mazhar-barlas 21

ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے. مظہر برلاس

55 / 100

92برس گزار کر ستمبر میں پیدا ہونے والا اِسی مہینے کو ’’ستم گر‘‘ بنا کر چلا گیا۔ سید علی گیلانی نے پوری زندگی رسمِ شبیری ادا کی، شاید اسی لئے ان کی وفات بھی محرم میں ہوئی، دِلوں کو گرما دینے والے سید علی گیلانی کہا کرتے تھے… ’’میرا نام علی ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں، میں کشمیر میں پاکستان کا پرچم ہوں، ہاں وہی کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے…‘‘۔ علی گیلانی کو پی ٹی آئی حکومت نے نشانِ امتیاز سے نوازا۔ سید علی گیلانی 50برس وادیٔ کشمیر کی سیاست پر چھائے رہے، وہ خطابت کے جوہر دکھاتے، ان کی شعلہ بیانی روحوں کو تڑپاتی، یوں علی گیلانی پوری وادی کو پُرجوش بنا دیتے، اُنہیں یہ کمال حاصل تھا کہ وہ جب نعرہ بلند کرتے تو ہزاروں، لاکھوں انسان نہ صرف جھومتے بلکہ ایک آواز بن کر پوری وادی میں گونجتے، وہ کہتے … ’’اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے، اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘۔

یہی نعرہ سید علی گیلانی کو مقبول ترین لیڈر کے طور پر پیش کرتا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری وادیٔ کشمیر کے نوجوانوں کے سینوں میں پاکستان کی محبت بھرنے میں سید علی گیلانی کا بڑا کردار ہے۔ کشمیری، پاکستانیوں کے ساتھ چودہ اگست کا جشن مناتے ہیں، یہی کشمیری 15اگست کو بھارتی یوم آزادی ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ 14اگست سے بھی کشمیریوں کی عجیب محبت ہے، کشمیر کے لوگوں نے پہلی مرتبہ کشمیر ڈے 14اگست 1931کو منایا تھا۔ برصغیر میں سب سے پرانی آزادی کی تحریک، دراصل تحریک آزادی کشمیر ہے، کشمیر سے بےپناہ محبت رکھنے والے علامہ اقبالؒ نے دورۂ کشمیر کے موقع پر آزادی کے نعرے اُس وقت سنے تھے جب پاکستان کے لئے آزادی کی تحریک نہیں چلی تھی۔ اقبالؒ کی کشمیر سے محبت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے آبائو اجداد ضلع کولگام کے ایک گائوں ساپر سے ضلع سیالکوٹ آئے تھے۔ پہلے پہل وہ قصبہ جیٹھی کے میں آئے پھر سیالکوٹ شہر منتقل ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ کے مداح سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے قصبے سوپور کے نزدیک جھیل کنارے واقع ایک گائوں ڈورو میں 29ستمبر 1929کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کرنے والے سید علی گیلانی نے اعلیٰ تعلیم اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہورسے حاصل کی۔ سید علی گیلانی کو شعر و شاعری اور خطابت سے شغف تھا، اقبالؒ سے محبت کے باعث سید علی گیلانی نے ڈاکٹر اقبالؒ کی فارسی شاعر کے تراجم پر مشتمل تین کتابیں شائع کیں، ایک درجن کے لگ بھگ کتابیں لکھنے والے عظیم حریت رہنما نے اپنی سوانح عمری بھی لکھی۔ ایامِ اسیری کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’رودادِ قفس‘‘ بھی لکھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے واپس کشمیر جا کر انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرلی، سید علی گیلانی نے 1972، 1977اور پھر 1987کا الیکشن جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر جیتا۔ 1987کا الیکشن پاکستان نواز تنظیموں کے اتحاد مسلم متحدہ محاذ کے تحت لڑا، بدترین دھاندلی کے ذریعے فاروق عبداللہ نے یہ الیکشن چرایا۔ اس الیکشن نے آزادیٔ کشمیر کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ جس دن مسلم متحدہ محاذ کے کارکن اسمبلی عبدالرزاق بچرو کو ہلاک کیا گیا، علی گیلانی سمیت محاذ کے چاروں ارکان مستعفی ہو گئے، حالات خراب ہوئے تو فاروق عبداللہ، اشرف غنی کی طرح بھاگ گیا، بھارتی حکومت کو کشمیر میں گورنر راج لگانا پڑا۔ اس کے بعد گیلانی نے مسلح تحریک کی کھل کر حمایت کی، انہوں نے یہ حمایت آخری سانس تک جاری رکھی، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ کے طور پر سید علی گیلانی نے آزادیٔ کشمیر کے لئے سخت گیر موقف اپنائے رکھا، انہیں بھارت سرکار نے لالچ، دھونس، اقتدار، دھمکی اور جبر کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی مگر بھارت کی یہ کوششیں ناکام رہیں، سید علی گیلانی راہِ حق کے مسافر تھے، قافلۂ حسینؑ کے نقش قدم پر چلتے انہیں کربلا والوں کی طرح موت کے بعد بھی دشمن کے جبر کا سامنا رہا، جس رات ان کا انتقال ہوا، اسی رات کے آخری پہر میں جبر کے اندھیروں میں زبردستی علی گیلانی کی تدفین کردی گئی، انہیں مبینہ طور پر حیدر پورہ کے قبرستان میں دفن کیا گیا مگر عبداللہ گیلانی کے بقول… ’’ پتہ نہیں کہاں تدفین کی گئی ہے…‘‘سید علی گیلانی وفات کے بعد دشمنوں کے لئے خوف کی علامت بنے رہے، بھارتی فوج نے نظر بند علی گیلانی کی شہادت کے بعد حیدر پورہ کے راستوں میں خار دار تاریں بچھائیں، کرفیو لگا دیا۔ دریائے جہلم کے دونوں طرف سری نگر کی آبادیوں میں قابض بھارتی فوج کا گشت بڑھا دیا گیا، سری نگر کا پرانا شہر جسے دو ہزار سال قبل اشوکا نے آباد کیا تھا، وہاں گلیوں میں دکھ پھرتا رہا، سری نگر کے نئے شہر میں بھی فضا سوگوار رہی، سید علی گیلانی نے وصیت کی تھی کہ انہیں شہداء کے قبرستان میں دفن کیا جائے مگر ظالم بھارتی فوج نے جسدِ خاکی چھین کر کسی اور گورستان میں تدفین کردی، جنازے میں صرف گھر کے افراد یا چند ہمسایوں کو شریک ہونے دیا۔ اس تمام تر جبر پر دنیا بھر کے حریت رہنمائوں سمیت تمام زندہ ضمیر انسان دکھی ہیں، آج صرف پہل گام، ڈاچی گام، بڈگام یا کولگام ہی سوگوار نہیں پورے جنوبی ایشیا کے شہروں میں سوگ ہے آج کپواڑہ، پلوامہ یا کاندر بل ہی دُکھی نہیں مظفر آباد، پونچھ، اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام شہروں میں بھی سوگ ہے، پاکستانی پرچم سرنگوں ہے، آزاد کشمیر میں تین روزہ سوگ ہے، سری نگر کے لال چوک سمیت نشاط باغ اداس ہے، مقبوضہ اسلام آباد (اننت ناگ) بھی سو گ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اننت ناگ کا نام مغلیہ دور میں اسلام آباد رکھا گیا تھا مگر ہندوئوں نے اس کا نام بدل دیا۔ تمام تر جبر کے باوجود بھارتی فوج کشمیریوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکی کہ وہ اب بھی اپنے شہید نوجوانوں کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتے ہیں، جبر اور ظلم کشمیریوں کی پاکستان سے محبت ختم کر نہیں کر سکا، ان نعروں کو ختم نہیں کیا جا سکا کہ:

ہم پاکستان ہیں

پاکستان ہمارا ہے

آخر میں کشمیر کے لئے اقبالؒ کا شعر پیشِ خدمت ہے کہ

توڑ اس دستِ جفا کیش کو یارب جس نے

روحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں