mazhar-barlas 80

ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر…

ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر…
مظہر برلاس
پیارے سیلاب زدگان ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر ان حکمرانوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جنہوں نے نصف صدی کا عرصہ اقتدار کی ہوس میں گزار دیا ، جنہوں نے ایک لمحے کیلئے بھی یہ نہ سوچا کہ ڈیمزاس ملک کیلئے کتنے ضروری ہیں، ہمارے حکمراں ہماری سیاسی جماعتیں کالا باغ ڈیم پر لڑتی رہیں، اس دوران دو آمر بھی اقتدار میں آئے لیکن ان کے دور میں بھی کوئی ڈیم نہ بن سکا۔ برس ہا برس گزرتے رہے اور پاکستانی حکمرانوں کو یہ خیال تک نہ آیا کہ ڈیمز ملک کیلئے کس قدر ضروری ہیں ۔ اس دوران بھارت ڈیمز تعمیر کرتا رہا بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت جن دریائوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا، ان پر بھی بھارت نے ڈیمز تعمیر کر لئے، ہمارے واٹر کمشنر جماعت علی شاہ مگرخاموش رہے اور پھر اس کے بعد مہر علی شاہ بھی خاموش رہے۔ان کی منافقانہ خاموشی کے باعث چناب پر رَتل ڈیم کے علاوہ بگلیہار ڈیم بن گیا، ان کی خاموشی کے باعث دریائے جہلم پر کشن گنگا ڈیم بن گیا، بھارت مقبوضہ علاقوں سے گز رنے والے دریائوں سندھ، چناب اور جہلم پر پندرہ سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے جب کہ مزید پچاس ساٹھ ڈیم بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے ۔آپ کے علم میں لاتا چلوں کہ بھارت رتلے، مہار، لوئر کلنائی، پاکال دل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور وولر بیراج نیوی گیشن پروجیکٹ پر کام کا آغاز کر رہا ہے ۔ دیگر بھارتی منصوبوں میں نیمو شلنگ، کارگل ہنڈر، منگرم سنگر اور اسنوک شامل ہیں۔ بھارت میں اس وقت پانچ ہزار سے زیادہ ڈیم ہیں اور ہمارے پاس چھوٹے بڑے ڈیمز ملا کرمجموعی طور پر 185 اور چین میں چھوٹے بڑے 84 ہزار ڈیمز ہیں اور ان میں سے پانچ ہزار بڑے ڈیم ہیں۔ ایشیا کا واٹر بینک چوں کہ تبت ہے چناں چہ اس علاقے میں چین دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنانے جارہا ہے، اس سے پہلے پانی ذخیرہ کرنے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا تربیلا ڈیم پاکستان میں ہے۔ چین تبت کے علاقے میں جو سپرڈیم بنانے جا رہا ہے، اس پر بھارت رو رہا ہے کیونکہ یہ ڈیم بھارتی سرحد سے صرف تیس کلو میٹر دور دریائے یرلانگ ژزانگبو پر تعمیر ہوگا ،چین کا یہ منصوبہ یقیناً مثالی نوعیت کا ہوگا۔ اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تھری گورجز ڈیم سے تین گنا زیادہ ہو گی ۔واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت چین ہی کے گورجز ڈیم کی ہے، چین جس دریا پر سپر ڈیم بنانے جا رہا ہے، اسے ہارلنگ سانگپو کے علاوہ بھارت میں براہمہ پترا بھی کہتے ہیں ۔بھارتی آبی وسائل کی وزارت کی ترجمان کا اس سلسلے میں کہنا ہے ، ’’ ہم بھی براہمہ پترا پر بڑا ڈیم بنائیں گے۔‘‘ امریکہ اور جاپان میں بھی بڑے ڈیمز ہیںبلکہ دنیا کے پانچ بڑے ڈیموں میں سے دو امریکہ میں ہیں بھارت نے جہاں پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں پر ڈیم بنائے وہاں اس نے ان دریائوں کا پانی بھی روک لیا جن کا قدرتی علاقہ زیادہ تر پاکستان میں تھا۔ دریائے راوی پر اس نے مادھو پور ڈیم بنا لیا،اب وہ شاہ پور کندی ڈیم بھی بنا رہا ہے، اسی طرح ستلج اور بیاس کو اکٹھا کر کے اس پر ایک بڑا بھاکڑہ ننگل ڈیم تعمیر کیا۔ یہ دریا اب ہمارے لئے صرف برساتی نالے ہیں، پاکستان میں برساتی پانی کو جمع کرنے والا سب سے بڑا ڈیم میرانی ڈیم ہے ۔

پاکستان میں برسوں بعد عمران خان کی صورت میں ایک ایسا حکمراںاقتدار میں آیا جس نے جنگلات اور ڈیمز کی کمی کو محسوس کیا، اس نے ان دونوں شعبوں میں بھرپور کام کیا ۔ اس نے ملک میں دس نئے ڈیموں پر کام شروع کروایا اس نے دیامر، بھاشا ڈیم پر صرف تختی نہیں لگائی بلکہ کام شروع کروایا۔ یہ ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہو گا جس سے 4800میگاواٹ سستی بجلی حاصل ہو گی، اس میں 81لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ ہو سکے گا ۔ اس کی تعمیر 2028ء میں مکمل ہو گی۔ مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد عمران خان نے 2019ء میں رکھا یہ ڈیم 2024ء میں مکمل ہو جائے گا ۔ دریائے سوات پر بننے والے اس ڈیم سے 800میگاواٹ سستی بجلی حاصل ہو گی، اس ڈیم سے صوبہ خیبر پختونخوا کی سولہ ہزار ایکڑ اراضی بھی سیراب ہو گی ،داسو ڈیم پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے ۔

اس کا پہلا مرحلہ 2025ءمیں مکمل ہو گا، اس منصوبے سے 4320میگاواٹ سستی بجلی حاصل ہو گی۔ کوہالہ ڈیم 2024ءمیں مکمل ہو گا اس سے 1024میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہو گی۔ مہل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے 1000میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ سوکھی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ 2024ء میں مکمل ہو گا، اس سے 884میگاواٹ سستی بجلی حاصل ہو گی۔ میہج ڈیم سے 120میگاواٹ بجلی آئے گی۔ کیروڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ رواں سال مکمل ہو جائیگا اس سے 720میگاواٹ بجلی میسر آئیگی۔ بالا کوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے بن رہا ہے اس سے 320میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ کوٹو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بھی خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے مکمل ہو چکا ہے جس سے 40میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔کراچی میں عمران خان نے دو ایٹمی بجلی گھر وں پر کام شروع کیا ہے ۔ ایک مکمل ہو چکا ہے جب کہ دوسرا 2023ء میں ہو گا، اس سے 1000 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی، ان تمام منصوبوں پر پاک فوج کے جوان سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ یہ بڑے منصوبے عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں شروع کئے ۔اب ذرا باقی حکمرانوں پر بھی نگاہ ڈالئے ۔آپ کو پتہ چلے گا کہ انہوں نے پچاس برسوں میں ڈیموں کا سوچا ہی نہیں۔اگر یہ ڈیم بنے ہوتے تو نہ آج سیلاب سے بربادیاں ہوتیں اور نہ لوگ بجلی کو ترس رہے ہوتے ،اب آفت آ گئی ہے تو ہم سب متاثرینِ سیلاب کے ساتھ کھڑے ہیں کہ بقول اسلم گورداسپوری

مثل خار وخس تمہاری بہہ گئی ہیں بستیاں
بے گھرو اور بے سہارو، ہم تمہارے ساتھ ہیں

ہر طرف سے تم پہ ہے سیلاب کی لشکر کشی
مادر گیتی کے دھارو، ہم تمہارے ساتھ ہیں

زندگی کی ہر بلا کا سامنا تم نے کیا
جرأتوں کے کوہسارو، ہم تمہارے ساتھ ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں