتی ہو۔

ایک مسلمان لڑکی،مسلمان عورت کا زندگی کے بارے میں تصور دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کے اندر اعتماد، مضبوطی، اپنی شخصیت پر یقین ، کچھ کر گزرنے کا عزم …. یہ سب ہونا چاہیے، مگر اسے اپنی زندگی اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺکے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے۔

اس کی زندگی کافکری، نظریاتی روڈ میپ پہلے سے طے شدہ ہے۔اپنی عقل ودانش کو وہ استعمال کرتی، اس سے اچھائی برائی میں تمیز کرتی، راہ راست یعنی سیدھے راستے کا انتخاب کرتی اور پھر اپنے رب سے مدد مانگتے ہوئے اس پر چل پڑتی ہے۔

اپنی عقل کو وہ الہامی دانش پر غالب نہیں کرتی۔ جو کچھ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے کہہ دیا، وہ اس کے لئے حرف آخر ہونا چاہیے ۔ ہمارے رب نے ہمارے لئے کچھ پابندیاں لگائی ہیں، بہت سے معاملات میں آزادی بھی حاصل ہے ۔ کچھ چیزوں کو کرنے سے روکا ہے ، بہت سی چیزوں کی اجازت دی ہے۔
میری بیٹی میری تمہیں یہی نصیحت ، وصیت ہے کہ جن باتوں سے رب نے روکا، ان سے دور رہو، تمہاری عقل خواہ جس قدر بہکائے، نفس دلائل دے کہ یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں،کرنے سے کچھ نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ، …. تم اپنی عقل کو استعمال کرو،مگر رب تعالیٰ کے احکامات سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ وضع کرنے کے لئے۔ جو حدود یا جو لائنز اللہ نے لخواتین کے لئے مقرر کر دی ہیں، انہیں کبھی کراس نہ کرو۔

شرم ، حیا اسلامی معاشرے کا بنیادی جز ہے۔ ہمارے آقا،ہمارے سردار ، سرکار مدینہ محمدﷺ نے فرمایا کہ ہر معاشرے کا ایک جوہر ہوتا ہے ، حیا اسلامی معاشرے کا جوہر ہے۔ میری بچی اپنی اس شرم اور حیا کی ہمیشہ حفاظت کرنا۔ اپنی عزت، عصمت کی ہمیشہ جان سے بھی بڑھ کر حفاظت کرنا۔ تم جب حجاب پہن کر کالج پڑھنے جاتی ہو، تمہارے چہرے پرحیران کن معصومیت اور تقدس آ جاتا ہے،تمہارے باپ کے دل سے ہمیشہ یہی دعا نکلتی ہے کہ زندگی بھر تم ایک باحجاب، با حیا زندگی گزارو۔

میں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہتا کہ اپنی زندگی کے فیصلے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دو۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم میں اعتماد آئے، تمہارے اندر مضبوطی پیدا ہو۔

بطور لڑکی، بطور عورت تم ہرگز کسی سے کم تر نہیں۔ کسی مرد کو کسی عورت پر برتری حاصل نہیں ہے۔یہ مگر میری خواہش ہے کہ پلیز زندگی میں مرد بننے کی کوشش نہ کرنا۔

تم ایک لڑکی ، عورت ہو، کائنات کی خوبصورت ترین مخلوق ۔اس حیثیت سے لطف اٹھاﺅ، اللہ نے تمہارے اوپر کچھ فرائض رکھے ہیں، وہ پورے کرو، تمہارے بہت سے حقوق بھی ہیں، جوتمہیں انشااللہ ضرور ملیں گے ۔

تم جانتی ہو کہ گھر میں بطور بیٹی فائدے زیادہ ملے ہیں، حق تلفی کبھی نہیں ہوئی، تمہارے تینوں بھائیوں کی نسبت تمہاری زیادہ باتیں، زیادہ فرمائشیں مانی گئی ہیں۔ اس دن میں نے خود سنا کہ تم نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں بابا کی اکلوتی بیٹی ہوں، وہ میری بات نہیں ٹالتے ۔ میری بیٹی، میری دعا ہے ہے کہ زندگی بھر یہی طمانیت، آسودگی تمہارے ساتھ رہے ۔

اگلے چند برسوں میں تمہارے سامنے یہ سوال بار بار آئے گا، میڈیا کے ذریعے، فلموں کے ذریعے تمہیں یہ بتایا جائے گا کہ ہم لڑکیاں کسی سے کم نہیں، ہم بھی ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں۔

میری بچی ، تم سمجھ لینا کہ یہ احساس کمتری کی شکار عورتوں کا بیان ہے۔ لڑکیاں قطعی طور پر مردوں سے کمتر نہیں، مگر ان کا دائرہ کار مختلف ہوسکتا ہے۔اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی۔ انسانی جسم میں ہاتھ کس قدر اہم ہیں، مگر پیر بھی کم اہم نہیں، ہاتھ کے بغیر بھی جسم ادھورا، پیر کے بغیر بھی انسان معذور ہے۔ کام دونوں کا الگ الگ ہے۔ آنکھوں کا اپنا کام، کان کا الگ اور زبان کا الگ ہے۔ اگر یہ سب ایک ہی کام کرنے لگیں تو انتشار پھیل جائے ، انسان سلامت ہی نہ رہ پائے۔

اس لئے احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے پورے اعتماد سے ایک عورت کی ذمہ داریاں نبھاﺅ۔ اگر حالات کا تقاضا ہو توگھر سے باہر جا کر ملازمت بھی کرو، اپنے خاندان کی معاشی کفالت میں ہاتھ بٹاﺅ۔

اگر اس کی ضرورت نہیں تو اپنے گھر کو سنبھالنا، اپنے اہل خانہ کا خیال رکھنا، نئی نسل کی بہتر تربیت کوئی کم اہم کام نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کاموں کو اچھے طریقے سے سرانجام دینے والی عورت کو جنت کی خوش خبری سنائی ۔تم جانتی ہو کہ کسی مسلمان کے لئے جنت کی خبر سے بڑی اور اچھی کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی ۔

میری بچی ، میری آنکھوں کا نور،میں تمہیں یہی کہوں گا کہ اپنے فیصلے خود لو، سوچ سمجھ کر کرو، مگر حق کے آگے جھکنے، سرنڈر کرنے میں کبھی گریز نہ کرنا۔ اگر کوئی تمہارے حق کی طرف بلائے، اچھی نصیحت کرے تو اسے یہ سمجھ کر رد نہ کرنا کہ میں لوگوں کی نہیں اپنی مرضی کروں گی۔ نہیں یہ فتنہ ہے۔ شیطان کے پھیلائے ہوئے جالوں میں سے ایک جال ۔

حتمی بات صرف اللہ کے رسول ﷺ کی ہے۔ جب بھی تمہیں کوئی اللہ کے رسول ﷺ کا قول سنائے، ان کا حکم بتائے، ان کی سنت کا طریقہ سمجھائے تو میری بیٹی اپنے پہلے سے بنائے ہوئے تمام تصورات، آئیڈیاز، سوچ ترک کر دینا۔ سمجھ لینا کہ حق صرف رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے، اسی حق کی طرف جھکنا اور اسے ہی پکڑنا ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اپنا آئیڈیل ، رول ماڈل ان کی بیٹی اور جنت میں خواتین کی سردار حضرت بی بی فاطمہ ؓ کو بناﺅ۔اماں عائشہ ؓ کو بناﺅ ،جن کے علم نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی رہنمائی کی۔رب تعالیٰ تمہارے لئے زندگی کا سفر آسان کرے، ہر مشکل وقت پراس کی مدد شامل رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں