صدی کی ڈیل 130

یمن دنیا کا بد ترین بحران .تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

یمن دنیا کا بد ترین بحران
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ یمن دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے سے ہی یمن کی اہمیت کا اندازہ آپ (ص) کے فرامین اور پیغامات کی روشنی سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے کہ جب اسلام کی آمد ہوئی تو یہا ں کے بادشاہ نے بغیر جنگ کے ہی اسلام قبول کر لیا اور اس طرح پورے یمن میں ہی اسلام کا بول بالا ہوا۔ یمن کے لوگوں نے ہمیشہ نبی کریم (ص) کا ساتھ دیا اور آپ (ص) اور آپ (ص) کے اہلبیت کرا م کے ساتھ خصوصی عشق اور محبت رکھتے تھے۔
حالیہ یمن کو اگر ہم مذہبی اور مسلکی تقسیم کے اعتبار سے ہی دیکھیں تو یہاں پر شافعی مسلک کے پیروکاروں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔ حوثی قبائل میں سادات اور غیر سادات کی تقسیم موجود ہے جن میں سادات کا تعلق زیدیہ سے ہے اور غیر سادات شافعی ہیں لیکن مجموعی طور پر دونوں کو حوثی کہا جاتا ہے۔یہ یہاں کے مقامی قبائل اور باشندے ہیں جو صدیوں سے اسی سرزمین پر رہتے اور حکومت بھی کرتے آئے ہیں۔
یمن کی موجودہ صورتحال کے مطابق شافعی مسلک کے پیروکاروں کے بعد اثنا عشری، اہل حدیث، مسیحی، کچھ ہندو اور دیگر آباد ہیں۔
یمن میں دنیا کا بد ترن بحران جاری ہے۔اس بحران کے بارے میں حیرت انگیز طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں اگر انسانی بحران کی بدترین جگہ کوئی ہے تو وہ یمن ہے۔اسی طر ح اقوام متحدہ کی خوراک کی ایجنسی کے اعلیٰ عہدیدار کاکہنا ہے کہ جدید دنیا میں ایک زمین کا ٹکڑا ایسا بھی پایا جاتا ہے کہ جہاں پر انسان آج درختوں کے پتے کھا کر زندگی بچانے پر مجبور ہیں اور اسی زمین کے ٹکڑے پر ایسا بھی ہو رہاہے کہ کچھ لوگوں کو زندگی بچانے کے لئے درخت کے پتے بھی میسر نہیں ہیں۔اس زمین کے ٹکڑے کے نام یمن ہے۔جی ہاں یمن۔
یمن کو اس بدترین بحران تک کس نے پہنچایا ہے؟ مغربی ذرائع ابلاغ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ حوثی جو یہاں کہ صدیوں سے مقامی شہری ہیں اور قبائل ہیں ان کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دے کر مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی نوکری پوری کر دی ہے۔دوسری طرف اگر زمینی حقائق کا مشاہدہ کریں تو علم ہوتا ہے کہ یمن کو اس بد ترین انسانی بحران کی کیفیت تک پہنچانے والے کوئی اور نہیں بلکہ مغربی ممالک ہیں اور ان میں سر فہرست امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل سمیت دیگر دوسرے اتحادی ممالک ہیں جو یمن کے خلاف ایک بے بنیاد جنگ کا حصہ ہیں۔یہاں پر سارے کا سارا قصور مغرب کا نہیں ہے مغر ب تو صرف اپنے معاشی مفاد کے لئے سمندری راستوں کے کنٹرول او ر بالخصوص باب المندب پر اپنے تسلط کی خاطر یمن کے بے گناہوں کا خون بہانے پر تلا ہوا ہے۔حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مغرب کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک میں سب سے اہم ترین برادر اسلامی ملک سعودی عرب اس جنگ کا مرکزی کردا ر ہے او ریمن کے بد ترین بحران کے پیدا کرنے میں سر فہرست ہے۔یعنی آپ اس طرح سے سمجھ لیجئے کہ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور مغربی ممالک سمیت عرب (خلیجی)ممالک کا اتحاد ہے جو صرف اور صرف ایک چھوٹے سے ملک یمن کے خلاف ہے۔
مغربی اور عربی اتحادنے گذشتہ سات سال سے زائد عرصہ میں یمن پر بھرپور اور خطر ناک بمباری کی ہے، جاسوسوں کی مدد سے لوگوں کا قتل عام کیا ہے، افریقی ممالک سے پیسوں کی لالچ میں کرایہ کے قاتل بلا کر یمن کے مظلوم انسانوں کو قتل کیا ہے۔یہ چاہتے ہیں کہ یمن پر ان کی من پسند حکومت جس کا سربراہ عبد لرب منصور ہادی ہو جسے یمن کے لوگ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔طاقت اور گھمنڈ کے نشہ میں چور عربی و غربی دنیا کے حکمران اب تک ہزاروں بے گناہ یمنی شہریوں کا قتل کر چکے ہیں۔انسانیت سوز مظالم کی بد ترین مثالیں جو کہ اسرائیلی اور بھارتی مظالم سے بھی بد تر ہیں اس سرزمین پر غربی و عربی اتحاد انجام دے چکا ہے۔ سعودی عرب نے یمن کی اس جنگ کو فتح کرنے کے لئے اکتالیس ملکی اتحاد بنایا ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل کے ساتھ برطانیہ اور سولہ دیگر یورپی ممالک کا اتحاد اس جنگ میں براہ راست شریک ہے۔
یمن کے عوام کا گناہ اور سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ اس سرزمین کے باشندے ہیں۔انہوں نے اسی سرزمین پر جنم لیا ہے اور اسی سرزمین کی خاطر اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔ان کایہ بھی گناہ ہے کہ انہوں نے سعودی عرب اور امریکہ کے حمات یافتہ افرا د کو اپنا سربراہ مملکت ماننے سے انکار کیا ہے۔یمن والوں کا سب سے بڑا گنا ہ یہ ہے کہ یمن میں انہوں نے فلسطین کا پرچم بلند کر کے فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف آواز بلند کی ہے۔اس گناہ کے بدلے میں یمن کے باسیوں کو مغربی ذرائع ابلاغ اور اس کے زیر اثر چلنے والا دنیا کا ذرائع ابلاغ مقامی باشندوں کو باغی قرار دے کر حقائق کا رخ موڑنے میں مصروف عمل ہے۔یمن میں روزانہ امریکی و سعودی بمباری میں قتل ہونے والوں کے لئے کسی مسلم ملک سے مذمت کی آواز بلند نہیں ہوتی لیکن یمن کے لوگ اگر اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دشمن کے خلاف کسی قسم کی کاروائی انجام دیں تو مغربی دنیا سے پہلے چند مسلم ممالک سے ان کے خلاف مذمتی بیانات شروع ہو جاتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ مذمت کرنے والے یہ حکمران امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے حکمرانوں کی چوس کر پھینکی گئی ہڈیوں کو اپنے نام کرنے کی دوڑ میں پہلے پہل مذمتی بیانات داغ دیتے ہیں کہ شاید یہ ہڈیاں ان کے نصیب میں آجائیں۔
بطور ایک انسان کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے بچے اور اولادیں برانڈڈ ریسٹورنٹس پر قسم قسم کے کھانوں او ر لذتو ں سے لطف اندوز ہوں لیکن یمن میں بسنے والوں کے بچے اور اولادیں درخت کے پتے کھانے پر مجبور ہوں اور حد تو یہ ہے کہ بعض مقامات پر ا ن ک یہ درختوں کے پتے بھی میسر نہ ہوں! کیا ہم سب اور یمن کے مسلمان واقعی اسی نبی کریم (ص) کی ایک امت ہیں کہ جس کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں جسم کے ایک حصہ میں تکلیف محسوس ہوتی ہے تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ کیا آج ہمیں واقعی اپنے یمن کے ان عزیزی بھائیوں کا درد محسوس ہو رہاہے؟ اس یمن کے عزیز بھائیوں کا در د کہ جن کا سربراہ عبد الملک حوثی کہتا ہے کہ اگر ہمارے پاس کھانے کو ایک روٹی میسر ہو تو ہم آدھی روٹی اپنے فلسطینی مظلوم بھائیوں کے ساتھ بانٹ لیں گے۔
ہم اپنا موازنہ کریں تو کیا ہم اس مقام پر ہیں کہ اپنی پرتعیش زندگی میں سے آدھی نہیں بلکہ کچھ مقداردنیا کی ان مظلوم اقوام کے نام کریں جو فلسطین میں صہیونی مظالم کا شکار ہیں، کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور یمن میں امریکی و سعودی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ہمیں اپنا موازنہ کرنا چاہئیے تا کہ ہم یہ جان سکیں کہ ہماراشمار کس طبقہ میں ہے؟ کیا ہم مظلوم کے حامی و مدد گاروں میں ہیں یا ظالم اور جابر قوتوں کے خاموش پشت پناہ ہیں؟ کیونکہ دنیا میں دو ہی راستے ہیں یعنی حق اور باطل کا راستہ اور درمیا ن کاکوئی راستہ موجود نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں