80

یومِ تکبیر اور ملکی حالات

میرے رفقائے کار اور میں نے دن رات محنت کرکے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر یہ تصور کر لیا تھا کہ ملک کو اب غیرملکی جارحیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہم اپنی تمام توجہ اور کوششیں ملک کی بہتری، تعلیم، صنعتکاری کے ذریعے حاصل کرنے میں لگ جائینگے لیکن ہمارا خیال بالکل غلط نکلا اسکے برعکس ملک میں مافیا نے جنم لے لیا اور پہلے سے زیادہ رشوت ستانی، لوٹ مار شروع کردی۔

حقیقت یہ ہے کہ میری ٹیم سے پہلے اس ملک میں کبھی ایسی قابل و اہل ٹیم موجود نہ تھی اور نہ ہی اس کے بعد پیدا ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ ہم جس جذبے سے کام کررہے تھے وہ ان لوگوں کے جذبے کی طرح تھا جو قائداعظمؒ کی رہنمائی میں پاکستان حاصل کرنے کی جدّوجہد میں لگے ہوئے تھے۔ دیکھئے اللہ رب العزت نے مجھے اس نیک کام اور سعادت کے لئے چنا تھا اور ملک کو جب ضرورت پیش آئی تو میں نے اور میرے رفقائے کار نے نہ عوام کو اور نہ ہی افواجِ پاکستان اور حکمرانوں کو نااُمید کیا۔

میں سب سے پہلے پوری قوم کو دلی مُبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ہم نے 28مئی کو یوم تکبیر کی 22ویں سالگرہ منا لی۔ مجھے دلی مسرت ہے کہ میرے زیادہ تر رفقائے کار بفضلِ الٰہی ماشاء اللہ حیات ہیں اور اپنی کارکردگی اور کامیابی پر بےحد خوش ہیں۔ میرا پورا دن لوگوں کی ای میل، ایس ایم ایس اور وٹس ایپ پر پیغامات سے بھرا گزرا۔ میں لنچ کے بعد نماز ظہر ادا کرکے کچھ دیر سونے کی کوشش کرتا رہا مگر پچھلے 45برس نگاہوں میں گھومتے رہے۔ پورا کٹھن سفر نگاہوں میں گھومتا رہا۔ پھر میں نے جناب غلام اسحٰق خان صاحب کا خط جو انہوں نے مرحوم جناب زاہد ملک کو لکھا تھا وہ پڑھنے بیٹھ گیا، یہ خط آپ کو نیٹ پر بھی مل جائے گا۔ یہ کہوٹہ کی پوری سچی کہانی ہے۔ غلام اسحق خان صاحب اس پروگرام کے نگراں تھے اور 1993ءتک وہ سربراہ رہے انکا ہر لفظ صداقت پر مبنی ہے۔ ہمارے کام سے وہ بےحد خوش ہوتے تھے اور ان کی دلی خوشی کا حال وہی جانتے تھے۔ جب میں نے 1984ءمیں ان کو بتلایا کہ ہم نے کامیابی سے کولڈ ٹیسٹ کر لیے ہیں اور اب ایک ہفتہ کے نوٹس پر دھماکا کر سکتے ہیں تو ان کی خوشی کی اِنتہا نہ رہی انھوں نے کہا کہ فوراً جنرل ضیاء کو تحریری طور پر مطلع کردیں۔ میں نے ان کے نام خط لکھا اور کام و نتائج کی تفصیل لکھ دی اور جنرل انیس علی سیّد (اس وقت وہ بریگیڈیئر تھے) کولے کر جنرل ضیاء الحق کے پاس پہنچ گیا۔ جنرل میاں عبدالوحید اس وقت ان کے COSتھے، اُنھوں نے فوراً ان کو مطلع کیا کہ ڈاکٹر صاحب بہت ضروری کام سے ملنے آئے ہیں اُنھوں نے ہم دونوں کو فوراً بلا لیا۔ جب میں نے ان کو وہ خط دیا کہ ہم نے کامیاب کولڈ ٹیسٹ کر لئے ہیں اور اب ایک ہفتہ کے نوٹس پر اصلی دھماکا کر سکتے ہیں تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی، مجھے گلے لگایا اور پیشانی پر پیار کیا اور کہا ڈاکٹر صاحب آپ نے اس ملک کی سلامتی مستقل کردی۔ ہم نے یہ کام بہت کم خرچ سے کیا تھا۔ میں حکومت سے 25ملین ڈالر سالانہ لیتا تھا اور اس میں درآمدات، اسٹاف کی تنخواہ، گھروں کا کرایہ، ٹرانسپورٹ، میڈیکل سہولت سب کچھ مع سول ورک شامل تھا۔ ہمارا کام بے حد مشکل اور سخت تھا مگر ہمیں علم تھا کہ اگر ہم فیل ہوگئے تو پاکستان دس برس قائم نہ رہ سکے گا اور اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ان شاء اللہ تا قیامت کوئی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کام کا پورا کریڈٹ جناب مرحوم بھٹو صاحب کو جاتا ہے کہ وہ اس کام سے ناواقف تھے اور اس کام کے بارے میں کسی کتاب یا لٹریچر میں نہیں لکھا تھا کہ اس کی مدد سے ایٹم بم بنایا جاسکتا ہے لیکن میں نے برلن (جرمنی)، ڈیلفٹ (ہالینڈ) اورلیوون (بلجیم) کی اعلیٰ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کی تھی اور مجھے پورا یقین تھا کہ اگر مجھے سہولتیں اور فری ہینڈ دیا گیا تو میں اپنے رفقائے کار کی مدد سے ان شاء اللہ چھ سات سال میں ملک کو ایٹم بم بنا دوں گا۔ بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے ایسا ہی بھروسہ اور اعتماد کرکے مجھے میزائل کا کام دے دیا اور ہم نے غوری میزائل بنا کر اور ٹیسٹ کرکے ہندوستان کے کس بل نکال دیے۔ بعد میں میری ٹیم نے اینٹی ٹینک میزائل، لیزر رینج فائنڈر، کندھے سے ہوا میں مار کرنے والے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور ملٹی بیرل راکٹ لانچر بنا کردیے اور اربوں روپے کی بچت کی۔ مجھے افسوس ہے کہ میری ٹیم اور مجھے مزید کام نہ کرنے دیا گیا ورنہ ہم اس ملک کے لئے بہت کچھ کر سکتے تھے۔ میں خاص طور پر تعلیم اور انڈسٹری میں بہت اعلیٰ کام سر انجام دے سکتا تھا مگر اس کے لئے بھٹو صاحب اور بینظیر صاحبہ جیسی شخصیات کا ہونا ضروری تھا۔ اور غلام اسحٰق صاحب اور آغا شاہی صاحب جیسے مددگار رہنما چاہئے تھے۔

دیکھئے ملک کی ترقی، حفاظت، سلامتی کے لئے اچھے حکمراں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکمرانوں کو جو چیز قائم رکھتی ہے وہ اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہے۔ اللہ کی یہ رضا اور خوشنودی احسان (عمل نیک) میں مضمر رہتی ہے اسکے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ عدل گُستَری اور انصاف پرستی ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہئے کہ رعایا اور عوام سے جب کبھی نیک سلوک کیا جائے گا اور ان پر ظلم و ستم، دھوکا دہی نہ کی جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ عوام حکمرانوں کے لئے اللہ سے دُعائے خیر مانگیں گے اور یہی دُعائیں مملکت کے استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ کفر کے باوجود ملک باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم وجور جس ملک میں راہ پا گیا وہ باقی نہیں رہ سکتا۔ دوبارہ تمام اہلِ پاکستان کو مُبارکباد اور دلی دعائیں دیتا ہوں۔ یہ ان کی دعائوں اور پُرخلوص مدد کی وجہ سے ہی ہمیں اللہ رب العزت نے اپنے اس قدر مشکل کام میں سرخرو کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں