55

ہیلی کاپٹر حادثہ زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر منفی مہم سے شہداء کے اہل خانہ کی دل آزاری ہوئی

ہیلی کاپٹر حادثہ زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر منفی مہم سے شہداء کے اہل خانہ کی دل آزاری ہوئی
کراچی،راولپنڈی(خبر ایجنسیاں) ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد زہریلا پروپیگنڈا، فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر منفی مہم سے شہداء کے اہلخانہ کی دل آزاری ہوئی اور افواج میں شدید غم و غصہ ہے،سانحہ کے تکلیف دہ وقت میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی، توہین آمیز مہم، بے حس رویہ شدید قابل مذمت ہے ، دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی شہداء کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے تاہم پروپیگنڈے کے بعد ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے اداروں نے انہیں روک دیا اور کہاکہ بہتر ہو گا شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو،دوسری جانب آرمی چیف نے کہاہےکہ جنگ کی نوعیت اور کردار وقت کے ساتھ بدل رہا ہے،ادھر اماراتی صدر اور سعودی چیف آف جنرل اسٹاف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کرکے ہیلی کاپٹرحادثے پر تعزیت کا اظہار کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ترجمان نے کہا ہے کہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر منفی مہم چلائی گئی، شہدا کی فیملیز اور افواج پاکستان کے رینک اینڈ فائل میں شدید غم وغصہ اور اضطراب ہے،ہیلی کریش کے بعد سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، منفی سوشل میڈیا مہم کے باعث شہدا ءاور ان کے لواحقین کی دل آزاری ہوئی، اس مشکل اور تکلیف دہ وقت میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی لیکن کچھ بے حس حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تکلیف دہ او ر توہین آمیز مہم جوئی کی گئی، یہ بے حس رویے ناقابل قبول اور شدید قابل مذمت ہیں۔دوسری جانب ذرائع کاکہناہےکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے جنازوں میں شرکت کرنا چاہتے تھے تاہم پاکستان تحریک انصاف ٹرولرز کے شہدا سے متعلق زہریلے، جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کے باعث شرکت نہ کرسکے،صدر مملکت نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ بطور سپریم کمانڈر اور سربراہ مملکت وہ شہید فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کیلئے جانا چاہتے ہیں مگر اداروں کی جانب سے صدر مملکت کو آگاہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی ٹرولرز کی جانب سے شہدا سے متعلق کیے گئے زہریلے، جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کے باعث شدید غم اور غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔صدر مملکت کو فیڈ بیک دیا گیا کہ بہتر ہو گا وہ شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔ادھرجیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئےپاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ یکم اگست کو لسبیلہ کےقریب موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور یکم اگست کے بعد سے ہم سب کرب سےگزر رہے تھے، اس بیان کی وجہ یہ ہے اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر غلط اور لغو پروپیگنڈا ہوا، یہ پروپیگنڈا اور اس طرح کی قیاس آرائیاں کرنا بہت ہی حساس تھا، اس پروپیگنڈے سے ادارے اور شہدا کے لواحقین کو دکھ اور تکلیف ہوئی، پوری قوم شہداکے ساتھ کھڑی ہے، قوم کاجتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، سوشل میڈیاپرمنفی پروپیگنڈا شروع ہوجاتا ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے، ایسے عناصر کو مستردکرنے کی ضرورت ہے،سوشل میڈیا پر اس طرح کی باتیں منفی تاثر کے زمرے میں آتی ہیں، یہ رویہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں، اس کی ہر فورم پر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عالمی دہشتگرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ ایمن الظواہری واقعے پروزارت خارجہ نےبہت واضح بیان جاری کردیاہے جس کے بعد سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو۔انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں اور اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا جو دل کرتا ہے وہ سوشل میڈیا پر لکھ دیتا ہے، بےجاقسم کا بیان دیا جاتا ہے جس کے کوئی ثبوت نہیں ہوتے اور اس کا نقصان صرف اور صرف ملک اور قوم کا ہوتا ہے۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ وزارت خارجہ کی وضاحت کے بعد بار بار کسی بیان کی تُک نہیں بنتی۔ انہوں نےعالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے حوالے سے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی وضاحت کے بعدکسی بیان کا تُک نہیں بنتا، ایمن الظواہری پر حملے کے حوالے سے سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کیا ہے۔اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے آرمی چیف سےہیلی کاپٹرحادثے پر تعزیت کا اظہار کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان نے ہیلی کاپٹر حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف نے بھی ٹیلیفون کیا اور ہیلی کاپٹر حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں