56

یومیہ 10 ہزار ڈالرز سے زائد کی خریداری پر پابندی عائد، صرف کمپنی کی مجاز آؤٹ لیٹس پر لین دین ہوگا

بینک دولت پاکستان نے زرمبادلہ کے نظام کی دستاویزیت اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے افراد کو زرمبادلہ کی فروخت کا نظم و نسق چلانے والے ضوابط میں ترمیم کی ہے۔

اس اقدام کا مقصدایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے سٹے بازی پر مبنی خریداری اور فروخت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے،ان ترامیم کے نتیجے میں ایکس چینج کمپنیاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ کوئی بھی شخص یومیہ نقد یا بیرونی ترسیلات زر کی شکل میں 10,000امریکی ڈالر اور کیلنڈر سال میں 100,000امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی) سے زائد کی خریداری نہیں کرے گا۔

زر مبادلہ کمپنیاں اتھارٹی لیٹرز پرلین دین نہیں کریں گی۔ مزید برآں، افراد ایک کیلنڈر سال میں موجودہ ضوابط کے تحت بینکوں سے تعلیمی اور طبی اخراجات کی مد میں بالترتیب70,000ڈالر اور 50,000ڈالر فی انوائس بیرون ملک ترسیل کرنے کی سہولت سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

ان حدود سے زیادہ یا دیگر مقاصد کی خاطر رقم ترسیل کرنے کے لیے افراد اپنے بینک کے ذریعے ایس بی پی بی ایس سی کے فارن ایکس چینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ افراد کے بیرونی کرنسی اکاؤنٹس کے لحاظ سے ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، زرمبادلہ کمپنیاں1,000امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں مساوی) سے زائد کی فروخت پر سپورٹنگ دستاویزات حاصل کریں گی جس سے لین دین کا مقصد کا ظاہر ہو۔

ہدایات میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ایکس چینج کمپنیاں صرف کمپنی کی مجاز آوٹ لیٹس پر لین دین انجام دیں گی اور صارفین کو ڈلیوری کی خدمات مہیا نہیں کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں