103

یاسین ملک کوجھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنادی

یاسین ملک کوجھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنادی
انڈین دارالحکومت نئی دلیّ کی تہاڑ جیل میں کئی برسوں سے قید کشمیری علیحدگی پسند رہنما محمد یاسین ملک کو ایک خصوصی عدالت نے دہشتگردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے یاسین ملک کو دو مرتبہ عمر قید کے ساتھ دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
اس سے قبل محمد یاسین ملک کو بدھ کی صبح جب دلی کی پٹیالہ کورٹ میں پیش کیا گیا تو استغاثہ نے سزائے موت کے حق میں دلائل پیش کیے، جس کے بعد جج نے سماعت سہ پہر تک ملتوی کر دی تھی۔
یاسین ملک کو انڈین عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے تناظر میں سرینگر میں سکیورٹی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
’انصاف کا قتل‘
یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ انڈیا کی عدالت کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔
ان کی جانب سے جاری بیان میں سزا کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ ناقابل قبول ہے اور ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یکطرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں جو جھوٹ پر مبنی ہے۔‘
مشعال ملک نے الزام عائد کیا کہ ’انڈین حکام نے کشمیر کی سب سے طاقتور اور پر امن آواز کو خاموش کرنے کے لیے عدالت پر اثر و رسوخ استعمال کیا۔‘
مشعال ملک نے دعوی کیا کہ ’انڈیا کی حکومت کی قید میں یاسین ملک کی جان کو خطرہ لاحق ہے کیوں کہ درجنوں کشمیری رہنماوں کو پہلے بھی تشدد سے ہلاک کیا جا چکا ہے یا پھر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔‘
اس دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کے باعث تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں تاہم سڑکوں پر ٹرانسپورٹ چل رہی ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں یاسین ملک کے گھر کے باہر بھی مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں شامل خواتین نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔
دلی کی پٹیالہ کورٹ میں سماعت پہلے 12 بجے ہوئی، لیکن مختصر بحث کے بعد جج نے 3:30 بجے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا، بعد میں سماعت مزید آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی ہوگئی۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یاسین ملک نے عدالت میں کہا کہ ’میں عسکریت کو ترک کرنے کے بعد گاندھی کے اصولوں پر گامزن ہوں جو عدم تشدد پر مبنی ہیں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’میں عدالت سے بھیک نہیں مانگوں گا، جیسا مناسب لگے سزا دیں لیکن میرے سوالوں کا جواب دیں۔‘
اطلاعات کے مطابق یاسین ملک کو سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
’یاسین صاحب نے دہشت گردی کی کسی کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا‘
نئی دلی کی تہاڑ جیل میں کئی برسوں سے قید کشمیری علیحدگی پسند رہنما محمد یاسین ملک کو 19 مئی کو انڈیا کی ایک خصوصی عدالت نے بغاوت، وطن دُشمنی اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیا تھا۔
عدالت نے استغاثہ سے کہا تھا کہ وہ یاسین ملک کی جائیداد اور مالی اثاثوں کا تخمینہ لگائے تاکہ سزا کے ساتھ ساتھ جُرمانے کی رقم بھی طے کی جائے جبکہ عدالت نے یاسین ملک سے اُن کی جائیداد اور اثاثوں سے متعلق بیانِ حلفی بھی طلب کیا ہے۔
واضح رہے گزشتہ برس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہونے والی ایک سماعت کے دوران یاسین ملک نے کسی بھی وکیل کی مدد لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہوں پر خود ہی جرح کریں گے۔
یاسین ملک پر یہ الزامات انڈیا کے نئے دہشت گردی مخالف قانون ‘اَن لافُل ایکٹوِٹیز ایکٹ’ یعنی یوے اے پی اے اور انڈین پینل کوڈ کے تحت عائد کیے گئے ہیں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن الزامات میں فرد جُرم عائد کی گئی ہے اُن میں زیادہ سے زیادہ یاسین ملک کو عُمر قید ہو سکتی ہے۔
10 مئی کی سماعت کے دوران اُنہیں 2017 میں دہشت گرد کاروائیوں، دہشت گردی کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے، دہشت گردانہ حملوں کی سازش ، مجرمانہ سازش اور ملک دُشمن خیالات کے اظہار جیسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا جس کے بعد انھوں نے بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انھوں نے ’اقبال جُرم’ کر لیا۔
تاہم اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا تھا کہ ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔‘
58 سالہ یاسین ملک پر 1989 میں اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کے اغوا کرنے اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے، تاہم تازہ فرد جرم میں ان الزامات کا ذکر نہیں ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے یاسین ملک پر لگے الزامات کو فرضی قرار دے کر بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی اس حوالے سے مظاہرے ہوئے ہیں۔
10 مئی کی سماعت میں یاسین ملک کے علاوہ جن دیگر محبوس علیحدگی پسندوں کے خلاف فردجرم عائد کی گئی تھی اُن میں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، الطاف شاہ، آفتاب شاہ، نول کشور کپور اور فاروق احمد ڈار عرف بِٹہ کراٹے سمیت گیارہ افراد شامل ہیں۔
عدالت نے پاکستان میں مقیم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین، جو کشمیر میں سرگرم عسکری گروپوں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل‘ اور کالعدم عسکری گروپ حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں، کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہے۔
حافظ سعید پر انڈین حکومت کا الزام ہے کہ وہ عسکری گروپ لشکر طیبہ کے نظریہ ساز ہیں اور انھوں نے 2008 میں ممبئی کے تاج ہوٹل اور دیگر عمارتوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ سازی کی تھی۔’
یاسین ملک کون ہیں؟
یاسین ملک کم سنی میں ہی علیحدگی پسند صفوں میں شامل ہو گئے تھے اور 1980 کے دوران ‘اسلامِک سٹوڈنٹس لیگ’ کے جنرل سیکریٹری بنے تھے۔ 1986 میں سرینگر میں انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے عالمی ایک روزہ کرکٹ مقابلے کے دوران انڈیا مخالف نعرے بازی، پتھراوٴ اور میچ کے وقفے میں پِچ کھودنے کے الزام میں یاسین ملک کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیے گئے تھے۔
1987 میں وہ علیحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد ‘مسلم متحدہ محاذ’ کے قریب ہوگئے اور مقامی اسمبلی کے انتخابات میں انھوں نے جماعت اسلامی کے رہنما اور محاذ کے اُمیدوار محمد یوسف شاہ کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی تھی۔
1988 میں یاسین ملک غیر قانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے تھے جہاں انھوں نے مبینہ طور پر مسلح تربیت حاصل کی اور واپسی پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نامی عسکری تنظیم کے مرکزی رہنما بن گئے۔ ایک برس بعد 1989 میں یاسین ملک کی قیادت میں ہی لبریشن فرنٹ نے جیل سے اپنے ساتھیوں کو رہا کروانے کے لیے اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ مفتی محمد سید کی بیٹی روبیہ سید کا اغوا کیا تھا اور کئی روز کے مذاکرات کے بعد جب تنظیم کے کئی مسلح لیڈروں کو رہا کیا گیا تو روبیہ سید کو بھی رہا کر دیا گیا تھا۔
1990 میں لبریشن فرنٹ کے مسلح عسکریت پسندوں نے انڈین فضائیہ کے چار افسروں پر اُس وقت فائرنگ کی جب وہ بازار سے سبزی خریدنے میں مصروف تھے۔ حکومت نے اس حملے کے لیے بھی یاسین ملک کو براہ راست ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
کئی برس تک مسلح سرگرمیاں جاری رکھنے کے بعد 1994 میں یاسین ملک نے بھارتی فورسز کے خلاف یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کر کے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو ایک سیاسی تنظیم قرار دے دیا اور عہد کیا کہ وہ مسلہ کشمیر حل کرنے کے لیے عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن رہیں گے۔ اسی سال علیحدگی پسندوں کا اتحاد حریت کانفرنس بھی وجود میں آیا اور یاسین ملک بھی اس کے مرکزی رہنماوٴں میں شامل ہوگئے۔
گذشتہ عشرے کے وسط میں یاسین ملک نے وادی بھر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حق میں ایک دستخطی مہم چلائی جس کا نام ‘سفرِ آزادی’ تھا۔ اس مہم کی عکس بندی اور کشمیر کے بارے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کشمیریوں کو کلیدی کردار دینے کا مطالبہ لے کر وہ 2006 میں اس وقت کے انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی ملے تھے۔
جب پاکستان نے گِلگِت بلتستان کو پاکستانی وفاق میں ضم کیا تو انھوں نے اُس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو خط لکھ کر اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔
’یاسین ملک کا اعتراف پر امن تحریک کے حوالے سے ہے‘
یاسین ملک پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد ان کی اہلیہ مشعال ملک نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 22 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیے جانے کے بعد یاسین ملک کا خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے کافی مہینوں بعد ان کی زندگی اور صحت سے متعلق اطلاع اپنی ساس کے ذریعے ملتی ہے۔ گرفتاری کے بعد سے میرا ان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ انٹر نیٹ پر وائرل ہونے والے تصاویر میں دیکھا کہ ان کے سر کے بال بھی غائب ہوگئے ہیں اور ان کی صحت کتنی خراب ہو چکی ہے۔ ‘
پاکستان میں مقیم یسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ یسین ملک انڈین نظام انصاف پر یقین ہی نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے لیے وکیل رکھنے سے انکار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’یسین ملک کو کبھی بھی شفاف مقدمے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ اوّل تو ان کا موقف ہی نہیں لیا جاتا تھا یا انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تھا، اگر کبھی آن لائن پیشی کے دوران وہ بات کرتے تو ان کا مائیک بند کر لیا جاتا۔ یہ فرد جرم یکرفہ طور پر عائد کی گئی ہے۔ ہمیں تو ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان پر تشدد بھیں کیا گیا ہے۔‘
مشعال ملک کا کہنا تھا ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جد و جہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔‘
مشعال ملک کا کہنا تھا ’یاسین ملک نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ پر امن کردار ادا کیا ہے۔ ‘
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا میں ابھی سے عمر قید کی افواہیں پھیلائی جا رہیں ہیں تاکہ پہلے سے رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ چونکہ یاسین ملک انڈیا کے نظام انصاف پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ تاہم وہ آئندہ کے لائمہ عمل کے بارے مںی آئندہ بدھ کی سماعت کے بارے میں ہی بتا سکیں گی۔
مشعال ملک کا مطالبہ تھا کہ یاسین ملک کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے اور خاندان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا اعترافی بیان نا قابلِ یقین ہے۔
’سارے جرائم کو قبول کرنے کی خبریں صرف جھوٹا پراپیگینڈا ہے۔ جب تک یاسین صاحب کو فئیر ٹرائل کو موقع نہیں دیا جائے گا تب یکطرفہ فیصلہ دیا دیا جا سکتا۔ کیونکہ انھوں نے صرف ایک اعتراف کیا ہے اور وہ آزدی کی تحریک چلانے کا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں