285

ینٹاگون بالآخر جانی نقصانات کا اعتراف کرنے پر مجبور

ینٹاگون بالآخر جانی نقصانات کا اعتراف کرنے پر مجبور
عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کی عین الاسد چھاؤنی پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کامیاب جوابی حملے کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے بعد پینٹاگون نے اپنے جانی نقصانات کی پردہ پوشی کی مضحکہ دلیل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو اپنے جانی اور مالی نقصانات کا علم دیر سے ہوا ہے

دہشت گرد امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے ترجمان جناتھن ہوفمن نے اپنے ایک مضحکہ بیان میں کہا ہے کہ عراق میں امریکا کی عین الاسد فوجی چھاؤنی پر ایران کے میزائلی حملے کے نقصانات کے بارے میں پینٹاگون کو دیر سے علم ہوا اور اس کو ایک ہفتے کے بعد معلوم ہوا کہ اس حملے میں امریکی فوج کا جانی نقصان ہوا ہے – پینٹاگون کے ترجمان نے عراق میں امریکا کی دو فوجی چھاؤنیوں پر ایران کے میزائلی حملوں میں ہوئے جانی اور مالی نقصانات کی پردہ پوشی کی کوششوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ واشنگٹن میں امریکی فوجی کمانڈروں کو دیر سے معلوم ہوا کہ زخمی امریکی فوجیوں کو علاج کے لئے عراق سے باہر منتقل کیا گیا ہے – پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ وزیرجنگ مارک اسپر نے یہ اطلاعات دریافت کرنے کے بعد اس کا اعلان کردیا – سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضا کارفورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور دیگر ساتھیوں کو شہید کرنے کے امریکا کے دہشت گردانہ اقدام کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بدھ آٹھ جنوری کو عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کی عین الاسد اور اربیل فوجی چھاؤنیوں پر میزائلوں سے کامیاب حملہ کیا تھا اس حملے میں عین الاسدفوجی چھاؤنی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی تھی – سپاہ پاسداران کے اس حملے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے جبکہ عین الاسد فوجی چھاؤنی میں تعینات امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں جنگی طیاروں اور ایئرڈیفنس سسٹم کو بھی تباہ کردیا گیا تھا – خبروں میں کہا گیا تھا کہ ایران کا حملہ اتنا شدید تھا کہ زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کے لئے طبی وسائل کم پڑے گئے تھے اور انہیں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کویت جرمنی اور اردن منتقل کیا گیا – اس درمیان امریکی ٹی وی چینل سی این این نے عراق سے فوج واپس بلانے کے لئے امریکا پر پڑنے والے مسلسل دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا کو عراق سے ذلت آمیز طریقے سے نکلنا پڑے گا جہاں اس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی – سی این این نے مغربی ایشیا میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بارے میں ٹرمپ کے جھوٹے وعدوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق سے جبری طور پر امریکی فوج کا انخلا اس ملک میں امریکا کی طویل مدت موجودگی کا ذلت آمیز خاتمہ ہوگا ۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے اراکین اور عہدیداروں نے جن کے تہران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں عراق میں امریکا کی فوجی موجودگی کے خاتمے کے عمل کا آغاز کردیا ہے اور یہ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے امریکی اقدام کے خلاف عراقی پارلیمنٹ کا انتہائی سخت ردعمل ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں